اکتوبر 30, 2026

پی ٹی آئی نے "عمران خان ریلیز فورس” کا منصوبہ ترک کر دیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اندرونی اعتراضات اور قانونی خدشات کے باعث "عمران خان ریلیز فورس” بنانے کی مجوزہ منصوبہ بندی ترک کر دی ہے، جسے پارٹی کے سخت گیر عناصر کے لیے ایک بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔

رمضان سے قبل خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس فورس کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنا تھا۔ منصوبے میں رضاکاروں سے حلف لینے اور باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد ایک منظم مہم چلانے کی تجویز شامل تھی، تاہم اس پر جلد ہی پارٹی کے اندر سے مزاحمت سامنے آ گئی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان نے اس خیال کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی کسی فورس کی تشکیل عسکریت پسندی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ بعد ازاں پارٹی قیادت نے مشاورت کے بعد اس منصوبے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

نئی حکمت عملی کے تحت اس اقدام کو ایک وسیع اور جامع سیاسی تحریک میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جو تمام حامیوں کے لیے کھلی ہو گی اور اس میں کسی قسم کی حلف برداری یا فورس جیسی ساخت شامل نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق اب تحریک کو پُرامن، تدریجی اور جمہوری انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ احتجاج یا مارچ کے فیصلے خیبر پختونخوا حکومت کے بجائے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کریں گے۔ پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی تحریک کو مکمل طور پر پُرامن اور آئینی حدود کے اندر رکھا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان بھی مشاورت کی گئی ہے تاکہ ایک متحد اور محتاط حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ پارٹی رہنماؤں نے ماضی کے پرتشدد واقعات، خصوصاً 9 مئی اور 2024 کے اسلام آباد احتجاج جیسے حالات سے سبق سیکھنے پر زور دیا ہے۔