اکتوبر 29, 2026

آبنائے ہرمز بحران: عالمی تیل مارکیٹ میں بھونچال، قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ

آبنائے ہرمز میں جاری بحران نے عالمی تیل مارکیٹ میں شدید بھونچال پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاریخ کے اس بڑے تیل سپلائی بحران کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، معاشی ترقی کی رفتار میں کمی اور ایشیائی ممالک میں فیول کی قلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ بلوم برگ کے مطابق دنیا نے ابھی تک اس بحران کی شدت کو پوری طرح محسوس نہیں کیا، جبکہ امریکی حکام اور وال اسٹریٹ کے ماہرین اب اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔

ماہرین نے اس صورتحال کو 1970 کی دہائی کے تیل بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی سطح پر بڑے معاشی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ایشیا میں فیول کی قلت مغرب کی جانب پھیلنے کا خدشہ ہے جبکہ یورپ کو آئندہ ہفتوں میں ڈیزل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی تیل سپلائی میں تقریباً 11.1 ملین بیرل یومیہ کمی واقع ہوئی، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں سے 10.9 ملین بیرل یومیہ سپلائی فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر سپلائی میں نمایاں خلا برقرار ہے۔

جنوری اور فروری 2026 میں عالمی تیل کی اوسط سپلائی 106.9 ملین بیرل یومیہ تھی، تاہم بحران کے باعث تقریباً 18.4 ملین بیرل یومیہ کمی دیکھنے میں آئی۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے سعودی عرب نے 7.3 ملین بیرل یومیہ تیل متبادل راستوں سے فراہم کیا، جبکہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے 2 ملین بیرل یومیہ ذخائر جاری کیے۔

ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پاتریک پویان نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران تین سے چار ماہ سے زیادہ جاری رہا تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل اور ایل این جی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔

آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والا روزانہ 11 ملین بیرل کا خلا برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کی مجموعی کھپت سے بھی زیادہ ہے۔ اگرچہ ایشیا میں طلب میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قلت بڑھنے کے آثار ہیں۔

امریکا اور دیگر ممالک نے ریکارڈ مقدار میں تیل کے ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے، جبکہ ایران نے محدود پیمانے پر غیر ملکی جہازوں کو گزرنے کی اجازت بھی دی ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پائپ لائنز کے ذریعے متبادل سپلائی کا آغاز کر دیا ہے۔

اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے 55 فیصد زیادہ ہے، تاہم 2008 کے ریکارڈ 147.50 ڈالر سے ابھی کم ہے۔ یورپی قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ ایشیا میں طلب میں کمی کے باوجود توانائی بحران کے خدشات برقرار ہیں۔

پاکستان سمیت کئی ممالک میں ایندھن کی بچت کے اقدامات زیر غور ہیں، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو عالمی معیشت کو ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔