ایران کے خلاف جنگ خطے میں طویل تنازع کی بنیاد بن سکتی ہے، ابراہیم قالن

ابراہیم قالن، جو ترکیہ کی خفیہ سروس کے سربراہ ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی ایک ایسی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جو عشروں تک جاری رہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات خطے میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام کو جنم دے سکتے ہیں۔

انہوں نے قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکیہ، پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں اور مذاکرات کے عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملے ناقابل قبول ہیں، تاہم یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس تنازع کا آغاز کیسے ہوا۔

ابراہیم قالن نے کہا کہ ترکیہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا اور خطے کو مزید تباہی سے بچانے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ دراصل موجودہ حالات کا پیش خیمہ تھی اور اس کے ذریعے حالات کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس کشیدگی کے نتیجے میں ترک، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان طویل مدتی تنازعات جنم لے سکتے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں تقسیم مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے اور اس کی قیمت دنیا کی بڑی آبادی کو چکانا پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگی صورتحال لبنان، شام اور فلسطین سمیت دیگر علاقوں میں نئے حقائق کو جنم دے رہی ہے، جو مستقبل میں مزید پیچیدہ مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔

Exit mobile version