ایران اور امریکا ڈیل کے قریب، افزودہ یورینیم امریکا کو دینا ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں ہی معاہدہ چاہتے ہیں اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو چکا ہے۔ فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممکنہ ڈیل کے تحت ایران کو اپنا افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنا ہوگا اور معاہدہ طے پانے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا بھی ضروری ہوگا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی ایک اہم ایرانی شخصیت سے بات چیت ہوئی ہے تاہم انہوں نے نام ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کی موجودہ صورتحال سے متعلق معلومات ہیں، البتہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں نشانہ بنایا جائے۔
امریکی صدر کے مطابق مذاکرات کے لیے ایران نے خود امریکا سے رابطہ کیا اور حالیہ دو دنوں کے دوران بات چیت میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، تاہم کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو اور کسی بھی ملک کے پاس ایٹمی ہتھیار یا افزودہ یورینیم نہ ہو۔
ٹرمپ نے کہا کہ ممکنہ ڈیل کے بعد ایران کے افزودہ یورینیم کو امریکی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے ساتھ تقریباً 15 نکات پر مذاکرات جاری ہیں جن میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں۔
انہوں نے خطے میں امریکی فوجی تعیناتی پر بات کرنے سے گریز کیا تاہم بتایا کہ محکمہ جنگ کو پانچ دن تک ایرانی پاور پلانٹس پر حملے سے روکا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کیا گیا ہے جبکہ اسرائیل بھی حالیہ پیشرفت پر مطمئن ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کو تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے اور اگر معاہدہ طے پا گیا تو یہ نہ صرف خطے بلکہ ایران کے لیے بھی ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

Exit mobile version