برطانوی اخبار نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے اسے غیر معمولی نقصان قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں یہاں تک کہا گیا کہ یہ واقعہ ایران کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اخبار کے مطابق علی لاریجانی ایک بااثر اور تجربہ کار سیاستدان تھے، جن کا اثر و رسوخ نہ صرف ایران بلکہ روس اور چین سمیت کئی اہم عالمی طاقتوں تک پھیلا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک اہم ہدف سمجھا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ علی لاریجانی کی موت ایران کے لیے قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد سب سے بڑا دھچکا ہے، جس نے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔
یورپی کونسل برائے بین الاقوامی تعلقات کے ایرانی امور کے ماہر ایلی جیرن مائے کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ بنیامین نیتن یاہو کی کوشش ہے کہ جنگ بندی اور ایران سے ممکنہ مذاکرات کے تمام راستے بند کر دیے جائیں۔
ماہر کے مطابق علی لاریجانی ایسے رہنما تھے جو جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے تھے، اور ان کی غیر موجودگی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
علی لاریجانی کی موت، آیت اللہ خامنہ ای سے بڑا سانحہ اور قاسم سلیمانی کے بعد ایران کا سب سے بڑا نقصان قرار
