ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی مخالفت کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایرانی توانائی تنصیبات کو مزید نشانہ بنانے کی مخالفت کر دی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے، اس لیے مزید حملوں کی ضرورت نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جو دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور ایران کی توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ کو اس حملے کا پیشگی علم تھا، تاہم ان کا موجودہ مؤقف مزید کشیدگی سے بچنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف حتمی نہیں اور اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں کوئی اشتعال انگیز اقدام کیا تو وہ دوبارہ ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے ساؤتھ پارس فیلڈ پر حملے کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے خطے میں ان تمام تیل و گیس تنصیبات کو ممکنہ ہدف قرار دیا ہے جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیر انتظام چل رہی ہیں۔ اسی تناظر میں ایران نے راس لفان انڈسٹریل سٹی پر میزائل حملہ بھی کیا، جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔

قطر کی توانائی کمپنی کے مطابق اس حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم قطری حکومت نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک کشیدگی اور ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بحران اور سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ عالمی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

Exit mobile version