ایرانی ویمن فٹبال ٹیم کی کپتان زہرا قنبری بھی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست سے دستبردار

آسٹریلیا میں موجود ایران کی خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کی کپتان زہرا قنبری نے بھی سیاسی پناہ کی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق زہرا قنبری نے آسٹریلیا میں پناہ لینے کی درخواست سے دستبرداری اختیار کر لی ہے اور وہ جلد آسٹریلیا سے ملائیشیا روانہ ہو جائیں گی۔

واضح رہے کہ ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے ایونٹ کے اختتام کے بعد ایران کی ویمن فٹبال ٹیم کے چھ ارکان آسٹریلیا میں رک گئے تھے۔ آسٹریلوی حکام کی جانب سے ان کھلاڑیوں کو سیاسی پناہ دینے کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔

تاہم ٹیم کے چھ ارکان میں سے چار کھلاڑی پہلے ہی اپنی پناہ کی درخواست واپس لے چکی تھیں، جبکہ اب کپتان زہرا قنبری کے اس فیصلے کے بعد صرف ایک کھلاڑی ہی باقی رہ گئی ہے جس نے ابھی تک اپنی درخواست برقرار رکھی ہوئی ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک کا کہنا تھا کہ ایرانی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں اور معاون عملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ کی پیشکش کی گئی تھی۔ یہ پیشکش اس خدشے کے پیش نظر کی گئی کہ ٹورنامنٹ کے دوران ایرانی قومی ترانہ نہ گانے کی وجہ سے واپسی پر کھلاڑیوں کو ممکنہ طور پر مشکلات یا سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کے 26 رکنی اسکواڈ میں شامل چھ کھلاڑیوں اور اسٹاف کے ایک رکن نے ابتدائی طور پر آسٹریلیا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ کی پیشکش قبول کی تھی، جبکہ باقی ایرانی وفد 9 مارچ کو سڈنی سے روانہ ہو کر کوالالمپور پہنچ گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق آسٹریلیا سے روانگی کے بعد ایران کی خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کا اسکواڈ تاحال ملائیشیا میں موجود ہے اور وہیں قیام کیے ہوئے ہے۔

Exit mobile version