غیر تصدیق شدہ اے آئی ویڈیو نشر کرنا صحافتی اصولوں کے خلاف ہے: جاوید صدیقی

معروف صحافی اور کالم نگار جاوید صدیقی نے پاکستانی میڈیا کو غیر ذمہ دار اور غیر پیشہ ور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض نجی ٹی وی چینلز نے اسرائیل کی جانب سے جاری کی گئی بنیامین نیتن یاہو کی مبینہ جعلی آرٹیفیشل انٹیلیجنس ویڈیو کو بغیر تصدیق کے اپنی اسکرین پر سچ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑے میڈیا ہاؤسز کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور ایسی مشینری موجود ہے جس کی مدد سے اے آئی سے تیار کی گئی جعلی ویڈیوز اور آڈیوز کی بآسانی شناخت کی جاسکتی ہے، لیکن اس کے باوجود بعض چینلز نے پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔

جاوید صدیقی کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کئی نجی چینلز میں نااہل افراد اور سفارش پر آنے والوں کا اثر بڑھ گیا ہے جبکہ مالکان بھی اپنے اداروں کی اسکرین اور خبر کی صداقت پر مکمل توجہ نہیں دے رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ اسرائیل اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پروپیگنڈا اور جعلی مواد کا سہارا لے رہا ہے، لیکن افسوس کہ پاکستانی میڈیا اپنی کمزوریوں کی وجہ سے غیر دانستہ طور پر اس پروپیگنڈے کو تقویت دے رہا ہے۔

جاوید صدیقی نے خبردار کیا کہ ایسے مواد کی تشہیر سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے بیرونی پروپیگنڈے کو فروغ نہ ملے۔ انہوں نے اس معاملے پر پاکستانی سیکیورٹی اداروں سے بھی مؤثر نگرانی اور سخت چیکنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

Exit mobile version