تحریر: رائے تجمل بھٹی
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر بارود کی بو سے بھر چکی ہے۔ طاقت کے نشے میں چور قوتوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ جدید اسلحہ، ڈرونز اور میزائلوں کی طاقت سے وہ ہر قوم کو جھکا سکتے ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے وقار، آزادی اور نظریے کے لیے کھڑی ہو جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے آسانی سے شکست نہیں دے سکتی۔
آج جو جنگ جاری ہے، اس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جنہوں نے ہمیشہ اپنی عسکری برتری کا ڈھنڈورا پیٹا، وہ اب ایک ایسی جنگ میں الجھ چکے ہیں جو نہ صرف مہنگی ثابت ہو رہی ہے بلکہ انہیں مسلسل تھکا بھی رہی ہے۔ جدید دفاعی نظام، اربوں ڈالر کے ہتھیار اور عالمی حمایت کے باوجود اسرائیل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی شہروں میں خوف کی فضا ہے اور عام شہریوں کی زندگیاں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔
یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس جنگ نے اسرائیل کی معیشت اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دفاعی نظام پر بے تحاشہ اخراجات، شہری علاقوں میں تباہی اور مسلسل خطرات نے اسرائیلی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کو بھی اپنی عسکری اور سیاسی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جنگ کبھی یکطرفہ نہیں ہوتی۔ ایران کو بھی اس تصادم میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اقتصادی دباؤ، عسکری تنصیبات پر حملے اور انسانی جانوں کا ضیاع ایک تلخ حقیقت ہے۔ جنگ کا میدان کسی ایک فریق کو مکمل فتح نہیں دیتا بلکہ دونوں طرف زخم چھوڑ جاتا ہے۔
اس پوری صورتحال کا سب سے دردناک پہلو عام انسانوں کی حالت ہے۔ معصوم بچے، بے گناہ عورتیں اور عام شہری اس جنگ کی اصل قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کے گھر اجڑ رہے ہیں، خواب ٹوٹ رہے ہیں اور زندگیاں خوف کی چادر میں لپٹتی جا رہی ہیں۔ یہ وہ منظر ہے جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے زور پر مسلط کی گئی جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب انصاف، امن اور انسانیت کو ترجیح دی جائے۔ اگر عالمی طاقتیں واقعی دنیا میں امن چاہتی ہیں تو انہیں جنگ کے بجائے مذاکرات، انصاف اور باہمی احترام کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔
آج مشرقِ وسطیٰ کے افق پر جو آگ بھڑک رہی ہے، وہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ اگر دنیا نے اس آگ کو بجھانے کے لیے سنجیدہ کوشش نہ کی تو اس کے شعلے مزید پھیل سکتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت کے نشے کو چھوڑ کر انسانیت کو بچایا جائے، کیونکہ جنگیں کبھی بھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے صرف زخم چھوڑ جاتی ہیں۔
