پاکستانی نظام "جسکی لاٹھی اسکی بھینس”

کالمکار: جاوید صدیقی

اپنی سیاست اپنے پاس رکھو قوم پر ہرگز اپنا نظریہ اور اپنی مرضی مت تھوپو، ہر وہ انسان جس نے دین کی خاطر منتقلِ جگہ یعنی انتقال کیا ھو وہ مہاجر کہلاتا ھے۔ اس میں نہ رنگ، نسل، قوم، قبیلہ کی قید ھے اور نہ ہی زبان و تہذیب کی۔ سنہ1947 ء میں ہجرت خالصتاً دین کی خاطر کی گئی تھی اسی لئے ان منتقلِ جگہ انتقال کے لوگوں کو مہاجر کہتے ہیں۔ اسی طرح دین کے فروغ و اشاعت اور تبلیغ کی خاطر عرب و دیگر ممالک کے مسلمان یہاں آکے بسے انہیں بھی مہاجر کہتے ہیں۔ ان میں سادات یعنی سید، ہاشمی، علوی ، انصاری ، صدیقی ، فاروقی ، عثمانی ، قریشی ، بخاری ، مخدوم ، گیلانی ، جیلانی ، سرہندی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ان میں بیشر ایسے خاندان بھی ہیں جو قبل از پاکستان برصغیر پاک و ہند جس میں موجودہ پاکستان ھے آئے تھے اور یہیں ہوکر بس گئے۔ ایم کیو ایم پوری قوم کی ٹھیکیدار نہیں ، بھارت سے ہجرت کرنے والی مہاجر قوم نے انہیں موقع دیا تو انھوں نے قوم اور دین کی خدمت کے بجائے نفرت، عصبیت، بےایمانی، جھوٹ، نفاق، رہزنی، قتل و غارت، بوری بند لاش، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، پرچی بند اور نجانے کیا کیا شیطانی و ابلیسی عوامل کا اجراء کیا جو انکی جماعت سے قبل نہ کسی نے سنا تھا نہ دیکھا تھا سچی بات تو یہ ھے کہ انھوں نے ہی جرائم کے نت نئے طریق اپنائے اور یہی طریق اب سب میں موجود ہیں۔ میں تسلیم کرتا ھوں کہ پی پی پی ہو یا پی ایم ایل این و دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس بابت کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ بات صرف سمجھنے کی یہ ھے کہ ہمارے ملک میں سیاست کو غلاظت سمجھا جاتا ھے یہی سبب ھے کہ جب کوئی بھی پارلیمینٹیرین غلیظ عوامل اور خباثت سے مزین ہو تو اسے ہی سب سے نفیس عمدہ اعلیٰ درجہ کا رہبر و رہنما اور سیاستدان سمجھا اور تسلیم کیا جاتا ھے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منتخب نمائندگان ہی سب سے زیادہ آئین و دستور کی مخالفت میں کام کرتے ہیں مگر وہ مجرم نہیں ٹہرتے کیونکہ یہاں کی عدلیہ کسی بیہودہ اور بے شرم سے کم نہیں!! کیوں نہیں آئین و دستور کی خلاف ورزی پر ازخود نوٹس لیتے؟؟ کیا جسٹس ہوں یا چیف جسٹس انہیں آئین و دستور یاد نہیں یا مطالعہ میں نہیں۔؟؟ جب ایک غیر مسلم پارلیمینٹ میں شراب پر پابندی کا بل پیش کرتا ھے تو دوسرا مسلمان پارلیمنیٹیرین اس بل کی مخالفت کرکے بل مسترد کروادیتا ھے افسوس اور تف ھے ایسے مسلمان پر۔ ایسے مسلمان پارلیمینٹیرین اور اسپیکر پر سب سے پہلے لعنت دوسرا کہ قرآن و احادیث اور آئین پاکستان کی مخالفت میں ان دونوں کی رکنیت تحلیل کرلینی چاہئے اور انہیں تا عمر نااہل قرار دینا چاہئے!! کیا ہماری بیغیرت عدلیہ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ایسا کیا۔؟؟ یقیناً تاحال ہرگز نہیں آخر کیوں ؟؟ پاکستان اس وقت دھریوں، منافقوں اور دین سے دور کفار و مشرک یہود و ہنوذ و نصاریٰ اور قادیانیوں کی ایماء اور انکے ذہن نمائی کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کے ہاتھوں ریاست ایوان اور حکومت و انتظامیہ کی باگ ماضی میں بھی اور اب بھی رہی ھے۔ کہیں سے بھی نہیں لگتا ہے کہ یہ اسلامی ریاست ھے اور نہ ہی جمہوری ؟؟ حقیقت تو یہ ھے کہ پاکستان چند غنڈوں، بدمعاشوں، لٹیروں اور داداگیروں کے شکنجے میں بری طرح پھنس کر رہ گئی ھے جنہیں عام فہم میں مافیاء کہتے ہیں۔ اب یہ مافیاء اشرفیہ، مذہبی جماعتوں ،ایلیٹ جماعتوں، تاجر طبقہ اور نوکر شاہی طبقوں میں بھی میں مکمل چھا گیا ھے۔ گویا ھم کہہ سکتے ہیں اور ہمیں تسلیم کرنا پڑیگا کہ پاکستان میں کوئی نظام ہی نہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا سلسلہ جاری ھے دیکھتے ہیں یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا ھے۔۔۔۔۔!!

Exit mobile version