حکومتی نوٹیفکیشن کے برعکس ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز منڈی بہاؤالدین کا حکم نامہ، تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش


منڈی بہاوالدین : گورنمنٹ آف پنجاب ہائیر ایجویکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی کالجز اور یونیورسٹیاں 10 مارچ سے 31 مارچ 2026 تک آن کیمپس تدریسی سرگرمیوں کے لیے بند رکھنے اور تعلیمی عمل آن لائن جاری رکھنے کی واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ اس حکومتی فیصلے کا مقصد تعلیمی سرگرمیوں کو متبادل نظام کے تحت جاری رکھنا اور انتظامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا تھا۔
تاہم ضلع منڈی بہاءالدین میں اس حکومتی نوٹیفکیشن کے برعکس ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز علامہ ارشد محمود کی جانب سے ایک علیحدہ آفس آرڈر جاری کیے جانے کے بعد صورتحال خاصی متنازعہ شکل اختیار کر گئی ہے۔ مذکورہ حکم نامے میں اساتذہ کو کالجوں میں باقاعدہ حاضری دے کر اداروں سے ہی آن لائن کلاسز لینے کی ہدایت دی گئی ہے، جسے تعلیمی حلقوں کی جانب سے حکومتی پالیسی سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔
تعلیمی ماہرین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جب صوبائی سطح پر واضح نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے تو ضلعی سطح پر اس کے برعکس احکامات جاری کرنا انتظامی تضاد اور کنفیوژن کو جنم دیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کا اقدام بظاہر صوبائی محکمہ تعلیم کی پالیسی اور اعلیٰ حکام کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے، جس سے تعلیمی اداروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
دوسری جانب ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز منڈی بہاؤالدین کی جانب سے جاری یہ لیٹر سوشل میڈیا پر بھی شدید تنقید کی زد میں آ چکا ہے جہاں اساتذہ، طلبہ اور شہری حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب گورنمنٹ آف پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی واضح ہدایات موجود ہیں تو ان کے برعکس لیٹر جاری کرنا نہ صرف غیر ضروری پیچیدگی پیدا کر رہا ہے بلکہ یہ تاثر بھی دے رہا ہے کہ ضلعی سطح پر حکومتی پالیسی کو چیلنج کیا جا رہا ہے جو ڈپٹی کمشنر منڈی بہاءالدین کیلئے ایک معمہ بن گیا ہے
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے بظاہر صوبائی حکومت، وزیر تعلیم اور اعلیٰ حکام کے فیصلوں کو بھی کھلا چیلنج سمجھا جا رہا ہے، جس کے باعث تعلیمی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہری و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر اس دپٹی دائریکٹر کالجز کے خلاف ضابطے کی کاروائی عمل میں لائے اور تجاوز از اختیارات اور حکومتی رٹ کی واضح دھجیاں اڑانے پر قرار واقعی سزا دے۔ اور اس بات کو یقینی بنائے کہ صوبائی حکومت کی پالیسی کو روندنا سنگین جرم ہے۔
شہریوں اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے متضاد احکامات کا بروقت سدباب نہ کیا گیا تو ضلع میں تدریسی نظام مزید انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔ اور ضلع بھر کے طلباء و طالبات کی طرف سے احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہو جائے گا لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام فوری مداخلت کریں، صورتحال کی وضاحت کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو تعلیمی نظام میں مزید ابہام اور بے چینی کا سبب بنیں۔

Exit mobile version