اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان سے پھیلنے والی دہشتگردی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
اقوام متحدہ کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے افغانستان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مختلف دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر دہشتگرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے مختلف شہروں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ دہشتگرد پاکستان کے مختلف علاقوں میں خودکش حملوں اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 26 فروری کو افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلااشتعال پاکستان پر حملہ کیا گیا جبکہ افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں نے معصوم پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا۔
عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن فورسز اور دہشتگردوں کو نشانہ بنایا اور انسداد دہشتگردی آپریشن کے دوران غیر ملکی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے، تاہم پاکستان ایک محفوظ، مستحکم اور پرامن افغانستان کا خواہاں ہے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ افغان طالبان حکومت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرے، لیکن موجودہ افغان حکومت دوحہ معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
