کالمکار : جاوید صدیقی
گزشتہ روز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف نے قومی نشریاتی ادارے سے قوم سے خطاب کیا، آپ کے خطاب میں کوئی ایسا مثبت عمل نظر نہیں آیا کہ جس سے عوام کو براہ راست فائدہ سہولت اور مالی بوجھ کی کمی کہہ سکیں۔ حیرت و تعجب کی بات تو یہ کہ ایئرکنڈیشن و دیگر تعیش کے سامان کی خریداری پر روک لگائی مگر جو آفس میں ایئرکنڈیشن موجود ہیں انہیں بند رکھنے اور صرف پنکھے استعمال کرنے کا عندیہ نہ دیا۔ سرکاری و نیم سرکاری اور کارپورشنز کے گریڈ سترہ تا بائیس کو پابندی سے استثنیٰ رکھا گیا کہ وہ سرکاری وہیکلز کو ذاتی گھریلو امور کیلئے استعمال نہ کریں کیونکہ پاکستان واحد دنیا کا ملک ھے جہاں سرکاری گاڑیاں بیوی بچے باپ کی جاگیر سمجھتے ہوئے بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور بلاوجہ قومی دولت کا فیول ضائع کرتے ہیں اور گاڑیوں کو شدید نقصان بھی پہنچاتے ہیں جس کی مرمت میں بھی لاکھوں رقم صرف ہوتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے سچائی اور حق کی ترجمانی کرتے ہوئے وزیراعظم میاں شہباز شریف کو بیدار کیا کہ آپ نے 10 ارب میں پی آئی اے بیچ ڈالی تو دوسری جانب 11 ارب کا جہاز آپکی بھتیجی وزیراعلیٰ پنجاب نے خرید ڈالا اور دو امریکی پلاٹس 68 ہزار ماہانہ ڈالرز پر تعینات کیا اور انکی فائیو اسٹار ہوٹل میں رہائش و دیگر مراعات کیساتھ جاب پر رکھا۔ ہمارا ملک جو مقروض ھے وہ ان تعیوش کا متحمل نہیں بہتر یہی ھے کہ کمزور معاشی و اقتصادی حالات کے سبب اقتصادی ہنگامی ایمرجنسی عائد کردی جائے اور چاروں وزراء کے جہازوں کی فروخت فوراً کی جائے تاکہ عوام کو جینے اور ٹیکس کے بوجھ سے قدرے سہولت مل سکے اس سلسلے میں صدر پاکستان آصف علی زرداری کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ و صدر پاکستان سیکریٹریٹ کے اخراجات میں بھی واضع کمی کی جائے یہی نہیں بلکہ تمام وفاقی و صوبائی اسمبلی کے اسپیکرز و ممبران اور طرح سینیٹ چیئرمین و ممبران کی تنخواہوں کو پچاس فیصد کمی و مراعات میں واضع کمی کردی جائے یہی عمل ملک بھر کے سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، سیشن کورٹ کے ججز، جسٹس اور چیف چسٹس صاحبان کی تنخواہ سمیت مراعات میں فوری واضع کمی کردی جائے۔ آئی جیز، ڈی آئی جیز، اے آئی جیز، ایس ایس پیز، ایس پیز اور ڈی ایس پیز سمیت عملہ کی تنخواہ اور مراعات میں بھی واضع کمی کی جائے یہی نہیں بلکہ وصولیاتی اداروں کے سربراہ سمیت افسران کی تنخواہ سمیت مراعات میں بھی واضع کمی کرنے کے فوری احکامات جاری کئے جائیں پھر آپ عوام سے کہنے کے روادار ہوسکیں گے۔ افسوس اور دکھ کیساتھ کہنا پڑتا ھے کہ ماضی ہو یا حال تمام حکمرانوں نے جھوٹ نفاق کا ہمیشہ سے عملی مظاہرہ رکھا اور تعجب و حیرت اس بات پر کہہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی خوف خدا سے عاری رہے آیتوں کو پڑھ پڑھ کر اور خدا کی قسموں سے پاکستانی عوام کو بیوقوف گمراہ اور دھوکے میں رکھا گیا جو تاحال تسلسل سے جاری ھے۔ ایم کیو ایم، پی پی پی، پی ٹی آئی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت نے ایوان میں اس بابت بل نہ پیش کیا ھے اور شائد نہ پیش کرسکتے ہیں کیونکہ عوام بھی خوب جاننے لگ گئے ہیں یہ کھچڑی ایک ہی ھے بس جس کی دال کچی رہ جائے وہ درد کا شور مچاتا ھے مگر کھا وہ بھی لیتے ہیں۔ آخر میں عوامی نمائندوں سے یہی امید کرتا ھوں کہ وہ اپنی ذات سے بالاتر ھوکر خالصتاً عملی کردار پیش کرکے اللہ سبحان تعالیٰ و رسول اللہ ﷺ کی خوشی کو حاصل کریں تاکہ دونوں جہاں کی عزت و مقام مل سکیں ۔۔۔۔!!





