ایرانی ہلال احمر نے حالیہ جنگ کے اثرات پر تشویشناک اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کے آغاز سے اب تک 6 ہزار 668 سے زائد سویلین یونٹس کو براہِ راست نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق اور شہری ڈھانچے کی اس بڑے پیمانے پر تباہی نے امدادی کاموں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، حملوں کے نتیجے میں اب تک 5 ہزار 535 رہائشی یونٹس مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے، جبکہ ایک ہزار 41 تجارتی مراکز (کمرشل یونٹس) کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تعلیمی اور طبی سہولیات پر حملوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ایرانی ہلال احمر کا کہنا تھا کہ 65 اسکول اور 14 میڈیکل سینٹرز ان حملوں کی زد میں آ کر تباہی کا شکار ہوئے۔
انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق ہلال احمر کے اپنے 13 مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے دوران امدادی سرگرمیوں میں مصروف متعدد گاڑیاں تباہ ہوئیں اور ریلیف آپریشن انجام دینے والے کئی ورکرز بھی شدید زخمی ہوئے۔ یہ صورتحال متاثرہ علاقوں میں انسانی المیے کو مزید سنگین بنا رہی ہے
