وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ایندھن کی بچت اور عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 15 دن کی بجائے ہر ہفتے ریوائز کی جائیں گی۔
قیمتوں کا نیا طریقہ کار اور بچت پلان
وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزارتِ توانائی اور معاشی ٹیم نے جیو پولیٹیکل ٹینشن اور ایندھن کے ذخائر پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ:
ہفتہ وار تعین: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب انٹرنیشنل مارکیٹ کی مسابقت کے مطابق ہر ہفتے ایڈجسٹ کی جائیں گی تاکہ عوام اور معیشت پر بوجھ کو متوازن رکھا جا سکے۔
ورک فرام ہوم: ایندھن کی کھپت میں کمی لانے کے لیے تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظامِ تعلیم اور دفاتر کے لیے ورک فرام ہوم (گھر سے کام) کا جامع منصوبہ پیر کو پیش کیا جائے گا۔
کابینہ کی منظوری: ای سی سی (ECC) کی سفارشات کے بعد وفاقی کابینہ اس سمری کی حتمی منظوری دے گی۔
ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ایکشن
وزیراعظم نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، لہٰذا مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے کوئی رعایت نہ برتی جائے۔
لائسنس کی منسوخی: جو بھی پیٹرول پمپ مصنوعی قلت یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا، اوگرا (OGRA) فوری طور پر اس کا لائسنس منسوخ کر کے اسے بند کر دے گا۔
ڈیجیٹل نگرانی: پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور نقل و حمل کی نگرانی کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنایا جائے گا جو صوبوں کے ساتھ رئیل ٹائم ڈیٹا شیئر کرے گا۔
صوبوں کے ساتھ مشاورت
وزیراعظم نے وزیرِ پیٹرولیم کو تمام صوبوں کے دورے کرنے اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایندھن کی بچت اور بلاتعطل فراہمی کا لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیرِ خزانہ پیر کو صوبوں کی مشاورت سے ‘ورک فرام ہوم’ کی حتمی تجاویز پیش کریں گے۔




