تحریر:محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
اوکاڑہ، جو کبھی ایک پرسکون اور متوازن شہر سمجھا جاتا تھا، آج تیزی سے پھیلتی آبادی، بڑھتی ٹریفک اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث شہری مسائل کی ایک جیتی جاگتی مثال بنتا جا رہا ہے۔ شہر کی سڑکیں، بازار، رہائشی علاقے اور ٹریفک کا نظام اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ترقی کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق کہیں زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک ہیں۔اگر ہم ون فور ایل روڈ کا جائزہ لیں تو یہ سڑک اس وقت شہری مسائل کی مکمل تصویر پیش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ، گہرے گڑھے اور غیر ہموار سطح نہ صرف شہریوں کے لیے اذیت کا باعث ہے بلکہ حادثات کو بھی دعوت دے رہی ہے۔ چند سال قبل تک یہ سڑک نسبتاً کم مصروف ہوا کرتی تھی، مگر اب اس کے اطراف میں درجنوں نئی رہائشی سوسائٹیوں کا قیام، شادی ہالز کی بھرمار اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اس سڑک کو ایک اہم مگر بے ہنگم گزرگاہ بنا چکا ہے۔ٹریفک کے بڑھتے دباؤ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ سڑک آگے جا کر نہر لوئر باری دوآب کی لنک روڈ سے جا ملتی ہے، جس کے باعث یہاں ہر وقت گاڑیوں کا بہاؤ جاری رہتا ہے۔ صبح و شام کے اوقات میں صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے، جب دفاتر اور تعلیمی اداروں کے اوقات ہوتے ہیں۔ ایسے میں سڑک پر موجود گڑھے موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیورز اور کار سواروں کے لیے شدید خطرہ بن جاتے ہیں۔اسی روڈ پر واقع ایک چک کا ریلوے پھاٹک مسائل کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی گزرگاہ دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ پورے علاقے کی ٹریفک کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جیسے ہی ٹرین کی آمد ہوتی ہے اور پھاٹک بند کیا جاتا ہے، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ خاص طور پر سکول اور دفتری اوقات میں یہ مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید ذہنی دباؤ اور وقت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس مسئلے کا وقتی حل تو یہی ہو سکتا ہے کہ مصروف اوقات میں ٹریفک وارڈنز کو تعینات کیا جائے تاکہ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔ مگر مستقل اور موثر حل کے لیے یہاں انڈر پاس یا فلائی اوور کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر حکومت اس مقام پر ایک جدید انڈر پاس تعمیر کر دے تو نہ صرف ٹریفک کے مسائل میں واضح کمی آئے گی بلکہ شہریوں کو ایک محفوظ اور تیز رفتار سفر کی سہولت بھی میسر آ سکے گی۔دوسری جانب اگر ہم بے نظیر روڈ (فلائی اوور، ریلوے پھاٹک)کا رخ کریں تو یہاں بھی مسائل کی نوعیت کچھ مختلف نہیں۔ یہ سڑک تاریخی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہے، جہاں 1960 کی دہائی میں پاوا بازار(دیپالپور روڈ اوکاڑہ) کے نام سے دکانوں کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں 1995 میں اس وقت کی حکومت نے اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی اور دکانداروں کو متبادل جگہیں فراہم کی گئیں۔ مگر گزشتہ برس(2025) میں انسداد تجاوزات مہم کے دوران ایک بار پھر ان دکانداروں کو بے دخل کر دیا گیا۔افسوسناک امر یہ ہے کہ جن دکانوں کو ختم کیا گیا، وہ ٹریفک کے لیے زیادہ مسئلہ نہیں تھیں، مگر اب انہی افراد کو سڑک کے دوسرے کنارے ریڑھیاں لگانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ نتیجتاً بے نظیر روڈ کے ایک جانب ریڑھیوں کی طویل قطار نظر آتی ہے، جو نہ صرف سڑک کی خوبصورتی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ٹریفک کی روانی میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔یہ صورتحال انتظامی پالیسیوں میں تسلسل کی کمی کو واضح کرتی ہے۔ اگر ایک جگہ سے تجاوزات ختم کر کے دوسری جگہ اسی مسئلے کو دوبارہ جنم دیا جائے تو ایسی کارروائیوں کا فائدہ محدود اور وقتی ہی رہ جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دکانداروں کو مستقل بنیادوں پر متبادل جگہ فراہم کی جائے، جہاں وہ باعزت طریقے سے اپنا روزگار جاری رکھ سکیں اور شہر کا نظام بھی متاثر نہ ہو۔اوکاڑہ کے شہری مسائل محض سڑکوں اور ٹریفک تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع تر انتظامی چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور ٹریفک مینجمنٹ کو ترجیح دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔بالخصوص ون فور ایل روڈ کی فوری تعمیر اور اسے دو رویہ بنانا ناگزیر ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف موجودہ ٹریفک مسائل میں کمی آئے گی بلکہ آئندہ کئی دہائیوں تک یہ سڑک شہر کے لیے ایک مضبوط اور موثر رابطہ فراہم کر سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ریلوے پھاٹک(1/4L) پر انڈر پاس کی تعمیر، ٹریفک وارڈن کی تعیناتی اور تجاوزات کے مسئلے کا مستقل حل ایسے اقدامات ہیں جو اوکاڑہ کو ایک بہتر اور منظم شہر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ترقی صرف منصوبوں کے اعلان سے نہیں بلکہ ان کے مو¿ثر نفاذ سے ممکن ہوتی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ سنجیدگی سے ان مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کرے ٭




