ریاست کے دربار میں کھڑا ایک باوقار پنشنر اور سوئے ہوئے ضمیروں کی فردِ جرم

تحریر: محمدانوربھٹی

بازار کی وہ شام بظاہر معمول کی تھی مگر درحقیقت وہ ایک عہد کا نوحہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی بندن میاں اپنے چند دوستوں کے ساتھ محلے کی پرانی دکان کے تھڑے پر بیٹھے تھے سامنے سے گزرتے لوگوں کے چہروں پر تھکن تھی اور دکانوں کی روشنیوں میں مصنوعی چمک مگر ساتھ منسلک میڈیکل اسٹور سے اٹھنے والی ایک لرزتی ہوئی آواز نے اس مصنوعی چمک کو ایک لمحے میں بجھا دیا بیٹا ذرا دوائی سستی کر دو بیٹے سے پیسے مانگتے شرم آتی ہے یہ الفاظ کسی ایک شخص کے نہ تھے یہ ایک پوری نسل کی سسکی تھی بندن میاں نے سر اٹھایا اور اس ضعیف بزرگ کو دیکھا جن کے ہاتھ میں ڈاکٹر کی پرچی تھی اور آنکھوں میں خودداری کی نمی وہ کوئی بھکاری نہ تھے وہ اس ملک کے ریٹائرڈ شہری تھے وہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اپنی جوانی سرکاری دفتروں کی میزوں کے پیچھے کھپا دی جنہوں نے وقت کی پابندی کو عبادت سمجھا جنہوں نے اپنے بچوں کو ایمانداری کا سبق دیا مگر آج وہ دوائی کی قیمت پر رعایت مانگ رہے تھے بندن میاں کے دل میں ایک آگ سی بھڑک اٹھی انہوں نے سوچا یہ صرف ایک بزرگ کا دکھ نہیں یہ ریاست کی ناکامی کا کھلا اعلان ہے یہ اس نظام کا نوحہ ہے جس نے اپنے وفادار ملازمین کو بڑھاپے میں بوجھ سمجھ لیا ہے۔کیا ریاست کا فرض صرف ٹیکس جمع کرنا اور تقریروں میں ترقی کے دعوے کرنا ہے کیا اس کا کوئی اخلاقی قرض اپنے ان شہریوں پر نہیں جو چالیس چالیس برس اس کے اداروں کو اپنی محنت دیتے رہے جب وہ جوان تھے تو ان سے حاضری میں ایک منٹ کی تاخیر برداشت نہ کی گئی جب وہ بیمار ہوئے تو میڈیکل بورڈ کے چکر لگوائے گئے جب وہ ریٹائر ہوئے تو انہیں پھولوں کے گلدستے دے کر رخصت کر دیا گیا اور پھر مہنگائی کے طوفان میں تنہا چھوڑ دیا گیا آج پینشن ان کی ضرورتوں کا مذاق اڑا رہی ہے میڈیکل الاؤنس اس قدر حقیر ہے کہ دوائیوں کی ایک پرچی بھی پوری نہیں ہوتی مہنگائی روز بڑھتی ہے مگر پینشن میں اضافہ سال بعد ہوتا ہے وہ بھی اس قدر معمولی کہ اخبارات میں خبر تو بن جائے مگر بزرگ کے کچن میں چولہا نہ جل سکے
بندن میاں نے اپنے دوستوں کی طرف دیکھا اور کہا تم نے کبھی غور کیا کہ جب اقتدار کے ایوانوں میں بجٹ کی ضخیم کتاب میز پر رکھی جاتی ہے تو کیمروں کی چمک میں سب سے پہلے انہی مدات کا ذکر کیا جاتا ہے جن پر تالیاں بج سکیں نئی شاہراہیں بڑے منصوبے بلند و بالا عمارتیں بیرونی سرمایہ کاری کے دعوے مگر اسی دستاویز کے کسی خاموش صفحے پر پنشنرز کی مد بھی لکھی ہوتی ہے جسے خسارے کا بوجھ کہہ کر سرسری انداز میں گزار دیا جاتا ہے کیا کبھی کسی وزیر نے فخر سے کہا کہ ہم نے اپنے بزرگ شہریوں کی پینشن کو مہنگائی کے ساتھ منسلک کر دیا ہے کیا کبھی کسی نے اعلان کیا کہ میڈیکل الاؤنس اتنا بڑھا دیا گیا ہے کہ ایک ریٹائرڈ باپ کو دوائی خریدتے ہوئے بیٹے کی جیب نہ دیکھنی پڑے نہیں کیونکہ ترقی کے نعروں میں سفید بالوں کی آہٹ سنائی نہیں دیتی کیا کسی نے کہا کہ ہر ریٹائرڈ شہری کو باوقار طبی سہولت ریاست کی ذمہ داری ہو گی نہیں کیونکہ ان کے نزدیک پنشنر ووٹ کی حرارت سے محروم ہو چکا ہوتا ہے وہ جلسوں کی رونق نہیں بڑھاتا وہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ نہیں بناتا وہ صرف خاموشی سے اپنی بیماری اور اپنی عزت نفس کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر یاد رکھو اے اقتدار کے امینو قوم کی اصل ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس کے بزرگ رعایت نہیں حق کے ساتھ علاج کرا سکیں جب ان کی عزت نفس بجٹ کی کسی سطر میں دفن نہ ہو بلکہ ریاست کی اولین ترجیح بن جائے۔میڈیکل اسٹور کے کاؤنٹر پر کھڑے اس بزرگ کی آنکھوں میں صرف درد نہیں تھا وہاں ایک سوال تھا کیا میری ساری زندگی کی محنت کا یہی صلہ ہے کیا میں اس ریاست کے لیے صرف ایک فائل تھا جو ریٹائرمنٹ کے بعد بند کر کے الماری میں رکھ دی گئی۔
بندن میاں کا دل چیخ اٹھا اے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والو کیا تم نے کبھی کسی سرکاری اسپتال کی قطار میں کھڑے ریٹائرڈ استاد کو دیکھا ہے جس کے شاگرد آج بڑے عہدوں پر فائز ہیں مگر وہ خود ٹوکن کے لیے دھکے کھا رہا ہے کیا تم نے کبھی کسی سابق کلرک کو دیکھا ہے جو بلڈ پریشر کی دوا آدھی کر کے کھا رہا ہے تاکہ مہینے کا خرچ پورا ہو سکے کیا تم نے کبھی سوچا کہ جب تم اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرتے ہو تو اسی میز کے نیچے کسی بزرگ کی پینشن فائل بھی پڑی ہوتی ہے جو مہنگائی کے سامنے ہار رہی ہوتی ہے
ریاست کو یہ سمجھنا ہو گا کہ پنشن خیرات نہیں یہ اس محنت کی قسط ہے جو برسوں پہلے ادا کی جا چکی ہے یہ وہ امانت ہے جو ملازم نے اپنی جوانی کی صورت میں جمع کرائی تھی مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمران پنشنرز کو مالی بوجھ سمجھتے ہیں بجٹ کی تقریر میں جب خسارے کا ذکر آتا ہے تو سب سے پہلے پنشن کا نام لیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی اضافی خرچ ہو جیسے یہ کوئی غیر ضروری سہولت ہو کوئی یہ کیوں نہیں کہتا کہ یہ ریاست کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بزرگ شہریوں کو باوقار زندگی دے۔
بندن میاں کے الفاظ اب تیر بن چکے تھے انہوں نے کہا اگر ریاست اپنے ریٹائرڈ شہری کو صحت کی بنیادی سہولت بھی نہ دے سکے تو اسے فخر کس بات کا ہے کیا جدید عمارتیں اس وقت تک بے معنی نہیں جب تک ان کے معمار بڑھاپے میں دوائی کے لیے ترسیں کیا موٹرویز اس وقت تک ادھوری نہیں جب تک ان پر چلنے والے انجینئر ریٹائرمنٹ کے بعد بلڈ پریشر کی دوا پوری نہ خرید سکیں بازار کی فضا میں اب بھی شور تھا مگر بندن میاں کے اندر کا طوفان تھمنے کا نام نہ لے رہا تھا انہوں نے سوچا یہ مسئلہ صرف ایک گھر کا نہیں یہ پورے معاشرے کا ہے ہم نے اجتماعی طور پر یہ قبول کر لیا ہے کہ بڑھاپا بوجھ ہے ہم نے یہ مان لیا ہے کہ ریاست کا فرض صرف نوجوانوں کو روزگار دینا ہے مگر جو عمر بھر کام کر چکے ان کا کیا ان کی صحت ان کی عزت ان کا سکون کس کی ذمہ داری ہے کیا وہ صرف اعداد و شمار ہیں کیا وہ صرف بجٹ کی ایک لائن ہیں۔یہ کیسا انصاف ہے کہ دوائیوں کی قیمتیں آزاد ہیں مگر پینشن منجمد ہے یہ کیسا نظام ہے کہ میڈیکل الاؤنس چند ہزار میں محدود ہے جبکہ ایک بیماری کا ٹیسٹ ہی ہزاروں میں ہے یہ کیسی ترجیحات ہیں کہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کا بجٹ بڑھتا ہے مگر پنشنر کی دوا کے لیے فنڈ نہیں نکلتا بندن میاں نے تند لہجے میں کہا اے حکمرانو تم اپنے ضمیر سے پوچھو کیا تم اپنے والد کو اسی حالت میں دیکھ سکتے ہو کیا تمہارا دل گوارا کرے گا کہ وہ کسی کیمسٹ سے رعایت مانگے اگر نہیں تو پھر تم دوسروں کے والدین کے لیے یہ ذلت کیوں قبول کرتے ہو۔ریاست اگر واقعی ماں ہوتی تو اپنے بزرگ شہریوں کو یوں بے سہارا نہ چھوڑتی ماں اپنے بچوں کو بوجھ نہیں سمجھتی وہ ان کی بیماری میں ان کے سرہانے بیٹھی رہتی ہے مگر یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ پنشنرز کو فائلوں کے چکر لگوائے جاتے ہیں ان کی میڈیکل کلیمز مہینوں رکی رہتی ہیں ان کی ادویات کی فہرستیں محدود کر دی جاتی ہیں انہیں سرکاری اسپتالوں میں مناسب دیکھ بھال میسر نہیں آتی نجی اسپتال ان کی پہنچ سے باہر ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں عزت نفس زخمی ہوتی ہے۔
بندن میاں نے میڈیکل اسٹور سے نکلتے اس بزرگ کو دیکھا وہ آہستہ آہستہ چل رہے تھے جیسے ہر قدم کے ساتھ اپنی خودداری کو سنبھال رہے ہوں بندن میاں کے دل نے کہا یہ شخص بوجھ نہیں یہ ہمارے نظام کی نااہلی کا ثبوت ہے اگر آج بھی حکمرانوں کے ضمیر نہ جاگے تو کل تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی کیونکہ قومیں اپنے بزرگوں کے ساتھ کیے گئے سلوک سے پہچانی جاتی ہیں اگر ہم نے اپنے پنشنرز کو عزت نہ دی تو ہماری ترقی محض ایک فریب ہو گی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پنشن کو مہنگائی کے اشاریے سے منسلک کیا جائے میڈیکل الاؤنس کو حقیقی اخراجات کے مطابق بڑھایا جائے ہر ریٹائرڈ شہری کے لیے باوقار ہیلتھ کارڈ ہو جو سرکاری اور نجی دونوں اداروں میں قابل قبول ہو ان کی میڈیکل کلیمز کا فوری ازالہ ہو ان کے لیے خصوصی کاؤنٹر ہوں جہاں انہیں قطاروں میں نہ کھڑا ہونا پڑے یہ سب ناممکن نہیں مگر شرط یہ ہے کہ نیت ہو احساس ہو ضمیر زندہ ہو
بندن میاں نے اپنے دوستوں سے کہا آج اس بزرگ نے دوائی سستی نہیں مانگی اس نے ہماری غیرت کو آئینہ دکھایا ہے اس نے ریاست کو یاد دلایا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو بھول چکی ہے اس نے حکمرانوں کے ضمیر پر دستک دی ہے اگر وہ پھر بھی نہ جاگے تو یاد رکھیں وقت کا پہیہ گھومتا ہے آج جو کرسی پر ہیں کل وہ بھی اسی قطار میں ہوں گے اور شاید اس وقت کوئی بندن میاں کسی تھڑے پر بیٹھا ان کی حالت دیکھ کر یہی کہہ رہا ہو گا کہ دوائی سستی کر دو بیٹے سے پیسے مانگتے شرم آتی ہے اور اس دن اگر ان کے پاس جواب نہ ہوا تو تاریخ کا فیصلہ بہت سخت ہو گا کیونکہ زندہ قومیں اپنے بزرگوں کو بوجھ نہیں سرمایہ سمجھتی ہیں اور مردہ ضمیر قومیں اپنے محسنوں کو رعایت کی قطار میں کھڑا کر دیتی ہیں۔

Exit mobile version