امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی پوری اعلیٰ قیادت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اب تک ایران کی 48 اہم ترین شخصیات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ان حملوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی اہم تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، بحریہ کی عمارتوں اور 9 جنگی بحری جہازوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے جس کے باعث ایران کی ملٹری کمانڈ کا ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ امریکی صدر نے پاسدارانِ انقلاب، ایرانی فوج اور پولیس کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ فوری طور پر ہتھیار ڈال دیں تو انہیں استثنیٰ دیا جا سکتا ہے، بصورتِ دیگر انہیں عبرتناک موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بہت سے ایرانی اہلکار پہلے ہی ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہیں اور امریکی فوجی آپریشن اپنے تمام اہداف کے حصول تک بلا تعطل جاری رہے گا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور شہریوں کو چاہیے کہ وہ اس نازک موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ملک کا کنٹرول واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ مزید چار ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے جس کے بعد خطے میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آئیں گی اور ایران میں ایک مستحکم جمہوریت کی بنیاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن کے سربراہان سے بھی تفصیلی بات چیت کی ہے تاکہ جنگ کے بعد کے حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ: ایرانی قیادت کا خاتمہ، 48 اہم شخصیات مارنے اور ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم
