دندان شکن جواب: دراندازی کا منہ توڑ انجام


تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

سرحدیں صرف نقشوں پر کھینچی ہوئی لکیریں نہیں ہوتیں بلکہ ریاستی وقار، عوامی تحفظ اور قومی خودمختاری کی مضبوط علامت ہوتی ہیں۔ جب ان مقدس حدود پر حملہ کیا جائے تو ردعمل محض عسکری حکمت عملی نہیں رہتا، بلکہ پورے قوم کی ذمہ داری اور ایمانی عزم بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں افغان طالبان رجیم کی جانب سے ڈیورنڈ لائن پر بلا اشتعال فائرنگ، دراندازی کی کوششیں اور منظم جارحیت نے پاکستان کی خودمختاری کو براہ راست چیلنج کیا ہے۔ یہ کوئی معمولی سرحدی جھڑپ نہیں، بلکہ ایک منظم اشتعال انگیزی ہے جس نے پاکستان کی افواج کو فیصلہ کن جواب دینے پر مجبور کر دیا۔آپریشن ’غضب للحق‘ اب اپنے عروج پر ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری، ڈی جی آئی ایس پی آر نے تازہ ترین بریفنگ میں واضح کیا کہ اس آپریشن میں طالبان رجیم کے 274 اہلکار (بشمول خوارج) ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں جبکہ 18 چوکیاں پاکستان کے کنٹرول میں آ چکی ہیں۔ دشمن کے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بری طرح تباہ ہوئیں۔ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر کارروائی کی تھی۔ افغان طالبان رجیم نے اسے بنیاد بنا کر سو کالڈ ایکشن کیا۔ پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، مگر پاکستانی افواج نے تمام 53 مقامات پر حملوں کو ناکام بنا کر دشمن کو پسپا کر دیا۔ پاکستان نے ایسا بھرپور اور دندان شکن جواب دیا کہ دنیا نے دیکھ لیا۔اس آپریشن کے دوران کابل، پکتیا اور قندھار میں طالبان کی اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ کابل میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، قندھار میں ایک کور ہیڈکوارٹر، ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر، ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹک بیس تباہ ہوئے۔ پکتیا میں منصوری کور پر دو مرتبہ بم باری کی گئی اور ایک کور ہیڈکوارٹر بھی ملیا میٹ ہوا۔ زمینی کارروائیوں میں 27 چوکیاں مکمل تباہ کی گئیں، 9 پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔ پکتیا میں قبضے والی پوسٹوں میں دو شوال کے مقابل، دو انگور اڈا کے مقابل اور ایک زرملان کے مقابل شامل ہیں۔ انگور اڈا کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا گیا۔ متعدد گاڑیاں اور اسلحہ قبضے میں لے لیے گئے۔پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت اور مذہبی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے افغان پرچم کو نہایت احترام کے ساتھ اتارا اور اپنا پرچم سر بلند کیا۔ یہ اقدام جنگی اصولوں اور دینی احترام کی زندہ مثال ہے۔ ایمانی جذبے سے سرشار پاکستانی افواج دشمن کی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دے رہی ہیں۔اس کشیدگی کے تناظر میں ایران نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی پیشکش کی ہے۔ مگر پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے سرحدی دراندازی، ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات اور دیگر قیادت نے افواج کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔یہ محدود پیمانے کی جوابی کارروائی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی افواج کسی بھی اشتعال کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ طالبان رجیم کو اب عقل سے کام لینا چاہیے، دہشت گردوں کو پناہ دینا بند کرے اور سرحدی امن کی طرف واپس آئے۔ ورنہ پاکستان کے پاس دفاعی اور جوابی آپشنز ختم نہیں ہوتے۔افواج پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد!٭

Exit mobile version