ریاست کے انصاف کا المیہ جہاں کچھ بچے گود میں کچھ دھوپ میں

تحریر: محمدانوربھٹی

بندن میاں آج حسبِ معمول محلے کے نکڑ پر اپنی مخصوص کرسی پر براجمان تھے حقہ ایک طرف رکھا تھا اور سامنے ٹھنڈی پڑی چائے کا کپ جیسے ریاستی انصاف کی علامت بنا ہوا تھا اوپر سے بھاپ اڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر ہاتھ لگاؤ تو معلوم ہوتا ہے کہ حرارت کب کی رخصت ہوچکی بندن میاں نے گلا کھنکارا اور بولے بھائیو اور بزرگو اور اے مستقبل کے ووٹرو سن لو یہ جو ہماری ریاست ہے نا یہ بڑی فیاض ماں ہے مگر شرط یہ ہے کہ آپ اس کے لاڈلے بچوں میں شامل ہوں اگر آپ لاڈلے ہیں تو آپ کے لیے ٹھنڈے کمرے ہیں جن کے اے سی گرمی میں بھی ایسے چلتے ہیں جیسے کشمیر کی ہوا چل رہی ہو آپ کے لیے بڑی بڑی گاڑیاں ہیں جن کے شیشے اتنے کالے کہ سورج بھی اندر آنے سے پہلے اجازت مانگے آپ کے لیے پروٹوکول ہے
انہوں نے گلا کھنکارا اور کہا بھائیو یہ جو ریاست ہے نا یہ بھی عجیب ماں ہے اس کے آنگن میں سب بچے برابر پیدا ہوتے ہیں مگر پلتے برابر نہیں کچھ کو وہ مخمل کی گود میں لٹاتی ہے اور کچھ کو دھوپ میں کھڑا رکھ کر صبر کا سبق دیتی ہے کچھ اس کے لاڈلے ہیں جن کیلئے ٹھنڈے کمروں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اے سی کی ہوا کبھی بند نہیں ہوتی بجلی کبھی ناراض نہیں ہوتی پانی کبھی غائب نہیں ہوتا اور اگر کبھی تقدیر کی ہلکی سی ٹھوکر لگ جائے تو قانون ان کے لیے نرم ہوجاتا ہے عدالت کے الفاظ بدل جاتے ہیں اور فیصلوں کی سیاہی بھی مہربان ہو جاتی ہے بندن میاں نے آنکھوں میں ہلکی سی چمک کے ساتھ کہا اور کچھ بچے وہ بھی ہیں جو اسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے مگر قسمت کے مارے سوتیلے کہلاتے ہیں ان کیلئے گرمی میں لوڈشیڈنگ ہے سردی میں گیس کی بندش ہے ہسپتال میں قطار ہے سکول میں ٹوٹی بینچ ہے دفتر میں سفارش کی شرط ہے عدالت میں تاریخ پر تاریخ ہے اور اگر وہ تھک کر سوال پوچھ لیں تو انہیں سمجھا دیا جاتا ہے کہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے قربانی دو صبر کرو یہی تمہارا امتحان ہے بندن میاں نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا عجیب انصاف ہے کہ امتحان ہمیشہ انہی کا ہوتا ہے جن کے پاس سہولت کم ہو اور اعزاز ہمیشہ انہی کو ملتا ہے جن کے پاس پہلے ہی سب کچھ ہو
بندن میاں نے بات آگے بڑھائی اور کہا لاڈلے بچوں کی کہانی بھی دلچسپ ہے ان کے لیے سرکاری وسائل دریا کی طرح بہتے ہیں بیرون ملک علاج کیلئے ٹکٹ تیار رہتے ہیں تعلیم کیلئے بہترین اداروں کے دروازے کھل جاتے ہیں کاروبار کیلئے قرضے ایسے ملتے ہیں جیسے عید کی عیدی اور اگر کاروبار میں نقصان ہو جائے تو بیل آؤٹ پیکج بھی آ جاتا ہے کیونکہ آخر ملک کی ترقی کا سوال ہے بندن میاں نے سر ہلایا اور کہا ادھر سوتیلا بچہ چھوٹا سا دکان کھولے تو پہلے لائسنس پھر ٹیکس پھر جرمانہ پھر معائنہ اور پھر کسی افسر کی مسکراہٹ جو دراصل خاموش اشارہ ہوتی ہے کہ کچھ اور بھی باقی ہے بندن میاں نے قہقہہ لگایا اور بولے یہاں دیانتداری غریب کی ذمہ داری ہے اور رعایت امیر کا حق
انہوں نے حقے کا کش لیا اور کہا ریاست کے لاڈلے جب سڑک پر نکلتے ہیں تو سائرن چیخ چیخ کر اعلان کرتے ہیں کہ حضور تشریف لا رہے ہیں ٹریفک رک جاتی ہے راستے صاف ہو جاتے ہیں اور قانون کنارے ہو جاتا ہے مگر سوتیلا بچہ اگر ایمبولینس میں ہو تو سائرن بجتا رہتا ہے اور گاڑیاں راستہ نہیں دیتیں کیونکہ اس کے ساتھ کوئی پروٹوکول نہیں بندن میاں نے گہری سانس لی اور کہا یہ فرق صرف سڑکوں پر نہیں عدالتوں میں بھی ہے وہاں انصاف کی دیوی آنکھوں پر پٹی باندھے کھڑی ضرور ہے مگر کان کھلے ہیں آواز پہچان لیتی ہے کہ نام کتنا وزنی ہے اگر نام بھاری ہو تو پٹی کے نیچے سے روشنی جھلکنے لگتی ہے اور اگر نام عام ہو تو اندھیرا اور گہرا ہو جاتا ہے بندن میاں نے سنجیدگی سے کہا احتساب بھی بڑا دلچسپ لفظ ہے لاڈلے کیلئے احتساب کا مطلب کمیٹی اور رپورٹ ہے اور سوتیلے کیلئے احتساب کا مطلب فوری گرفتاری اور فوری مثال
بندن میاں نے مزدور کا ذکر کیا اور کہا وہ صبح سے شام تک پسینہ بہاتا ہے اس کی کمر پر معیشت کا بوجھ ہے وہ ٹیکس بھی دیتا ہے بل بھی ادا کرتا ہے جرمانہ بھی بھگتتا ہے مگر ریاست کو اس کے حال سے زیادہ اس کی جیب کی فکر ہوتی ہے کیونکہ لاڈلوں کے ناز نخرے بھی تو اٹھانے ہیں نا بندن میاں نے طنزیہ انداز میں کہا بجٹ آتا ہے تو الفاظ بڑے خوبصورت ہوتے ہیں ریلیف ترقی خوشحالی مگر ریلیف کا راستہ اکثر انہی محلوں سے گزرتا ہے جہاں پہلے ہی روشنی زیادہ ہوتی ہے اور اندھیری گلیاں پھر بھی اندھیری رہتی ہیں انہوں نے کہا قربانی ہمیشہ اسی سے مانگی جاتی ہے جس کے پاس دینے کو کم ہو اور مراعات اسے دی جاتی ہیں جس کے پاس پہلے ہی بہت ہو
بندن میاں نے نوجوانوں کی بات کی اور کہا لاڈلے نوجوان کیلئے انٹرن شپ بھی ہے سفارش بھی ہے راستہ بھی ہے جبکہ سوتیلا نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے دروازے کھٹکھٹاتا ہے اور اسے تجربے کی شرط سنا دی جاتی ہے بندن میاں نے ہنستے ہوئے کہا تجربہ تو اسے قطاروں میں کھڑے رہ کر بھی ہو گیا ہے مگر وہ کسی سی وی میں درج نہیں ہوتا انہوں نے کہا ریاست جب اپنے بچوں میں فرق کرتی ہے تو دراصل اپنے مستقبل میں دراڑ ڈالتی ہے کیونکہ لاڈ پیار میں حد سے زیادہ نرمی بگاڑ پیدا کرتی ہے اور بے توجہی میں حد سے زیادہ سختی بغاوت کی چنگاری
انہوں نے ایک خواب کا ذکر کیا کہ میں نے دیکھا ریاست ایک بڑے صحن میں بیٹھی ہے ایک طرف لاڈلے بچے نرم قالینوں پر آم کھا رہے ہیں اور قوم کی خدمت پر تقریر کر رہے ہیں دوسری طرف سوتیلے بچے دھوپ میں اینٹیں اٹھا رہے ہیں اور انہی سے کہا جا رہا ہے کہ تم ہی ملک کا سہارا ہو بندن میاں نے آنکھ دبائی اور کہا دونوں کو برابر کہہ دینا آسان ہے مگر برابر بنا دینا مشکل انہوں نے کہا اصل طاقت عمارتوں میں نہیں اعتماد میں ہوتی ہے اگر سوتیلا بچہ بھی یہ محسوس کرے کہ قانون اس کیلئے ویسا ہی ہے جیسا لاڈلے کیلئے تو ریاست مضبوط ہو جائے گی
بندن میاں نے بات کو گہرا کرتے ہوئے کہا مسئلہ صرف معاشی نہیں اخلاقی بھی ہے جب لاڈلے دیکھتے ہیں کہ ان کیلئے قانون نرم ہے تو وہ قانون کو کھیل سمجھنے لگتے ہیں اور جب سوتیلے دیکھتے ہیں کہ ان کیلئے راستہ بند ہے تو وہ امید کھونے لگتے ہیں اور جس معاشرے میں امید مر جائے وہاں ترقی کے نعرے کھوکھلے ہو جاتے ہیں انہوں نے کہا ریاست کو ماں بننا ہے تو اسے سوتیلے لفظ کو لغت سے نکالنا ہوگا تعلیم اور علاج کو حق بنانا ہوگا انصاف کو سستا اور فوری بنانا ہوگا ٹیکس کو منصفانہ بنانا ہوگا اور سب سے بڑھ کر عزت کو برابر تقسیم کرنا ہوگا
بندن میاں نے محفل کی طرف دیکھا اور کہا میں یہ نہیں کہتا کہ لاڈلے بچے نہ ہوں ہر گھر میں ہوتے ہیں مگر ماں کی عظمت اس میں ہے کہ وہ کسی کو محروم نہ کرے اگر ایک کو ٹھنڈا کمرہ دے تو دوسرے کیلئے کم از کم سایہ تو فراہم کرے اگر ایک کیلئے پروٹوکول ہو تو دوسرے کیلئے کم از کم عزت تو ہو اگر ایک کیلئے بیرون ملک علاج ہو تو دوسرے کیلئے اپنے شہر کا ہسپتال تو بہتر ہو انہوں نے کہا ریاست جب تک اپنے وسائل کو چند ہاتھوں تک محدود رکھے گی تب تک نکڑ کی محفلوں میں میرے جیسے بندن میاں سوال اٹھاتے رہیں گے اور طنز کی چائے ٹھنڈی نہیں ہوگی
آخر میں بندن میاں نے حقے کا آخری کش لیا، دھواں آہستہ آہستہ فضا میں چھوڑا اور قدرے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا بات کا نچوڑ یہ ہے کہ ریاست کو لاڈ پیار کی یک طرفہ روش ترک کر کے انصاف کی سیدھی راہ اختیار کرنا ہوگی، اسے اپنے فیصلوں کے پلڑے واقعی برابر رکھنے ہوں گے، اسے ان آنکھوں میں پھر سے یقین جگانا ہوگا جو عرصۂ دراز سے محرومی کی دھوپ میں جھلس رہی ہیں، اس لیے کہ جو بچے مسلسل دھوپ میں کھڑے رکھے جائیں وہ یا تو سایہ ڈھونڈنا سیکھ لیتے ہیں یا پھر خود درخت بننے کا عزم کر لیتے ہیں، اور جب محروم لوگ خود سہارا بننے لگیں تو پرانے نظام کی ترتیب بدلتے دیر نہیں لگتی، بندن میاں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا میرا خواب کوئی بغاوت نہیں بلکہ توازن ہے، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ یہ دھرتی واقعی سب کی ماں بنے، یہاں کسی کو مراعات کا غرور نہ ہو اور کسی کو محرومی کا داغ نہ اٹھانا پڑے، یہاں عزت عہدوں سے نہیں کردار سے ملے، یہاں انصاف ناموں سے نہیں اصولوں سے ہو، اور یہاں مواقع چند دروازوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ہر دستک دینے والے کیلئے کھلیں، اگر ایسا ہو جائے تو ہمیں طنز کے تیر چلانے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے، تب گفتگو شکوے سے سبق میں بدل جائے گی اور شکایت کی جگہ شکر لے لے گا، اور نکڑ کی محفلوں میں تلخی کے بجائے اطمینان کی وہ خاموش مسکراہٹ ہوگی جو اس بات کی گواہ ہوگی کہ ریاست نے آخرکار اپنے سب بچوں کو ایک جیسا سمجھنا سیکھ لیا ہے۔

Exit mobile version