تحریر:الیاس محمد حسین
پاکستان غالباً دنیاکا واحدملک ہوگا جس کے حکمران مسلسل ترقی کے دعوے کرکے اتراتے پھرتے ہیں جبکہ نہ صرف عام آدمی خط ِ غربت سے نیچے جانے والوں کی تعدادمیں خوفناک اضافہ ہوتاجارہاہے بلکہ سرکاری اداروں، تھانوں،کورٹ کچہری اور سڑکوں پران کی تذلیل سرِ عام ہوتی رہتی ہے لیکن ان کے لئے کوئی جائے امان نہیں ہے کیا یہ خوفناک بات نہیں ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد پہنچ جانے سے 6 کروڑ 97 لاکھ افراد خط افلاس سے نیچے چلے گئے اور ان میں برابر اضافہ ہوتاچلاجارہاہے اب تووزارتِ خزانہ وزارتِ خزانہ نے غربت میں اضافے کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اس کا برملا اعتراف کرلیا کہ غریبوں کاکوئی پرسانِ حال نہیں مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ 19-2018ء میں غربت 21 عشاریہ 9 فیصد تھی جو 25-2024ء میں بڑھ کر 28 عشاریہ 9 فیصد تک پہنچ گئی، اسے پاکستان کو درپیش بحرانوں کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2019ء کے بعد کورونا وائرس، عالمی اجناس کی مہنگائی اور جغرافیائی کشیدگی نے پاکستانی معیشت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ 2022ء اور 2025ء کے سیلابوں نے دیہی علاقوں میں روزگار، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے تعاون سے 3 اصلاحاتی پروگرام کیے، جو طویل مدتی فوائد کے لیے قلیل مدتی دباؤ کا سبب بنے۔ دیہات ماحولیاتی بحرانوں اور بڑھتی لاگت جبکہ شہر مہنگائی اور سست معیشت سے متاثر ہوئے۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں غربت کا مقابلہ سماجی تحفظ، صوبائی اخراجات اور ہدف شدہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ بے مثال مہنگائی، کمزور معاشی نمو، IMF کے زیرِ اہتمام تین بیل ا و ئٹ پیکیجز، کووڈ-19 کی وبا، زرِ مبادلہ کی قدر میں شدید کمی اور دو سیلابوں کے پس منظر میں پاکستان میں غربت اور عدم مساوات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 2024-25 میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9فیصد تک پہنچ گئی۔پاورٹی ایسٹی میشن کمیٹی کے مطابق ملک کی 24 کروڑ آبادی میں سے 28.9 فیصد کے تازہ تخمینے کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 94 لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔غربت میں اضافے کے لحاظ سے سندھ سب سے اوپر ہے کیونکہ پی پی پی (PPP) کی زیرِ قیادت اس صوبے میں چھ سالوں کے دوران غربت کی سطح میں 8.1فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2019 میں یہ شرح 24.5 فیصد تھی، جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 32.6 فیصد ہوگئی ہے جو کہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔،دیہات میں غربت کی شرح28.2فیصد سے بڑھ کر 36.2فیصد ہوگئی ہے جبکہ شہری علاقوں میں غربت کی شرح11فیصد سیبڑھ کر 17.4فیصد ہو گئی ہے، ملک میں سب سے زیادہ غربت کا شکار صوبہ بلوچستان ہے جہاں غربت کی شرح47فیصد ہے، اس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں غربت کی شرح35.3فیصد، سندھ میں 32.3فیصد اورپنجاب میں غربت کے شکار افراد کی شرح23.3فیصد ہے، سال 2018-19میں صوبوں میں غربت کی شرح کے اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں 41.8فیصد، خیبر پخونخوا28.7فیصد، سندھ24.5فیصد اور پنجاب میں غربت کی شرح16.5فیصد تھی، وزارت منصوبہ بندی نے ملک میں آمدن اور غربت کے اعداد وشمار جار ی کردیئے ہیں یہ اعداد وشمار 2024-25کی بنیاد پر مرتب کیے گئے، ماہانہ رئیل اور اصل گھر یلوآمدن اور اخراجات میں بھی کمی آئی، مہنگائی، معاشی دباؤاور خریداری میں کمی کے باعث رئیل ماہانہ آمدن 35454روپے سے کم ہو کر 31127روپے پرآگئی ہے جبکہ گھریلو اخراجات بھی31711روپے سے کم ہو کر 29929روپے پر آگئے ہیں اگرچہ اصل میں آمدن 41545روپے سے بڑھ کر 82179روپے اور اخراجات 37159روپے سیبڑھ کر 79150روپے پر ہیں، رپورٹ کے مطا بق گزشتہ 8برسوں میں بیرونی اور اندرونی معاشی صورتحال کے باعث گھریلواخراجات پر شدید دباؤ آیااور غربت میں اضافہ ہوا،2024-25کے غربت سروے میں غربت کی لائن 8483روپے ماہانہ رکھی گئی جوکہ 2018-19میں 3757روپے تھی۔ جینی کوایفیشنٹ کے مطابق یہ شرح مالی سال 2019 کے 28.4 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 32.7 فیصد ہو گئی۔ صوبوں میں سندھ سرفہرست۔6 برس میں غربت میں 8.1 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 میں 32.6 فیصد ہو گئی۔پاوورٹی ایسٹی میشن کمیٹی کے جاری کردہ انداز وں میں ملکی و بین الاقوامی ڈونرز کے ماہرین شامل ہیں۔ یہ تخمینے ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے 2024-25 میں کئے گئے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) کی بنیاد پر مرتب کیے گئے۔غربت کی شرح 2019 میں 21.9 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 28.9 فیصد ہو گئی، یعنی 7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں قومی خزانے پر بڑھتاہوا بوجھ حکمرانوں کی عیاشیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار ختم کررہی ہیں جس کے سبب مہنگائی،بیروزگاری اور افراط ِ زرمیں اضافہ ہوتا چلاجارہاہے اور حکمران اپنے ہم وطنوں کو حیلوں بہانوں سے نچوڑنے کے درپے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں غربت کے مارے خودکشیاں کرنے پر مجبورہیں حکومت کے پاس عوام کی فلاح و بہبودکیلئے کوئی پروگرام نہیں جوایک المیہ سے کم نہیں جب تلک حکمران اپنی فضول خرچیاں بندنہیں کریں گے خوشحالی ممکن نہیں۔



