ستمبر 11, 2026

پنجاب حکومت نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 دوبارہ جاری کر دیا

پنجاب حکومت نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 کو دوبارہ نافذ کر دیا ہے اور اسے پنجاب اسمبلی کو بھجوا دیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت جائیدادوں کے غیر قانونی قبضے کو روکنے کے لیے سخت قوانین مرتب کیے گئے ہیں۔

آرڈیننس کے مطابق، ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں اسکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی جو جائیداد کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور فریقین کے بیانات قلمبند کرے گی۔ اگر معاملہ مصالحت سے حل ہوتا ہے تو تحریری معاہدہ ٹریبونل کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ غیر قانونی قبضہ کرنے والوں پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ، قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

آرڈیننس میں جعلسازی، دھوکہ دہی، جبر یا طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے، جس میں معاونت کرنے والوں کو ایک سے تین سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کو 5 سے 10 سال قید کی سزا دی جائے گی۔

مالک اب براہ راست متعلقہ ٹریبونل میں شکایت دائر کر سکے گا، جس کے بعد اسکروٹنی کمیٹی 30 دن میں رپورٹ ٹریبونل کو پیش کرے گی۔ مقدمہ زیر سماعت ہونے کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت یا منتقلی کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔