محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں کالعدم تنظیموں اور غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں 89 تنظیموں اور اداروں کے نام شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اقدام عوام کو غیر قانونی سرگرمیوں سے بچانے اور ریاست مخالف عناصر کی مالی معاونت روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم تنظیموں سے کسی بھی قسم کی معاونت کرنا جرم ہے، لہٰذا شہری غیر رجسٹرڈ اور کالعدم خیراتی اداروں کو زکوٰۃ، خیرات اور عطیات دینے سے گریز کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کی مالی امداد کرنے والے افراد قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔ مزید برآں، صوبے میں کام کرنے والے تمام خیراتی اداروں کے لیے پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زکوٰۃ اور عطیات صرف اُن اداروں کو دیں جو چیریٹی کمیشن سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔
محکمہ داخلہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ تنظیم یا غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جا سکے
جاری کردہ فہرست میں لشکر جھنگوی، سپاہ محمد پاکستان، جیش محمد، لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ، تحریک جعفریہ، القاعدہ، تحریک نفاذ شریعت محمدی، تحریک اسلامی، خدام الاسلام، تحریک طالبان پاکستان، اور داعش شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان لبریشن آرمی، سندھو دیش ریولیوشنری آرمی، پشتون تحفظ موومنٹ، تحریک لبیک پاکستان، زینبیون بریگیڈ اور حافظ گل بہادر گروپ بھی کالعدم قرار دیے گئے ہیں۔فہرست میں مختلف خیراتی و رفاہی ناموں سے کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں جن میں الرحمت ٹرسٹ بہاولپور، الفرقان ٹرسٹ کراچی، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، الا اختر ٹرسٹ، معمار ٹرسٹ، اور الحمد ٹرسٹ نمایاں ہیں۔
