تحریر: محمدانوربھٹی
بندن میاں حسب معمول اپنی پرانی سی چارپائی پر نیم کے گھنے درخت کے سائے تلے بیٹھے تھے شام کی ہوا میں رمضان کی آمد کی مہک گھلی ہوئی تھی مگر اس مہک کے ساتھ بازاروں کی گرانی اور گھروں کی تنگی کا بوجھ بھی تیر رہا تھا بیٹھک میں خاموشی اس وقت ٹوٹی جب ایک نوجوان نے جھجکتے ہوئے سوال کیا بندن میاں لوگ کہتے ہیں بھکاریوں کو نہ دیں تو پھر کس کو دیں ہمیں سفید پوش نظر نہیں آتے آخر سفید پوش کون ہیں بندن میاں نے عینک کو ذرا سا اوپر کیا آنکھوں میں ٹھہری ہوئی روشنی کے ساتھ بولے بیٹا سفید پوش وہ نہیں جس کے کپڑے سفید ہوں سفید پوش وہ ہے جس کی غیرت سفید ہو جس کی خودداری بے داغ ہو جس کے گھر میں فاقہ ہو مگر دروازہ بند ہو جس کی آنکھوں میں نمی ہو مگر ہاتھ دعا کے لیے اٹھیں سوال کے لیے نہیں تم کہتے ہو وہ نظر نہیں آتے میں کہتا ہوں ہماری آنکھوں نے دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ بیٹا سفید پوش شور نہیں کرتے وہ قطار نہیں بناتے وہ چیخ کر اپنی ضرورت نہیں سناتے وہ اپنی غربت کو چادر کی طرح لپیٹ کر رکھتے ہیں کہ کہیں کسی کی نگاہ ان کے زخموں تک نہ پہنچ جائے جو تمہارے گھر پانی سپلائی کرتا ہے جو ٹوٹی ہوئی لائن کو جوڑ کر تمہیں سکون دیتا ہے اور خود ٹوٹے ہوئے حالات میں جیتا ہے وہ سفید پوش ہے بینک کے باہر کھڑا سیکیورٹی گارڈ جو سارا دن دھوپ میں جلتا ہے اور رات کو بچوں کی فیس کا حساب لگاتے ہوئے خاموش ہو جاتا ہے وہ سفید پوش ہے تمہارے گھر کام کرنے والی وہ خاتون جو اپنے آنچل میں آنسو باندھ کر آتی ہے اور تمہارے برتنوں کی چمک میں اپنی محرومی چھپا دیتی ہے وہ سفید پوش ہے گلی کے نکڑ پر غبارے بیچنے والا بچہ جس کے ہاتھوں میں رنگین خواب ہیں مگر جیب میں سکوں کی کھنک نہیں وہ سفید پوش ہے کباڑ خریدنے والا جو تمہارے بے کار سامان میں اپنے بچوں کی روزی روٹی تلاش کرتا ہے وہ سفید پوش ہے تیز دھوپ میں سبزی بیچنے والا بوڑھا جس کی کمر جھک چکی ہے مگر غیرت سیدھی کھڑی ہے وہ سفید پوش ہے روزے کی حالت میں موٹر سائیکل پر کھانا پہنچانے والا نوجوان جو دوسروں کے دسترخوان آباد کرتا ہے اور اپنے گھر سادہ پانی سے افطار کرتا ہے وہ سفید پوش ہے چوک میں بیٹھ کر جوتے پالش کرنے والا جو تمہارے جوتوں کی گرد صاف کرتا ہے اور اپنی قسمت کی گرد اندر سمیٹ لیتا ہے وہ سفید پوش ہے گلی کا خاکروب جو تمہاری گندگی اٹھاتا ہے مگر اپنی عزت زمین پر نہیں گرنے دیتا وہ سفید پوش ہے پارک کا مالی جو پھولوں کو سنوارتا ہے اور اپنے خوابوں کو پانی دیتا ہے وہ سفید پوش ہے مسجد کا امام جو معمولی تنخواہ پر پورا گھر چلاتا ہے اور ہر نماز میں دوسروں کے لیے دعا کرتا ہے وہ سفید پوش ہے ورکشاپ میں کام کرنے والے کم عمر بچے جن کے ہاتھوں میں کھلونوں کی جگہ اوزار ہیں اور آنکھوں میں عمر سے پہلے کی سنجیدگی ہے وہ سفید پوش ہیں اینٹ سیمنٹ اور لوہے کے بیچ پسینہ بہاتا مزدور جو دوسروں کے لیے گھر بناتا ہے اور خود کرایہ کے مکان میں رہتا ہے وہ سفید پوش ہے کسی گھر کا واحد کفیل جو سب کا سہارا ہے اور اپنی تھکن کو مسکراہٹ میں چھپا لیتا ہے وہ سفید پوش ہے اور بیٹا اپنے خاندان کے چہروں کو بھی پڑھو وہاں بھی کئی سفید پوش ہوں گے وہ چچا جوبیمار رہتا ہے مناسب آمدنی نہیں ہے مگر کبھی کسی سے مدد نہیں مانگتے۔ وہ خالہ وہ چچی وہ مامی اور وہ پھوپھی جو سلائی مشین کی آواز میں پریشانی چھپا دیتی ہیں وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے در در نوکری ڈھونڈتا ہے مگر گھر آ کر ہنس دیتا ہے یہ سب سفید پوش ہیں سفید پوش وہ ہے جو مانگنے سے پہلے مر جانا بہتر سمجھتا ہے سفید پوش وہ ہے جو بچوں کے سامنے اپنی بے بسی کو دیوار کی اوٹ میں رکھ دیتا ہے سفید پوش وہ ہے جو مہمان کے لیے بہترین سالن پکاتا ہے اور خود سادہ روٹی کھا لیتا ہے سفید پوش وہ ہے جو کرایہ وقت پر دیتا ہے مگر اپنے علاج کو ٹالتا رہتا ہے سفید پوش وہ ہے جو بچوں کی کتابیں خرید لیتا ہے مگر اپنے لیے جوتے نہیں لیتا سفید پوش وہ ہے جو ہر تقریب میں صاف ستھرے کپڑوں میں آتا ہے مگر اندر سے ٹوٹا ہوا ہوتا ہے
بندن میاں نے ذرا توقف کیا اور لہجہ میں سنجیدگی گھول دی بیٹا ایک اور سچ سن لو آج کل ایک نیا رواج چل نکلا ہے کہیں کوئی مال دار شخصیت کہیں کوئی انسانی حقوق کا علمبردار کہیں کوئی صاحب عہدہ پانچ کلو کا تھیلا ہاتھ میں لے کر کیمروں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے پریس بلایا جاتا ہے روشنی سیدھی اس غریب کے چہرے پر ڈالی جاتی ہے جس نے برسوں اپنی سفید پوشی کو بچا کر رکھا ہوتا ہے اور ایک لمحے میں اس کی غیرت کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا کی دیوار پر سجا دی جاتی ہے لوگ واہ واہ کرتے ہیں تصویریں وائرل ہوتی ہیں کیپشن لکھے جاتے ہیں خدمت خلق مگر بندن میاں کہتے ہیں بیٹا یہ خدمت کم اور تشہیر زیادہ ہوتی ہے یہ راشن کم اور منظر زیادہ ہوتا ہے یہ ہمدردی کم اور اپنی نیکی کا اشتہار زیادہ ہوتا ہے یاد رکھو جب دینے والا لینے والے سے زیادہ نمایاں ہو جائے تو سمجھ لو نیت کے ترازو میں کمی آ گئی ہے سفید پوش کی سب سے بڑی دولت اس کی عزت ہے اگر تم نے اس کے ہاتھ میں تھیلا دینے سے پہلے اس کے چہرے پر کیمرہ رکھ دیا تو تم نے اس کی بھوک تو شاید کم کر دی مگر اس کی غیرت کو زخمی کر دیا جو شخص واقعی دینا چاہتا ہے وہ اندھیرے میں دروازہ کھٹکھٹاتا ہے وہ تصویر نہیں بنواتا وہ اعلان نہیں کرتا وہ اپنے نام کی تختی نہیں لگاتا وہ بس یہ چاہتا ہے کہ لینے والے کی آنکھ میں شرمندگی نہ ہو سکون ہو اور اگر کسی دن حالات پلٹ جائیں اور وہ خود اسی قطار میں کھڑا ہو تو کوئی اس کے چہرے کی بے بسی کو تماشا نہ بنائے غربت کا علاج راشن سے ہو جاتا ہے مگر تذلیل کا کوئی مرہم نہیں ہوتا اس لیے اگر دینا ہے تو اس طرح دو کہ لینے والا سمجھے یہ اللہ کا بندوبست ہے کسی انسان کی نمائش نہیں۔
بندن میاں کی آواز اب نرم ہو گئی بیٹا سفید پوش کو تلاش کرنا عبادت ہے اس کی عزت بچانا صدقہ ہے اس کی ضرورت سمجھ لینا بصیرت ہے اور اس کے دروازے تک چپکے سے پہنچ جانا انسانیت ہے اگر تم نے کسی کے گھر خاموشی سے راشن رکھ دیا اور وہ تمہارے نام سے بے خبر رہا تو تم کامیاب ہو اگر تم نے کسی بچے کی فیس ادا کر دی اور وہ اسے قدرت کا کرم سمجھتا رہا تو یہی اصل نیکی ہے اگر تم نے کسی کی دوا خرید دی اور اس کا سر بلند رہا تو یہی اصل خدمت ہے اگر تم نے کسی کے گھر بجلی کا بل ادا کر دیا اور اسے یہ معلوم ہی نہ ہوا کہ کس نے کیا تو تم نے دل جیت لیا سفید پوش وہ ہیرے ہیں جو مٹی میں چھپے ہیں انہیں تلاش کرنا آنکھ کا نہیں دل کا کام ہے ان کی خاموشی میں شور ہوتا ہے ان کی مسکراہٹ میں دراڑ ہوتی ہے ان کے لہجے میں تھکن ہوتی ہے تم اگر واقعی دینا چاہتے ہو تو پہلے اپنے دل کی آنکھ کھولو اپنے آس پاس کے چہروں کو پڑھو ان کے لفظوں کے پیچھے چھپی ہوئی آہ سنو ان کے ہنسنے میں لرزتی ہوئی مجبوری کو محسوس کرو اور پھر اس طرح دو جیسے تم نے کچھ دیا ہی نہیں بلکہ اپنا قرض چکایا ہو کیونکہ دینے والا بڑا نہیں ہوتا لینے والے کی خودداری بڑی ہوتی ہے اور جس نے خودداری کو بچا لیا اس نے اصل انسانیت کو بچا لیا بندن میاں نے آخر میں بیٹھک کے سب لوگوں کی طرف دیکھا اور کہا یاد رکھو بھکاری تو آواز لگا کر مانگ لیتا ہے مگر سفید پوش کی آواز اس کے سینے میں دفن ہوتی ہے اگر تم اس خاموش صدا کو سن لو تو سمجھو تمہارا دل زندہ ہے اور زندہ دل ہی اصل روزہ دار ہوتا ہے رمضان کا اصل پیغام یہی ہے کہ رحمت بنو مگر منظر نہ بنو سہارا بنو مگر خبر نہ بنو ہاتھ دو مگر کیمرہ نہ دو اور سفید پوش کی عزت کو اپنی نیکی سے زیادہ عزیز رکھو کیونکہ جس دن نیکی کو شہرت کی لاٹھی کا سہارا دینا پڑ جائے اس دن سمجھ لو نیت کمزور ہو گئی اور جس دن تم نے کسی سفید پوش کی آنکھ میں آنسو آنے سے پہلے اس کی ضرورت پوری کر دی اس دن سمجھ لو تم نے واقعی روزہ رکھا تم نے واقعی عبادت کی تم نے واقعی انسان ہونے کا حق ادا کیا اور یہی بندن میاں کی بیٹھک کا فیصلہ ہے
