تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں اپنی پرانی سی بیٹھک میں حقے کا کش لیتے ہیں دھواں آہستہ آہستہ فضا میں گھلتا ہے اور نگاہیں کہیں دور جما کر کہتے ہیں کہ انسان اور کتے کا زوال کسی حادثے کی طرح اچانک نہیں آتا بلکہ یہ ایک خاموش سفر ہوتا ہے جو تب شروع ہوتا ہے جب انسان اپنے ضمیر کی لگام خود کھول کر دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور تب وہ اپنوں کے دروازے پر کھڑا ہو کر غیروں کے اشاروں پر بھونکنے لگتا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ آوارہ کتے کا بھونکنا اس کی فطرت ہے مگر انسان جب بھونکنے لگے تو سمجھ لو اس نے اپنی فطرت بیچ دی ہے وہ اپنوں کی خاموش محبت کو بوجھ اور غیروں کی سرگوشیوں کو دانش سمجھنے لگتا ہے اس کے لہجے میں تلخی آ جاتی ہے اور آنکھوں میں وہ چمک آ جاتی ہے جو سچ کی نہیں بلکہ مفاد کی ہوتی ہے وہ ان ہاتھوں پر بھی دانت آزمانے لگتا ہے جنہوں نے کل تک اسے تھاما ہواتھا وہ ان رشتوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے جن کی بنیاد اعتماد پر تھی بندن میاں کہتے ہیں کہ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی زبان تلوار بن جاتی ہے اور وہ ضمیر کی ڈھال اتار پھینکتا ہے پھر انسان دلیل نہیں ڈھونڈتا صرف اشارے دیکھتا ہے اور اشارے دینے والے اکثر وہی ہوتے ہیں جن کا نہ ماضی مشترک ہوتا ہے نہ مستقبل وہ صرف لمحہ استعمال کرتے ہیں اور انسان اس لمحے میں اپنی پوری پہچان داؤ پر لگا دیتا ہے۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ ایسے لوگ خود کو بہت چالاک سمجھتے ہیں مگر دراصل وہ سب سے آسان شکار ہوتے ہیں کیونکہ جو شخص اپنوں کے خلاف بولنے پر آمادہ ہو جائے وہ کل خود بھی کسی اور کے اشارے پر نشانہ بن سکتا ہے وقت گزرتا ہے محفلیں بدلتی ہیں اشارے دینے والے نئے آ جاتے ہیں اور پرانے اشارے ماضی کی فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں مگر جو لفظ اپنوں کے خلاف نکلے ہوتے ہیں وہ کبھی دفن نہیں ہوتے وہ دلوں میں زخم بن کر رہ جاتے ہیں بندن میاں کہتے ہیں کہ انسان جب یہ بھول جاتا ہے کہ خاموشی بھی ایک زبان ہے اور وفا بھی ایک موقف تو پھر وہ صرف شور پیدا کرتا ہے ایسا شور جو وقتی طور پر داد تو پا لیتا ہے مگر بھرم ،اعتماد اور عزت کھو دیتا ہے پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب وہی انسان تنہا بیٹھا ہوتا ہے محفل خالی ہوتی ہے اشارے دینے والے کہیں اور مصروف ہوتے ہیں اور اپنوں کی آنکھوں میں وہ اعتماد نہیں رہتا جو کبھی اس کا سرمایہ تھا بندن میاں کہتے ہیں کہ تب انسان کو سمجھ آتی ہے کہ اس نے بولنے کی آزادی نہیں بلکہ اپنی حرمت کا سودا کیا تھا وہ سوچتا ہے کہ کاش میں نے ایک لمحہ ٹھہر کر سوچ لیا ہوتا کاش میں نے ہر سرگوشی کو سچ نہ مانا ہوتا کاش میں نے اپنوں کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا ہوتا مگر وقت کا مزاج یہ ہے کہ وہ کاش کو قبول نہیں کرتا وہ صرف انجام دکھاتا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ کتے کی وفاداری کے تو لوگ قصے سناتے ہیں مگر انسان کی بے وفائی پر معاشرے کھڑے ہوتے ہیں اور خاندان بکھرتے ہیں اور رشتے ٹوٹتے ہیں اسی لیے یاد رکھیے کہ خاموشی ہمیشہ شکست نہیں ہوتی اور بولنا ہمیشہ جرات نہیں ہوتا اصل جرات یہ ہے کہ انسان اشاروں کے ہجوم میں بھی اپنی سمت پہچان لے۔ اصل وفا یہ ہے کہ انسان مفاد کے شور میں بھی اپنوں کی آواز سن سکے بندن میاں آخر میں حقہ رکھ کر بس اتنا کہتے ہیں کہ جو شخص دوسروں کے اشاروں پر اپنوں پر بھونکتا ہے وہ نہ کتا رہتا ہے نہ انسان وہ صرف ایک مثال بن جاتا ہے ایک ایسی مثال جس سے سیکھا تو جا سکتا ہے مگر اس پر فخر نہیں کیا جا سکتا بندن میاں کہتے ہیں کہ اصل المیہ یہ نہیں کہ انسان غلطی کرتا ہے بلکہ اصل سانحہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی کو وفاداری کا نام دے دیتا ہے اور پھر دلیل اخلاق اور رشتے سب ایک ایک کر کے قربان کرتا چلا جاتا ہے کیونکہ جب انسان دوسروں کے اشاروں پر اپنوں پر بھونکنے لگتا ہے تو وہ صرف زبان کا استعمال نہیں کرتا وہ دراصل اپنے ماضی پر حملہ کرتا ہے اپنی جڑیں کاٹتا ہے اور اپنے ہی سائے کو دشمن سمجھنے لگتا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ ایسے لوگ اکثر خود کو بہت حق پر سمجھتے ہیں ان کے پاس کہانیاں ہوتی ہیں وضاحتیں ہوتی ہیں اور شکووں کی لمبی فہرست ہوتی ہے مگر ان کے پاس صرف ایک چیز نہیں ہوتی اور وہ ہے سچ کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ وہ ہر تعلق کو نفع نقصان کے ترازو میں تولتے ہیں اور جب ترازو ایک پلڑے میں جھک جائے تو دوسرا پلڑا بے وقعت ہو جاتا ہے چاہے اس میں ماں کی دعا ہو باپ کی محنت ہو یا بھائی کی خاموش قربانی بندن میاں کہتے ہیں کہ معاشرے میں فساد کی ابتدا ہمیشہ بڑی تقریروں سے نہیں ہوتی بلکہ چھوٹی سرگوشیوں سے ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ ذہن میں زہر گھول دیتی ہیں اور انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید اپنوں کی نیت ہی خراب تھی شاید خاموشی سازش تھی شاید برداشت کمزوری تھی اور یوں وہ ان لوگوں کے قریب ہو جاتا ہے جو اسے صرف اس وقت تک عزیز رکھتے ہیں جب تک وہ بھونکتا رہے بندن میاں کہتے ہیں کہ اشاروں پر چلنے والا انسان یہ نہیں دیکھتا کہ اشارے دینے والے خودکبھی سامنے آ کر بات نہیں کرتے وہ ہمیشہ پیچھے رہتے ہیں تاکہ کل کو ذمہ داری بھی کسی اور کے سر ڈال سکیں پھر وہ دن بھی آتا ہے جب یہی انسان معاشرے میں تنہا کھڑا ہوتا ہے اس کے گرد لوگ تو ہوتے ہیں مگر اپنے نہیں ہوتے باتیں بہت ہوتی ہیں مگر سچ نہیں ہوتا اور شور بہت ہوتا ہے مگر سکون نہیں ہوتا بندن میاں کہتے ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ اس نے جیتنے کے چکر میں سب کچھ ہار دیا تھا اپنوں کی نظر میں وقار غیروں کی نظر میں اعتبار اور اپنے دل میں چین وہ سوچتا ہے کہ کاش میں نے ایک لمحہ رک کر اپنے ضمیر سے پوچھ لیا ہوتا کہ یہ جو میں کہہ رہا ہوں کیا واقعی میرا ہے یا کسی اور کی لکھی ہوئی سطر ہے مگر بندن میاں مسکرا کر کہتے ہیں کہ ضمیر کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ وقت پر سن لیا جائے تو نجات بن جاتا ہے اور دیر سے سنا جائے تو صرف ملامت رہ جاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ اپنوں کو نیچا دکھا کر اوپر آنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زیادہ دیر اوپر نہیں رہتے کیونکہ جس سیڑھی کی بنیاد بے وفائی پر ہو وہ وزن برداشت نہیں کرتی بندن میاں کہتے ہیں کہ کتے کی وفاداری پر انسان کو رشک آتا ہے مگر انسان کی بے وفائی پر خود انسان ہی آنکھیں چرا لیتا ہے کیونکہ سچ یہ ہے کہ بھونکنا آسان ہے مگر خاموش رہ کر حق پر قائم رہنا مشکل شور مچانا سہل ہے مگر تعلق نبھانا صبر مانگتا ہے بندن میاں آخر میں لہجہ نرم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تم واقعی انسان رہنا چاہتے ہو تو ہر اشارے پر ردعمل دینا چھوڑ دو ہر سرگوشی کو فیصلہ نہ بناؤ اور ہر خاموشی کو جرم نہ سمجھو کیونکہ اپنوں پر بھونکنے والا آخرکار کسی کا نہیں رہتا نہ ان کا جن کے لیے وہ بھونکا تھا اور نہ ان کا جن پر وہ بھونکا تھا اس لیے بہتر یہی ہے کہ انسان بھونکنے کے بجائے سوچنا سیکھ لے کیونکہ سوچ انسان کو انسان بناتی ہے اور اشاروں پر چلنا اسے صرف ایک مثال ایک عبرت اور ایک کہانی بنا دیتا ہے جسے بندن میاں جیسے لوگ بیٹھک میں بیٹھ کر دوسروں کو سناتے ہیں تاکہ شاید کوئی اور اس انجام سے بچ جائے بندن میاں کہتے ہیں کہ جب انسان اپنے کسی رشتے پر بھونکتا ہے تو وہ صرف زبان استعمال نہیں کر رہا ہوتا بلکہ وہ اپنے انتہائی قریبی خونی رشتوں کی وفاداری کو بھی امتحان میں ڈال رہا ہوتا ہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر برے وقت میں ساتھ کھڑے رہتے ہیں رہبر اور وفا دار ہوتے ہیں اور ایک ایک کرکے وہ رشتے انسان سے دور ہو جاتے ہیں کیونکہ انسان یا تو اپنی اصل حالت پہچان کر انسانیت میں اپنی زندگی گزار سکتا ہے یاپھر آوارہ کتے کی طرح بھونک کر اپنی زندگی کتے کی زندگی سے بھی گر کر گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ یہ عمل صرف وقتی مفاد کے لیے ہو سکتا ہے مگر نتائج ہمیشہ دیرپا اور کڑوے ہوتے ہیں کیونکہ جو رشتے ٹوٹ جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے اور جو اعتماد ختم ہو جاتا ہے وہ صدیوں بھی نہیں جڑ سکتا اسی لیے اصل انسان وہی ہے جو اشاروں اور سرگوشیوں میں بھی اپنوں کی آواز سن سکے اور بھونکنے کے بجائے سوچنے کی ہمت رکھے یہی وہ سبق ہے جو بندن میاں کی بیٹھک میں دھویں کے ساتھ گھلتا ہوا ہر کش سنا دیتا ہے تاکہ کوئی اور اپنی فطرت کو ضائع نہ کرے اور انسانیت کی راہ پر قائم رہے۔
