نومبر 1, 2026

امریکا کے ساتھ مذاکرات کسی حد تک مثبت رہے، علی لاریجانی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کسی حد تک مثبت رہے ہیں اور بظاہر امریکا کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔

عمان کے دارالحکومت مسقط کے دورے کے موقع پر دیے گئے بیان میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کی بنیاد پر حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی، تاہم آئندہ مراحل پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ سفارتی عمل جاری ہے اور آنے والے دن اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار عمان ادا کر رہا ہے۔

دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بھی عندیہ دیا ہے کہ امریکا اور ایران جوہری معاہدے کے معاملے پر لچک دکھا رہے ہیں اور کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مثبت پیش رفت ہے کہ امریکا واضح حدود کے اندر ایران کو یورینیئم افزودگی کی اجازت دینے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔

تاہم حاقان فیدان نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کا دائرہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام تک بڑھایا گیا تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں اور خطے میں ایک نئی جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔