اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی سے متعلق سہولیات اور روزمرہ معمولات کی تفصیلی رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا معائنہ ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے، جبکہ کسی ماہر امراض چشم سے بھی طبی معائنہ کروانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کے باعث مزید کتابیں فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔
سکیورٹی سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی حفاظت پر کسی قسم کے خدشات کا اظہار نہیں کیا۔ ان کے زیر استعمال کمپاؤنڈ میں تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، اگرچہ ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے کے حصے تک ہے تاہم سیل کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں۔
روزمرہ معمول کے مطابق وہ صبح تقریباً 9:45 پر ناشتہ کرتے ہیں، 11:30 بجے قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کے بعد محدود آلات کے ساتھ ورزش کرتے ہیں۔ دوپہر 1:15 پر غسل کے بعد انہیں محفوظ کمپاؤنڈ میں چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ دوپہر کا کھانا 3:30 سے 4 بجے کے درمیان فراہم کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وہ صبح ناشتے میں کافی، دلیہ اور کھجوریں استعمال کرتے ہیں جبکہ دوپہر کا کھانا ہفتہ وار منصوبہ بندی کے تحت دیا جاتا ہے، جس کے اخراجات خاندان برداشت کرتا ہے۔ خوراک میں مرغی، گوشت، دال اور اسنیکس شامل ہوتے ہیں۔ انہیں بوتل بند پانی بھی فراہم کیا جاتا ہے اور وہ مکمل کھانے کے بجائے پھل، دودھ اور کھجوروں کو ترجیح دیتے ہیں۔
سیل کی تفصیلات کے مطابق اندر تین ہائی وولٹیج بلب، پنکھا، بلوور ہیٹر، دو میزیں، چارپائی، کرسی اور ایک چھوٹا ریک موجود ہے۔ 32 انچ کا ٹی وی دیوار پر نصب ہے تاہم وہ خراب پایا گیا۔ سیل میں تقریباً 100 کتابیں، جائے نماز، تسبیح، ڈمبلز اور ذاتی استعمال کی اشیاء موجود ہیں۔ ٹوائلٹ کو چار فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا ہے جبکہ گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی بینائی نارمل تھی تاہم بعد ازاں آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے سے شدید متاثر ہوئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شکایات کے باوجود بروقت مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ بعد میں پمز اسپتال کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر محمد عارف نے معائنہ کیا اور علاج کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک محدود رہ گئی۔
