اکتوبر 29, 2026

​شاہرگِ پاکستان اور قومی ضمیر کی صدا

ہر سال پانچ فروری کو پاکستان بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہونا محض ایک رسمی اعلان نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور دعائیہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں، سرکاری تعطیل کے ذریعے اجتماعی یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے اور عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر اس دیرینہ مسئلے کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی تقدیروں سے جڑا ہوا سوال ہے، جس کا منصفانہ حل جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کی جڑیں 1947 کی تقسیمِ ہند سے جا ملتی ہیں جب ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل پر اختلافات نے ایک طویل تنازع کی صورت اختیار کر لی۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دینے کا ذکر موجود ہے، تاہم دہائیاں گزر جانے کے باوجود یہ معاملہ اپنی جگہ قائم ہے۔ وقت کے ساتھ یہ تنازع دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بھی بنتا رہا اور عام کشمیریوں کی روزمرہ زندگی کو بھی شدید طور پر متاثر کرتا رہا، جس کے باعث انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ پاکستان کی سرکاری پالیسی کے مطابق وہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے تناظر میں دیکھتا ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا حامی ہے۔ اسی مؤقف کی بنیاد پر پاکستان نے مختلف عالمی فورمز پر یہ مسئلہ بارہا اٹھایا، اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں سفارتی کوششیں کیں اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کیا۔پاکستان کے نزدیک یہ سفارتی سرگرمیاں محض رسمی کارروائیاں نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا حصہ ہیں جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو اس تنازع کی سنگینی سے آگاہ کرنا ہے۔ سفارتی میدان کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جانب سے سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اظہار بھی ہوتا رہا ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر اسی حمایت کی علامت بن چکا ہے جس کے ذریعے پاکستانی قوم کشمیری عوام کو یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ وہ ان کے دکھ درد میں شریک ہے۔ حکومتی بیانات ہوں یا عوامی اجتماعات، میڈیا کی خصوصی نشریات ہوں یا سول سوسائٹی کی سرگرمیاں ان سب کے ذریعے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ کشمیر کا معاملہ پاکستان کے قومی شعور میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہر سال پانچ فروری کو عالمی برادری سے یہ مطالبہ بھی دہرایا جاتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مؤثر کردار ادا کرے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ بہت سے مبصرین کے نزدیک جنوبی ایشیاء میں دیرپا امن اسی صورت ممکن ہے جب اس تنازع کو طاقت کے بجائے مکالمے، انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل کیا جائے۔ اسی تناظر میں یومِ یکجہتی کشمیر نہ صرف ایک یاد دہانی ہے بلکہ ایک سوال بھی کہ کیا دنیا اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟ یومِ یکجہتی کشمیر دراصل ایک قومی پیغام اور اجتماعی ضمیر کی آواز ہے جو ہر سال یہ باور کراتی ہے کہ پاکستان آزادی کشمیر کے حوالے سے اپنا کردار زیادہ تر سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر ادا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور ایک ایسے حل کا حامی ہے جو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو اور خطے میں امن و استحکام کا باعث بنے۔ یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ تنازعات کا مستقل حل صرف طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بات چیت، برداشت اور عالمی قوانین کی پاسداری میں پوشیدہ ہے اور یہی وہ پیغام ہے جسے یومِ یکجہتی کشمیر کی اصل روح کہا جاتا ہے۔ اللہ کریم کشمیریوں کو جلد آزادی جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔ آمین