شام ہونے کو ہے اور انسان اب بھی راستہ ڈھونڈ رہا ہے

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں اس شام جھیل کے کنارے کھڑا تھا اس کے سامنے پانی پھیلا تھا جس میں لال سورج آہستہ آہستہ گھل رہا تھا جیسے کسی بوڑھے خواب کی آخری سانسیں پانی میں تحلیل ہو رہی ہوں درخت خاموش کھڑے تھے ان کی شاخوں میں پرندوں کے گھونسلے تھے کچھ پرندے واپس لوٹ آئے تھے اور کچھ قطاریں بنائے افق کی طرف اڑ رہے تھے بندن میاں نے اپنی بوسیدہ شال کو ذرا سنبھالا اور گہری سانس لی اس کی آنکھوں میں یہ منظر صرف منظر نہیں تھا یہ اس کی پوری زندگی کا خلاصہ تھا وہ سوچ رہا تھا کہ یہ پرندے کتنے خوش نصیب ہیں شام ہو تو جانتے ہیں کہاں جانا ہے رات ہو تو معلوم ہوتا ہے کہاں ٹھہرنا ہے ان کے لیے جھیل بھی گھر ہے درخت بھی گھر ہیں آسمان بھی ان کی چھت ہے اور زمین ان کی ماں ہے اور ہم انسان جو خود کو عقل کا شہنشاہ کہتے ہیں ہماری ساری دانائی اس سوال پر آ کر مر جاتی ہے کہ شام ہونے کو ہے تو ہم کہاں جائیں گے بندن میاں کو یاد آیا کہ وہ بھی کبھی ایک گھر کا حصہ تھا ایک صحن تھا جس میں شام کے وقت چولہا جلتا تھا ماں کی آواز آتی تھی بچوں کی ہنسی گونجتی تھی اور سورج ڈوبتا تو دل مطمئن ہوتا تھا کہ رات کسی چھت کے نیچے گزرے گی مگر پھر وقت نے ایسا موڑ لیا کہ مکان بڑھتے گئے اور گھر کم ہوتے گئے بندن میاں نے شہروں کو پھیلتے دیکھا مگر دلوں کو سکڑتے دیکھا اس نے فلک بوس عمارتیں بنتے دیکھیں مگر انسان کو جھکتے نہیں دیکھا اس نے دیکھا کہ مکانوں کی اس دلدل میں ہر شخص دوسرے کو دھکیل رہا ہے تاکہ خود کسی کونے میں جگہ بنا سکے اور اسی دھکم پیل میں سب بے گھر ہوتے جا رہے ہیں بندن میاں کو اپنی جوانی یاد آئی جب اس نے ایک نوکری کے لیے شہر کا رخ کیا تھا اس وقت اس کے پاس ایک بستر تھا ایک صندوق تھا اور امیدوں سے بھرا دل تھا وہ سمجھتا تھا کہ شہر اسے جگہ دے دے گا مگر شہر نے اسے صرف بھیڑ دی جہاں ہر چہرہ اجنبی تھا اور ہر راستہ بے رحم اس نے دیکھا کہ یہاں سب کے پاس پتے ہیں مگر ٹھکانے نہیں ہیں سب کے پاس کمرے ہیں مگر سکون نہیں ہے سب کے پاس چھتیں ہیں مگر سایہ نہیں ہے بندن میاں نے کئی راتیں فٹ پاتھ پر گزاری تھیں کئی شامیں بس اسٹاپ پر کاٹی تھیں اور کئی صبحیں اس امید پر شروع کی تھیں کہ شاید آج کوئی دروازہ کھل جائے گا مگر ہر دروازہ اندر سے بند تھا کیونکہ سب کو ڈر تھا کہ کہیں کوئی اور ان کی تھوڑی سی جگہ نہ چھین لے بندن میاں نے پرندوں کی قطار کو دیکھا جو نظم میں اڑ رہی تھی اور اسے لگا جیسے یہ پرندے انسانوں کو آئینہ دکھا رہے ہوں کہ دیکھو ہم کتنے آزاد ہیں ہم میں کوئی بڑا نہیں کوئی چھوٹا نہیں کوئی امیر نہیں کوئی غریب نہیں ہم سب ایک ہی آسمان کے مسافر ہیں اور ایک ہی زمین پر اترتے ہیں بندن میاں کو خیال آیا کہ انسان نے سرحدیں بنائیں ہیں پرندوں نے نہیں انسان نے ملک بنائے ہیں پرندوں نے نہیں انسان نے ملکیت کا تصور ایجاد کیا ہے پرندوں نے نہیں پھر بھی سکون پرندوں کے پاس ہے انسان کے پاس نہیں بندن میاں کو یاد آیا کہ اس نے ایک بار کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ مہاجر پرندے ہزاروں میل کا سفر صرف اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ جہاں وہ جا رہے ہیں وہاں کوئی ان سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم کون ہو تم کہاں سے آئے ہو تمہارے پاس کاغذ ہیں یا نہیں اور انسان جہاں بھی جائے اس سے پہلے اس کی شناخت پوچھی جاتی ہے اس کے کاغذ دیکھے جاتے ہیں اور پھر بھی اسے قبول نہیں کیا جاتا بندن میاں نے اس لال سورج کو دیکھا جو اب پانی میں تقریباً غائب ہو چکا تھا اور اس کے دل میں ایک عجیب سا درد اٹھا کہ اس کی زندگی کا سورج بھی اسی طرح آہستہ آہستہ ڈوب رہا ہے اور اس کے پاس کوئی جھیل نہیں جہاں وہ خود کو تحلیل کر سکے کوئی درخت نہیں جس پر وہ گھونسلہ بنا سکے کوئی آسمان نہیں جو اسے اپنی بانہوں میں لے لے بندن میاں نے سوچا کہ شاید انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ جہاں بھی جاتا ہے اپنا بوجھ ساتھ لے جاتا ہے اپنے خوف اپنے لالچ اپنی نفرتیں اور اپنی انا اور پرندے صرف خود کو لے کر اڑتے ہیں اسی لیے ہلکے ہیں اسی لیے بلند ہیں بندن میاں نے شہر کی طرف نظر دوڑائی جہاں عمارتوں کی قطاریں تھیں جن میں ہزاروں لوگ رہتے تھے مگر کوئی کسی کو نہیں جانتا تھا ہر کھڑکی بند تھی ہر دروازہ مقفل تھا اور ہر دل تنہا تھا بندن میاں نے سوچا کہ یہ بھی ایک قسم کی ہجرت ہے مگر ایسی ہجرت جس میں منزل نہیں ہوتی اس میں صرف بھاگنا ہوتا ہے کسی سے یا خود سے بندن میاں کو اپنی ماں کی بات یاد آئی جو کہتی تھی کہ بیٹا انسان کو صرف روٹی کپڑا اور مکان نہیں چاہیے اسے ایک جگہ چاہیے جہاں وہ بے خوف ہو کر سر رکھ سکے اور آج بندن میاں کو لگا کہ دنیا میں سب کچھ ہے مگر وہ جگہ نہیں ہے اس نے دیکھا کہ پرندے جہاں اترتے ہیں وہیں گھونسلہ بنا لیتے ہیں اور سو جاتے ہیں اور انسان پوری زندگی ایک گھونسلہ بنانے میں لگا دیتا ہے اور پھر بھی نیند اس سے روٹھ جاتی ہے بندن میاں نے اس شام خود سے سوال کیا کہ اگر یہ پرندے انسان ہوتے تو کیا وہ بھی اتنے بے چین ہوتے کیا وہ بھی مکانوں کی دلدل میں پھنس جاتے کیا وہ بھی شام ہونے پر یہی پوچھتے کہ ہم کہاں جائیں گے بندن میاں کو لگا کہ شاید اس سوال کا جواب کہیں باہر نہیں ہے یہ جواب انسان کے اندر دفن ہے اور جب تک انسان اپنے اندر گھر نہیں بناتا تب تک کوئی مکان اسے ٹھکانا نہیں دے سکتا بندن میاں نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اس نے خود کو ایک پرندہ تصور کیا جسے کسی شناخت کی ضرورت نہیں کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں کسی ملک کی شہریت کی ضرورت نہیں وہ بس اڑتا ہے کیونکہ آسمان اس کا ہے وہ اترتا ہے کیونکہ زمین اس کی ہے اور وہ سو جاتا ہے کیونکہ رات اس کی ماں ہے بندن میاں کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا اور جھیل کے پانی میں گم ہو گیا جیسے لال سورج گم ہوا تھا اس نے سوچا کہ شاید ایک دن انسان بھی یہ سیکھ لے گا کہ زندگی کا مقصد صرف مکان بنانا نہیں گھر بنانا ہے اور گھر اینٹوں سے نہیں رشتوں سے بنتا ہے اور جب تک ہم ایک دوسرے کے لیے جگہ نہیں بنائیں گے تب تک کوئی جگہ ہماری نہیں ہو گی شام ہو چکی تھی پرندے دور جا چکے تھے سورج ڈوب چکا تھا اور بندن میاں اکیلا جھیل کے کنارے کھڑا تھا مگر اس کے دل میں پہلی بار یہ احساس تھا کہ اگرچہ اس کے پاس کوئی مکان نہیں ہے مگر اس کے پاس یہ سوال ہے اور شاید یہی سوال اسے انسان بناتا ہے کیونکہ جو سوال کر سکتا ہے وہی بدل بھی سکتا ہے اور بندن میاں نے آہستہ سے کہا کہ شام ہونے کو ہے مگر شاید ایک دن ایسا آئے گا جب ہم جان لیں گے کہ ہمیں کہاں جانا ہے اور یہ کہتے ہوئے وہ اندھیرے میں چل پڑا اس امید کے ساتھ کہ کسی نہ کسی دل میں اس کے لیے بھی ایک گھونسلہ بن جائے گا شام کے بعد رات آتی ہے اور رات کے ساتھ خاموشی مگر یہ وہ خاموشی نہیں ہوتی جو سکون دے بلکہ یہ وہ خاموشی ہوتی ہے جو سوالوں کو اور اونچا کر دیتی ہے بندن میاں جھیل کے کنارے سے چل پڑا تھا اندھیرا پھیل رہا تھا مگر شہر کی روشنیوں نے اندھیرے کو بھی ایک شور میں بدل دیا تھا سڑک پر گاڑیوں کی قطاریں تھیں جن میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے جتنے کبھی دل سے نہیں تھے ہر چہرہ کسی منزل کی جلدی میں تھا مگر کسی کے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا کہ وہ منزل آخر ہے کیا بندن میاں نے محسوس کیا کہ انسان نے راستے تو بنا لیے ہیں مگر رکنے کی جگہیں بھول گیا ہے وہ چلتے ہیں اس لیے نہیں کہ جانتے ہیں کہاں جانا ہے بلکہ اس لیے کہ رکنے سے ڈرتے ہیں کہیں رُک گئے تو سوال سامنے آ جائے گا اور سوال سے زیادہ انسان کسی چیز سے نہیں گھبراتا بندن میاں ایک فٹ پاتھ پر آ بیٹھا جہاں ایک پرانا سا اسٹریٹ لیمپ جل رہا تھا اس کی زرد روشنی میں گرد اڑتی دکھائی دے رہی تھی جیسے وقت خود ذرات میں بکھر رہا ہو اس نے سوچا کہ یہ فٹ پاتھ بھی ایک عجیب مخلوق ہے دن میں یہ گزرگاہ ہے رات میں بستر بن جاتا ہے یہاں لوگ سوتے ہیں مگر کوئی ان کے خواب نہیں دیکھتا بندن میاں نے اپنی شال کو مضبوطی سے لپیٹا اور آسمان کی طرف دیکھا ستارے مدھم تھے جیسے وہ بھی اب انسان کی باتوں پر یقین نہیں کرتے اسے یاد آیا کہ کبھی وہ بھی ستاروں سے باتیں کرتا تھا تب جب اس کے پاس ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کی چھت ٹپکتی تھی مگر دل بھرا ہوا تھا اس نے سوچا کہ عجیب حساب ہے زندگی کا چھت مضبوط ہو گئی تو دل میں دراڑیں پڑ گئیں مکان پکا ہو گیا تو رشتے کچے رہ گئے بندن میاں نے دیکھا کہ ایک نوجوان موبائل پر بات کرتا ہوا گزر رہا تھا آواز بلند تھی مگر لفظ کھوکھلے تھے شاید وہ بھی کسی کو بتا رہا تھا کہ وہ ٹھیک ہے کیونکہ اب انسان کا سب سے بڑا جھوٹ یہی ہے کہ میں ٹھیک ہوں بندن میاں کو خیال آیا کہ انسان نے وقت کو بھی مکانوں کی طرح قید کر لیا ہے گھڑیوں میں کیلنڈروں میں ڈیڈ لائنوں میں مگر روح کا وقت کہیں کھو گیا ہے اسی لیے انسان ہمیشہ تھکا ہوا ہے چاہے وہ کچھ کرے یا نہ کرے اس نے سوچا کہ پرندے وقت کو نہیں گنتے وہ موسم کو پہچانتے ہیں ہوا کو سمجھتے ہیں اور اسی فہم پر اپنا سفر طے کرتے ہیں انسان نے عقل کو تو بڑھا لیا مگر فہم کھو دی رات گہری ہو چکی تھی بندن میاں نے شہر کے ایک پارک میں پناہ لی جہاں چند اور بے چہرہ کہانیاں بینچوں پر سو رہی تھیں کوئی اخبار اوڑھے تھا کوئی بوری کوئی خاموشی بندن میاں نے محسوس کیا کہ یہ سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے نہیں مگر درد میں سب ایک جیسے ہیں اس نے سوچا کہ شاید یہی وہ خفیہ رشتہ ہے جو انسانوں کو جوڑتا ہے دکھ مگر ہم اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں بندن میاں نے آنکھیں بند کیں تو اسے اپنی ماں پھر یاد آئی وہ کہتی تھی کہ بیٹا اگر دل میں جگہ ہو تو خدا کہیں نہ کہیں ٹھہرا دیتا ہے بندن میاں نے پہلی بار اس بات کو پوری طرح سمجھا اسے لگا کہ اصل بے گھری سڑک پر سونا نہیں ہے اصل بے گھری یہ ہے کہ دل میں کسی کے لیے جگہ نہ ہو اور کوئی دل میں جگہ نہ دے اس نے آہستہ سے سر بینچ پر رکھا رات نے اسے اپنی گود میں لے لیا اس رات بندن میاں نے خواب دیکھا کہ وہ پھر پرندہ بن گیا ہے وہ اڑ رہا ہے نہ کوئی سرحد ہے نہ کوئی سوال نہ کوئی شناخت وہ جہاں تھکتا ہے وہیں اتر جاتا ہے اور زمین اس سے یہ نہیں پوچھتی کہ تم کس کے ہو صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو سورج ابھی نکلا نہیں تھا مگر مشرق میں ہلکی سی روشنی تھی بندن میاں مسکرایا اسے لگا کہ شاید یہی امید ہے بہت بڑی نہیں بہت روشن نہیں مگر اندھیرے کو چیرنے کے لیے کافی ہے وہ اٹھا اور چل پڑا اسے اب بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جائے گا مگر اسے یہ یقین ہو گیا تھا کہ جب تک سوال زندہ ہے راستہ بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے اور شاید یہی انسان ہونے کی پہلی شرط ہے چلتے رہنا سوال کے ساتھ امید کے ساتھ اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک دن شام صرف ڈر نہیں ہوگی بلکہ واپسی کا نام بن جائے گا اور وہ چلتا رہا سوال کے ساتھ امید کے ساتھ مگر اب اس کے دل میں ایک بات صاف ہو چکی تھی یہ سوال صرف اس کا نہیں یہ ہر اس انسان کا ہے جو شام ہونے پر بھی راستہ ڈھونڈ رہا ہے بندن میاں کو محسوس ہوا کہ انسان کی اصل پہچان اس کے مکان سے نہیں اس کے رویّے سے ہوتی ہے اس بات سے کہ وہ دوسرے انسان کے لیے کتنی جگہ چھوڑتا ہے اسے لگا کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں مہاجر ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ سڑکوں پر بھٹک رہے ہیں اور کچھ دلوں کے اندر بندن میاں نے آہستہ سے خود سے کہا ہم نے مسئلہ یہ سمجھ لیا ہے کہ دنیا میں جگہ کم ہے حالانکہ مسئلہ یہ ہے کہ دل تنگ ہو گئے ہیں اگر انسان انسان کو تھوڑی سی جگہ دے دے تو شاید شام اتنی بھاری نہ ہو اور رات اتنی اجنبی نہ لگے اسے اب یقین تھا کہ اصل اصلاح قوانین سے نہیں نعروں سے نہیں بلکہ ایک انسان کے دوسرے انسان کے قریب آنے سے شروع ہوتی ہے اور شاید اسی لیے زندگی نے اسے سوال دیا ہے کیونکہ سوال انسان کو جگانے کے لیے ہوتے ہیں سلانے کے لیے نہیں وہ مسکرایا اور اندھیرے میں چل پڑا اس یقین کے ساتھ کہ اگر آج نہیں تو کل کسی نہ کسی دل میں انسان کے لیے ابھی بھی جگہ باقی ہے۔

Exit mobile version