تحریر: محمد انور بھٹی
مرد کی زندگی ایک نہایت حسین مگر نہایت نازک سفرہےجس میں قدم قدم پر رشتوں کی خوشبو بھی ہے اور ذمہ داریوں کا بوجھ بھی۔مرد کے کندھوں پر وہ بوجھ رکھا گیا ہے جسے اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں وہ کبھی مسکراہٹ کےساتھ گھر والوں کے دکھ سمیٹتا ہےکبھی تھکن کے باوجود بچوں کی خواہشوں کو پورا کرتا ہےکبھی اپنی خواہش قربان کرکے کسی کا مان رکھتا ہےتوکبھی اپنی نیند چھوڑ کر سب کی راحت کا سامان کرتا ہے۔دنیا اس کے کندھوں پر کھڑی رہتی ہےمگر اسے شکایت کا حق بھی کم ہی ملتا ہے۔اس کے باوجود مرد اپنی زندگی محبت اور حکمت کے ساتھ جینے کی کوشش کرتا ہے اور یہی کوشش اسے عظمت عطا کرتی ہے۔مرد کی زندگی میں رشتوں کی کشش ہمیشہ مختلف سمتوں میں کھینچتی ہے۔ ماں اپنا حق رکھتی ہے کیونکہ وہی وہ ہستی ہے جس نے اسے جنم دیا، پالا،بڑھایا، اپنی دعاؤں سے نوازا اور قدم قدم پر اسے سنبھالا۔ ماں کی محبت بے لوث اور بے مثال ہے مگر کبھی کبھی وہ محبت ایسی شدت بھی رکھتی ہے جو بیٹے کو اس کے دوسرے رشتوں سے دور کرنے کا باعث بن جائے۔ لیکن مرد وہی ہے جو ماں کا دل بھی نہ توڑے اور باقی رشتوں کا وقار بھی قائم رکھے۔ وہ ماں سے محبت کرتا ہے مگر اس محبت کو عدل کی دیوار سے گزار کر باقی رشتوں تک پہنچاتا ہے تاکہ کسی کے حق میں کمی نہ آئے۔وہ ماں کا خادم بن کر نہیں بلکہ اس کا سہارا بن کر جیتا ہے۔ ماں کے دل میں بیٹے کے لیے جو مقام ہےاسے برقرار رکھنا بھی مرد کی ذمہ داری ہے اور اسی مقام کی نزاکت کے ساتھ باقی رشتوں کا توازن قائم رکھنا بھی اس کی اصل دانائی ہے۔پھر بہن کا رشتہ ہےجو گھر کی نرمیت، محبت اور بھولی سی خواہشوں کا مجموعہ ہے۔ بہن کبھی اپنی ضد میں بھائی سے چھوٹی چھوٹی خوشیاں مانگتی ہے اور کبھی اپنے حق میں انصاف چاہتی ہے۔ مرد کے لیے بہن کے رشتے میں تحفظ اور اعتماد سب سے اہم ہوتاہے۔ بھائی کی ایک نظرایک بات ایک رویہ بہن کے دل میں مضبوطی بھی پیدا کر سکتا ہے اور کمزوری بھی۔ مرد کا فرض ہے کہ بہن کو تحفظ کا وہ احساس دے جو زندگی بھر اس کا سرمایہ بنے مگر مرد کو اس رشتے میں بھی توازن قائم رکھنا ہوتا ہے تاکہ بہن سے محبت کرتے ہوئے وہ بیوی ماں یا دیگر رشتوں کے حقوق متاثر نہ ہونے دے۔ مرد کی اصل فہم یہی ہے کہ وہ ہر رشتے کی ضرورت کو پہچان کر فیصلہ کرے نہ جذباتی ہو کر کسی ایک طرف جھکے اور نہ بے توجہی سے کسی رشتے کو تکلیف دے۔پھر بیوی کا رشتہ ہے جو مرد کے لیے زندگی کا سب سے قریبی اور سب سے نازک رشتہ ہوتا ہے۔ بیوی ایک ایسا رشتہ ہے جو اپنی محبت اور اعتماد کے ساتھ مرد کی زندگی میں داخل ہوتی ہےمگر اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر ایک ایسی دنیا میں قدم رکھتی ہے جہاں سب کچھ نیا ہوتا ہے۔ وہ مرد کے لہجے، رویے اور محبت سے اپنا گھر بساتی ہے۔ مرد کا فرض ہے کہ وہ بیوی کے احساس کو سمجھےاس کے جذبات کی قدر کرے اس کی عزت کو اپنی عزت جانےاور اس کے لیے محبت احترام اور سکون کا ماحول فراہم کرے۔ بیوی کے دل میں ہزار امیدیں ہوتی ہیں ہزار خوف ہزار خواہشیں اور ہزار سوال۔ مرد کی ایک نظرایک لہجہ ایک مسکراہٹ ان سب کو جواب دے سکتی ہے۔ مگر اگر مرد اپنی ذمہ داری نہ پہچانے تو یہی رشتہ زخم بھی دے سکتا ہے۔ اس لیے اصل مرد وہ ہے جو بیوی کو نہ صرف عزت دے بلکہ اس کی عزت کو گھر کے ہر فرد سے منوائے۔وہ بیوی کو وہ مقام دے جو اللہ اور رسول ﷺ نے دیا ہےرحمت، محبت، سکون اور احترام کا مقام پھر بیٹی کا رشتہ ہے جو اللہ کی رحمت ہے روشنی ہےگھر کی خوشی ہے۔ مرد جب بیٹی کو محبت دیتا ہےاس کے دل میں اعتماد پیدا کرتا ہےاس کے لیے مضبوط دیوار بنتا ہےتو اللہ اس مرد کے گھر میں برکت نازل کرتا ہے۔ بیٹی کی مسکراہٹ میں رحمت ہے اس کے ہاتھوں میں دعا ہےاس کی زندگی میں نرمی ہے۔ مرد کو چاہیے کہ اپنے گھر کی بیٹی کو کبھی خوف میں نہ رکھےکبھی سختی سے نہ دبائےکبھی اس کے دل میں یہ احساس نہ چھوڑے کہ وہ بوجھ ہے۔ اصل مرد بیٹی کو عزت دیتا ہےاس کی تعلیم، کردار، مستقبل، عزت اور تحفظ کی مکمل ذمہ داری لیتا ہے۔ جو مرد بیٹی کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے، اللہ اس کی زندگی آسان کر دیتا ہے۔مرد کے پاس یہ سب رشتے اپنی پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ماں اپنی محبت کے ساتھ پکارتی ہے بیوی اپنی ضرورتوں اور جذبات کے ساتھ بہن اپنی اعتماد کی طلب میں اور بیٹی اپنی معصوم خواہشوں کے ساتھ۔ یہ سب اپنے اپنے حق میں درست ہیں۔مگر مرد کو ان سب کو ایک ہی لڑی میں پرو کر چلنا ہوتا ہے۔ یہی اس کی اصل حکمت، اصل دانش اور اصل امتحان ہے۔ایک مرد کو کبھی سخت نہیں ہونا چاہیے کہ گھر بکھر جائے اور کبھی حد سے زیادہ نرم نہیں ہونا چاہیے کہ گھر کے فیصلے ہاتھ سے نکل جائیں۔ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان میں نرمی رکھے، لہجے میں محبت، اور دل میں برداشت۔ گھریلو سکون کا راز یہی ہے کہ مرد اپنے غصے کو قابو کر لے اپنی تھکن گھر کے دروازے پر چھوڑ آئے اور گھر میں داخل ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو محبت سے نبھائے۔مرد کی زندگی کی اصل خوبصورتی اس کی برداشت میں ہے۔ وہ بہت سی باتوں کو نظرانداز کرکے بڑے بڑے مسائل کو روک لیتا ہے۔ اس کی خاموشیاں بھی گھر کو جوڑتی ہیں اس کی نرم گفتگو بھی دلوں کو شفا دیتی ہےاور اس کی حکمت بھی رشتوں میں پائیداری پیدا کرتی ہے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی پریشانیوں کو گھر پر مسلط نہ کرے۔ روزگار کی تھکن معاشی دباؤ دفتری تناؤیہ سب حقیقت ہیں مگر ان کو بچوں یا بیوی کے دل پر ڈال دینے سے گھر کا ماحول کڑوا ہو جاتا ہے۔ مرد اگر چاہے تو اپنی ایک مسکراہٹ ایک نرم جملہ اور ایک حوصلہ افزا رویہ سے پورے گھر کی فضا بدل سکتا ہے۔اصل مرد وہ ہے جو اپنے فیصلوں میں عدل قائم رکھے۔ اگر ماں بولے تو بیوی کا حق نہ دب جائے اگر بیوی کچھ کہے تو ماں کا مقام کم نہ ہو اگر بہن کوئی بات کرے تو بیوی کی عزت مجروح نہ ہو اور اگر بیٹی کوئی خواہش کرے تو گھر کا نظام نہ ٹوٹے۔ مرد کے لیے عدل ایک ستون ہے۔ جب وہ انصاف کرتا ہے تو نہ رشتے ٹوٹتے ہیں نہ گھر کے دل بکھرتے ہیں۔ اس کے ہر قدم پر اللہ کی مدد شامل ہو جاتی ہےکیونکہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔زندگی کا اصل حسن توازن میں ہے۔ مرد جب زندگی میں توازن قائم رکھتا ہے تو اس کے گھر میں سکون نازل ہوتا ہے۔ مرد کی نرمی عورت کو مضبوط کرتی ہے مرد کا اخلاق بچوں کی تربیت کرتا ہے مرد کی دیانت رشتوں کو محفوظ کرتی ہےاور مرد کا وقار اس کے خاندان کو عزت دیتا ہے۔مرد کو چاہیے کہ وہ نہ اپنے جذبات دبا کر پتھر بن جائے اور نہ جذباتی ہو کر کمزور وہ ایک مضبوط درخت کی طرح ہو جس کی چھاؤں میں سب کو راحت ملےمگر جس کی جڑیں اپنی جگہ مضبوط ہوں۔ اس کا کردار گھر کی بنیاد ہونا چاہیےاس کا اخلاق خاندان کی پہچان، اس کی محبت رشتوں کی ڈوراور اس کی دانش زندگی کا رہنما۔مرد کو کبھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ گھر کا بادشاہ نہیں ذمہ دار ہے۔ وہ مالک نہیں بلکہ محافظ ہے۔ وہ حاکم نہیں قائد ہے۔ وہ جس طرح اپنے گھر والوں سے پیش آئے گا اسی طرح اس کا گھر پروان چڑھے گا۔ اس کی ایک بات ایک ردعمل ایک فیصلہ گھر کی فضا بدل سکتا ہے۔ اس لیے اسے ہر بات سوچ کر کرنی چاہیےہر فیصلہ عدل سے کرنا چاہیےاور ہر رشتہ محبت سے نبھانا چاہیے۔آخر میں مرد کا اصل مقام یہی ہے کہ وہ رشتوں کو جوڑتا ہے گھروں کو آباد کرتا ہےدلوں کو سکون دیتا ہے اور وہ بڑے بڑے بوجھ اٹھا کر بھی مسکرا دیتا ہے۔ اس کی عظمت خاموش خدمت میں ہےاس کی طاقت تحمل میں اس کی شان وفا میں اور اس کا وقار عدل میں۔ اگر مرد اپنی زندگی کو ان اصولوں پر گزارے تو اس کا گھر جنت کا ٹکڑا بن جاتا ہےاس کے رشتوں میں محبت ہوتی ہےاس کے فیصلوں میں حکمت ہوتی ہے اور اس کے وجود میں وقار ہوتا ہے۔اللہ ہم سب مردوں کو انصاف، محبت، برداشت، نرمی اور حکمت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
