صحت، سیاست اور ریاست

تحریر:محمدمظہررشید چودھری (03336963372)

پاکستان میں سیاست پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ یہ نعروں، وعدوں اور اعلانات تک محدود رہتی ہے، جبکہ عملی سطح پر عام آدمی کی زندگی میں بہتری کم ہی آتی ہے۔ خاص طور پر صحت جیسے حساس شعبے میں ماضی کی غفلت نے عوام کو سرکاری نظام سے بدظن کیا۔ ایسے ماحول میں چیف منسٹر ڈائیلسز پروگرام کے تحت ٹی ایچ کیو ہسپتال رینالہ خورد میں جدید ڈائیلسز سنٹر کا قیام محض ایک طبی سہولت نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام بھی ہے۔’ریاست اب چھوٹے شہروں کو نظر انداز نہیں کرے گی‘۔صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر کی جانب سے ڈائیلسز سنٹر کا افتتاح ایک رسمی تقریب سے کہیں بڑھ کر تھا۔ اس تقریب میں ممبر قومی اسمبلی ندیم عباس ربیرہ ،ممبر صوبائی اسمبلی چودھری جاوید علاﺅالدین،چیف ایگزیکٹو آفیسرڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر فواد احمد افتخار، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ یہ منصوبہ کسی ایک فرد یا محکمے کا نہیں بلکہ ایک مربوط حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔ سیاست میں اصل وزن بھی اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب فیصلے کاغذ سے نکل کر زمین پر نظر آئیں۔پاکستان کے صحت کے نظام کا سب سے بڑا مسئلہ ہمیشہ عدم مساوات رہا ہے۔ بڑے شہروں میں جدید ہسپتال، نجی شعبے کی یلغار اور سہولتوں کی بھرمار، جبکہ تحصیل اور دیہی سطح پر بنیادی علاج بھی ایک خواب بن جاتا تھا۔ گردوں کے مریضوں کے لیے تو یہ صورتحال اور بھی سنگین رہی، کیونکہ ڈائیلسز جیسے مہنگے اور مسلسل علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرنا اکثر خاندانوں کو معاشی طور پر تباہ کر دیتا تھا۔

رینالہ خورد میں ڈائیلسز سنٹر کا قیام اس عدم توازن کو چیلنج کرتا ہے۔یہاں سیاست کا پہلو نمایاں ہو جاتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا یہ موقف کہ صحت کی سہولتیں صرف دارالحکومت تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ خواجہ عمران نذیر کے بیان میں یہ واضح تھا کہ حکومت وقتی کریڈٹ لینے کے بجائے نظام کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دس مزید ڈائیلسز مشینوں کی فراہمی کا اعلان اسی تسلسل کی کڑی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ منصوبہ بندی وقتی نہیں بلکہ مستقبل کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہے۔سیاسی طور پر دیکھا جائے تو یہ منصوبہ پنجاب حکومت کے لیے ایک اہم امتحان بھی ہے۔ عوام اب محض افتتاحی تختیوں سے متاثر نہیں ہوتے، وہ نتائج چاہتے ہیں۔ اسی لیے صوبائی وزیر صحت کا مریضوں سے براہ راست گفتگو کرنا اور سہولتوں کے بارے میں خود جانچ پڑتال کرنا ایک مثبت سیاسی اشارہ ہے۔ یہ طرزِ عمل بیوروکریسی اور سیاست دانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔کیتھ لیب کے منصوبے کا اعلان اس تقریب کا سب سے اہم سیاسی پہلو تھا۔ دل کے مریضوں کے لیے اینجیوگرافی اور اینجیوپلاسٹی جیسی سہولتوں کا تحصیل سطح پر دستیاب ہونا نہ صرف صحت کے نظام میں انقلاب لا سکتا ہے بلکہ حکومت کے سیاسی بیانیے کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ ماضی میں ایسے منصوبے اکثر فائلوں میں دب کر رہ جاتے تھے، مگر اگر یہ منصوبہ طے شدہ مدت میں مکمل ہو جاتا ہے تو یہ پنجاب حکومت کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی تصور کی جائے گی۔خواجہ عمران نذیر کی جانب سے نئے ڈاکٹرز، کنسلٹنٹس اور سپیشلسٹس کی بھرتی اور ’کے پی آئیز‘ کے نفاذ کا اعلان بھی محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں پر سب سے بڑا الزام ناقص کارکردگی اور عدم احتساب کا رہا ہے۔ اگر واقعی کارکردگی کو جانچنے کا موثر نظام نافذ ہو جاتا ہے تو یہ ایک ایسا قدم ہوگا جو سیاسی مخالفت کے باوجود عوامی حمایت حاصل کرے گا۔یہاں ضلعی انتظامیہ کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد انعم علی خان ،ایم ایس ڈاکٹر سیدہ حمیدہ علی اور ہسپتال انتظامیہ کی بروقت تکمیل پر تعریف دراصل اس گورننس ماڈل کی توثیق ہے جس میں سیاسی قیادت اور انتظامی افسران ایک ہی سمت میں کام کرتے ہیں۔ سیاست اسی وقت نتائج دیتی ہے جب اختیارات اور ذمہ داریوں میں ہم آہنگی ہو۔اس تقریب میں مریضوں کی دعائیں شاید سب سے طاقتور سیاسی لمحہ تھیں۔ سیاست دان اکثر ووٹ بینک کی بات کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ صحت کی سہولتیں وہ خاموش سرمایہ ہوتی ہیں جو دیرپا سیاسی اعتماد پیدا کرتی ہیں۔ ایک ایسا مریض جو ہر ہفتے ڈائیلسز کے لیے شہر بدلنے پر مجبور تھا، اب اپنے ہی علاقے میں علاج پا رہا ہے۔ یہ تجربہ کسی بھی سیاسی تقریر سے زیادہ موثر ہوتا ہے۔البتہ، یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ یہ منصوبے تبھی کامیاب سمجھے جائیں گے جب ان کا تسلسل برقرار رہے۔ مشینوں کی دستیابی کے ساتھ ساتھ عملہ، ادویات، شفاف نظام اور مستقل نگرانی بھی لازمی ہے۔ سیاسی طور پر یہ حکومت کے لیے ایک موقع بھی ہے اور خطرہ بھی۔ موقع اس لیے کہ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوئے تو عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا، اور خطرہ اس لیے کہ کسی بھی کوتاہی کی صورت میں یہی منصوبے تنقید کا مرکز بن سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال رینالہ خورد میں ڈائیلسز سنٹر کا قیام پنجاب کی سیاست میں ایک نئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ترقیاتی سیاست نعروں سے نکل کر انسانی ضرورتوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ اگر یہ سمت برقرار رہی تو صحت کا شعبہ نہ صرف عوامی فلاح کا ذریعہ بنے گا بلکہ ایک مضبوط اور مثبت سیاسی شناخت بھی تشکیل دے گا۔یہ محض ایک ہسپتال کا افتتاح نہیں، بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ سیاست اب انسان کی زندگی کے قریب آ رہی ہے

Exit mobile version