کالمکار: جاوید صدیقی
ھم پاکستانیوں کا سب سے بڑا معاشرتی سنگین مسلۂ تعلقات رشتہ داری ھے میرے معزز قارئین ماں کا اپنے قریبی رشتہ داروں خصوصا اپنے سسرالیوں کی طرف دکھایا گیا تعصب جو بچوں کی رشتوں کے لئے ساری عمر کا نظریہ بدل کر رکھ دیتا ہے۔ فرض کریں ایک ماں ہے اس کو اپنے شوہر کی بہنوں اور بھائیوں اور ان کی بیویوں سے مسئلہ ہے، ایسے میں وہ اپنے بچوں کے سامنے اس چیز کا برملا اعتراف کرتی ہے کہ آپ کی فلاں چچی، تائی یا پھپھو آپ کی دشمن ہے، توایسے میں وہ بچہ جب بڑا ہوگا تو اس کو سب سے پہلا مسئلہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھی سے ہوگا چونکہ لڑکیاں ماں سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں تو ایسی لڑکیوں کو سب سے پہلا مسئلہ اپنی بھابھی سے ہوگا، وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی بھابھی سے نفرت کریں گی اور اس کو ناپسند کریں گی۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے اپنی ماں کو ایسا کرتے دیکھا تھا، اب یہاں سے ٹریننگ شروع ہوتی ہوتی جب ان بچیوں کی شادی تک پہنچتی ہے تو وہ تب تک مکمل ماں بن چکی ہوتی ہیں۔ اب شوہر کو سب سے پہلے وہ یہ بات پڑھائیں گی کہ تمہارے بھائی تمہارے خیر خواہ نہیں ہیں، بہنیں اچھی نہیں ہیں اور ماں باپ تمہیں لوٹ رہے ہیں اور اپنے بچے پیدا ہونے کے بعد یہ جنریشنل ٹراما جاری رہتا ہے۔ اس لئے اگر آپ ایک والدین ہیں تو اپنے بچوں کے سامنے اپنے کسی قسم کے رشتہ داروں کی برائی مت کریں، ان کو خود سب کو آزمانیں دیں اور پھر فیصلہ کرنے دیں کون ان کے لئے اچھا ہے اور کون برا۔ اپنے بچوں میں اپنا جنریشنل ٹراما کبھی منتقل نا کریں بلکہ اسے خود پر فل سٹاپ لگانے کی کوشش کریں۔ آج کے ترقی یافتہ کمپیوٹرائز الیکٹرونک دور میں بھی انسانی جنس کی حِس میں وہی رد عمل پایا جاتا ھے جو سادہ لوح زمانے کے انسانوں میں تھا۔ یہی سبب ھے کہ دین محمدی ﷺ میں خونی رشتوں میں باہمی اتفاق و اتحاد ایثار و قربانی اور احساسات و درد و الم کی کیفیت کے بندھن میں باندھے رکھا ھے۔ دین محمدی ﷺ میں ایمان کو مشروط کردیا کہ رشتہ داری کے حقوق میں قطعی کمی اور غفلت برداش نہیں۔ قرآن و احادیث کیساتھ ساتھ تاریخ اسلام ہم امت کو تعلیم دیتی ھے کہ ہر رشتہ کا احترام مقام اور مرتبہ لازم ھے اور ان مرتبات کی خلاف ورزی نہ صرف اسلامی معاشرے کیلئے تباہی کا باعث ھے بلکہ انسانیت پر سب سے بڑا ظلم بھی۔ اللہ نے اپنے بعد سب سے زیادہ مقام ماں باپ کو دیا ھے اور پھر بلترتیب بہن بھائی سمیت دیگر تمام رشتوں کو احساس اور کیفیت میں مقید رکھا آج جس طرف ھم جارھے ہیں اور جس معاشرتی اخلاقی تباہی سے دوچار ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ ہماری غفلت کوتاہی اور دینی معاشرتی احکامات سے دوری کے باعث ھے۔ خوبصورت اور خوشحال معاشرہ دین محمدی ﷺ کے اصولوں سے مشروط ھے دعا ھے کہ مجھ سمیت تمام امت محمدی ﷺ کو آپ ﷺ کے بتائے گئے معاشرتی اصولوں قوائد پر کاربند رہنے کی توفیق عطا فرمائے یاد رھے کہ دین محمدی ﷺ کے برخلاف پنپنے والا معاشرہ ابلیس شیطان اور دجال کا ہوتا ھے اور امت محمدی ﷺ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ برخلاف اسلامی معاشرے کے تحت زندگی استوار کرے۔۔۔۔۔!!
