حافظ نعیم الرحمان کا 14 فروری سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان، حکمرانوں پر شدید تنقید

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے 14 فروری سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا عوام کے حقوق کے لیے ہوگا تاکہ حکمرانوں سے وہ حقوق واپس لیے جا سکیں جو عوام کو ان کے منتخب نمائندوں نے چھینے ہیں۔

شاہراہ فیصل پر "جینے دو کراچی کو” مارچ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے صدر آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گل پلازا سانحہ پر کوئی بھی حکومتی نمائندہ کراچی نہیں آیا، حالانکہ یہ افراد کراچی میں مقیم ہیں اور انہیں کراچی کے عوام کے دکھ درد کا احساس ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں نے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہے اور انہیں قبضے کے اس نظام کو ختم کرنا ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ گل پلازا کے سانحے پر کسی حکومتی نمائندے نے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش نہیں کی، اور یہ حکومتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انہیں اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں چاہیے، بلکہ ان کا مقصد صرف عوام کے حقوق کی بحالی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو یرغمال بنا رکھا ہے، اور شہر میں قبضے کے نظام کو ختم کرنا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کے مسائل پر بھی بات کی اور کہا کہ شہر میں سرکلر ریلوے تباہ کر دی گئی اور اس کا کوئی ماسٹر پلان نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ گل پلازا کی تحقیقات چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے کرائی جائیں۔

Exit mobile version