اپریل 20, 2026

معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی کی کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز پر سخت تنقید، سندھ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور

کراچی (پریس رپورٹ) کراچی کے معروف جرنلسٹ ممبر کراچی پریس کلب و ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے حالیہ بڑھتے ہوئے منفی نعروں اور مطالبوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ھے کہ کراچی کو الگ صوبہ یا وفاق کے تحت کرنے سے قطعاً کوئی تبدیلی نہیں آئیگی۔ انکا کہنا ھے کہ کراچی سمیت صوبہ بھر میں انتظامیہ عدلیہ اور لوکل گورنمنٹ سمیت محکمہ پولیس کی درستگی سے ہی صوبہ سندھ بشمول کراچی امن سکون ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہوسکتا ھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ھے کہ صوبہ بھر میں بسنے والے ایک قوم ایک امت ہیں، ان میں تفرقہ ڈالنے والے، فتنہ و فساد پھیلانے والے، تعصب و اقربہ پروری رکھنے والے، نفاق کو بڑھوان کرنے والے قطعی اس صوبہ کے نہ مخلص ہیں اور نہ ہی ہمدرد۔ معروف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ سندھ شاہ لطیف اور شچل سرمت و شہباز قلندر جیسے بزرگ اللہ کے والیوں کی سرزمین ھے جہاں برسوں سے پیار و محبت ایثار و قربانی کا نہ صرف درس بلکہ عملی اقدام بھی ہوتا رھا ھے۔ سندھ کی دھرتی کو سیاسی مقاصد کیلئے قربان کرنا کہاں کی عقل مندی ھے۔ بہتر یہی ھے کہ ریاستی نظام سے گندے غلیظ زہر آلودہ عناصر کا خاتمہ کیا جائے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ کی حکومت مکمل قانونی طور پر آزاد اور بااختیار ھے۔ سندھ حکومت کو چاہئے کہ وہ صوبے میں سستی پروفیشنل تعلیم، سستی معیاری علاج و ادویات کی فراہمی اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرے اور خاص کر اہلیت قابلیت ذہانت کو ترجیح دیتے ہوئے ذمہدار منصبوں پر فائز کرے اور یقینی بنائے کہ ہر شعبہ ہر ادارے ہر محکمہ ہر سطح پر دیانتداری ایمانداری خلوص نیک نیتی کیساتھ عوامی خدمات بھی ممکن بنائے۔ کراچی کے معروف جرنلسٹ ممبر کراچی پریس کلب و ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ جب تک ان اصولوں و ضوابط پر سختی سے عمل پیرا نہیں کرایا جائیگا تب تک آپ لاکھ صوبے بنالیں حاصل نتیجہ صفر ہی ملے گا بلکہ نفرت اور دشمنیاں بڑھیں گی۔ سندھ کو انتظامی امور میں درست کرنا اب ناگزیر ھوچکا ھے کیونکہ کرپشن لوٹ مار لاقانونیت بدامنی انتہاء کو پہنچ چکی ھے۔