تحریر: محمد انور بھٹی
حال ہی میں ریل فین اور تحریر نگار وحید مصطفیٰ رند نے اپنی تحریر میں پاکستان ریلوے کے حالات اور مزدوروں کے مسائل کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا۔ ان کی شوشل میڈیا پر شائع شدہ تحریر نے بندن میاں کو بھی قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا تاکہ ریلوے کے زوال، مزدوروں کی مشکلات، اور اصلاح کے لیے ایک مضبوط فکری مکالمہ شروع کیا جا سکے۔ یہ تحریر نہ صرف موجودہ حالات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس میں اس بات کی وضاحت بھی ہے کہ ریلوے کا مزدور اور محنت کش ظلم و بربریت اور منجمنٹ کی لاپرواہی کے باعث ریل مارچ جیسے تاریخی اقدامات پر مجبور ہو گیا ہے۔پاکستان ریلوے کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ادارہ چاروں صوبوں کی ملی وحدت اور عوام کے لیے سستی، محفوظ اور باعزت سفری سہولت فراہم کرنے والا اہم ادارہ رہا ہے۔ اس ریلوے نے نہ صرف ارباب اختیار کے لیے ایک ذریعہ روزگار مہیا کیا بلکہ ہر چھوٹے بڑے اسٹیشن کے اسٹال مالکان، قلیوں، آٹو و ٹیکسی ڈرائیوروں، اور دیگر محنت کش طبقے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ ریلوے کی پٹریاں، اس کے ٹرین اسٹیشن، کوچز اور ریل گاڑیوں کا ہر پہیہ دراصل ایک محنت کش کی محنت، قربانی اور لگن سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن افسوس، گزشتہ کئی دہائیوں سے منجمنٹ کی کوتاہی، بدانتظامی، مسلسل خسارے کی خبریں، اور ملازمین کے حقوق کی پامالی نے نہ صرف اس ادارے کو نقصان پہنچایا بلکہ محنت کشوں کے صبر کو بھی آزمایا اور ان کے جذبات کو مجروح کیا۔
ریل مارچ کی ضرورت آج اس لیے پیش آئی کہ محنت کشوں کی تنخواہوں اور واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونا، پینشنرز کے واجبات کی تاخیر، پرموشن اور بھرتیوں کی کمی، اور اسٹیشنوں و رہائشی مکانات کی خستہ حالی نے صبر کی حد کو پار کر دیا۔ ہر روز محنت کش اپنے کام کے دوران ناقابل یقین مشکلات اور خطرات کا سامنا کرتے ہیں، لیکن ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے افسر شاہی کی بے حسی اور منجمنٹ کی لاپرواہی نے انہیں احتجاج پر مجبور کر دیا۔ یہ مارچ کسی جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا، منطقی اور سنجیدہ اقدام ہے جس کا مقصد محنت کشوں کے جائز حقوق کا تحفظ اور ریلوے کے مستقبل کی ضمانت ہے۔یہ ظلم و بے حسی محنت کشوں میں ایک جذباتی اور منطقی شاخشانہ پیدا کر رہی ہے۔ ہر اسٹیشن پر بیٹھے بابو اور منجمنٹ کے عہدے دار محض کاغذی کاروائی اور رپورٹس کی نگرانی میں مشغول ہیں جبکہ محنت کش اپنی جان و مال کی بازی لگا کر ریلوے کو چلانے میں مصروف ہیں۔ مسلسل آگ کے واقعات، ٹرین حادثات، اور دیگر سنگین مسائل کے باوجود اقتدار میں بیٹھے افراد کی طرف سے ان مسائل پر پہلو تہی، افسر شاہی اور منجمنٹ کی جانب سے بے حسی، اور ملازمین کے حقوق کو پیروں تلے روندنے نے محنت کشوں میں ایک ایسا جذباتی غصہ پیدا کیا جو صرف اور صرف ریل مارچ کی صورت میں ظاہر ہو سکتا تھا۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ریل مارچ محض احتجاج یا شور و غوغا نہیں بلکہ یہ ایک سنجیدہ فکری تحریک ہے۔ اس مارچ کے ذریعے محنت کش نہ صرف اپنے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں بلکہ وہ ریلوے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں۔ یہ مارچ ایک واضح پیغام ہے کہ محنت کش اب خاموش نہیں رہیں گے اور جب ضرورت پڑی تو بروقت آواز بلند کریں گے۔وحید مصطفیٰ رند کی شوشل میڈیا پر تحریر نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ اگر ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ اور ملازمین کی حالت بہتر نہ کی گئی، تو نقصان صرف ادارے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہوگا۔ پاکستان کے شہری، کسان، تاجروں، طلبہ اور غریب و امیر سب اس ادارے سے براہ راست یا بالواسطہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ریلوے کا زوال صرف ملازمین کی ذاتی پریشانی نہیں بلکہ ملک کی معیشت، شہریوں کے روزمرہ کے کام، اور قوم کی ترقی پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔ بندن میاں بھی اس تحریر سے متاثر ہو کر کہتا ہے کہ یہی وقت اور یہی مقام ہے کہ محنت کش اپنی آواز بلند کریں، تبھی پاکستان ریلوے کی بقا اور ترقی ممکن ہے۔ریلوے کے محنت کشوں نے اپنی محنت سے پاکستان کو جو بنیادی سہولت دی، وہ کسی قومی خزانے یا بڑی کمپنی سے کم نہیں۔ ہر ٹرین کا سفر، ہر اسٹیشن کی روشنی، ہر پٹری کا سلسلہ دراصل محنت کش کی لگن اور قربانی کا نتیجہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ان محنت کشوں کی محنت کا معاوضہ بروقت نہیں دیا جاتا، ان کے واجبات اور پینشنز ملتوی کیے جاتے ہیں، اور ان کی بنیادی سہولتیں، جیسے رہائشی مکانات اور اسٹیشنوں کی بنیادی دیکھ بھال، نظر انداز کی جاتی ہیں۔
ریل مارچ نہ صرف مزدوروں کے حقوق کے لیے ایک تحریک ہے بلکہ یہ عوام کو بھی یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ریلوے ایک قومی سرمایہ ہے، جس کی حفاظت اور ترقی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ محنت کشوں کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، پینشنرز کے واجبات، نئے بھرتیوں اور پرموشنز کا آغاز، اور اسٹیشنوں و رہائشی مکانات کی بحالی کے بغیر ادارے کا منافع اور بقا ناممکن ہے۔ یہ مارچ ایک لازمی اور وقت کی ضرورت بن چکا ہے تاکہ محنت کشوں کی مشکلات ختم ہوں اور ریلوے ایک مضبوط اور مستحکم ادارہ بن سکے۔ ریل مارچ میں شریک محنت کش محض اپنی بھوک، تنخواہ یا ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ پورے ادارے کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہ مارچ ایک علامتی اور عملی پیغام ہے کہ محنت کش اگر متحد ہو جائیں تو وہ نہ صرف اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ادارے کی بہتری اور عوام کی خدمت بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔ ہر اسٹیشن پر، ہر کوچ میں، ہر پٹری کے کنارے پر ایک محنت کش کی لگن چھپی ہوئی ہے، اور یہی لگن اس مارچ کو طاقت فراہم کر رہی ہے۔ریلوے کی موجودہ حالت، اسٹیشنوں کی خستہ حالی، ٹرینوں کی تاخیر، اور محنت کشوں کے مسائل ایک مکمل تصویر پیش کرتے ہیں کہ منجمنٹ کی کوتاہیوں اور حکومتی لاپرواہی نے ادارے کو کس حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ یہ مارچ ایک چوکسی اور آگاہی کی تحریک ہے تاکہ محنت کش، عوام، اور حکومتی اہلکار سب یہ جان سکیں کہ ریلوے صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ قوم کا اثاثہ ہے۔یہ بھی واضح ہے کہ ریل مارچ ایک مثبت اور اصلاحی اقدام ہے۔ اس مارچ کے ذریعے محنت کش نہ صرف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں بلکہ ادارے میں اصلاح کے لیے ایک مضبوط فکری مکالمہ بھی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ مارچ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم و جبر اور منجمنٹ کی بے حسی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے، کیونکہ صرف یہی اقدام ادارے اور محنت کشوں دونوں کے لیے امید کی کرن ہے۔پیپلز ریلوے ورکرز پاکستان کے تاریخی ‘ریل بچاؤ ٹرین مارچ’ کے ذریعے یہ ادارہ اپنے مزدوروں کے حقوق اور ریلوے کی بقا کے لیے ایک مثال قائم کر رہا ہے۔ یہ مارچ ایک تحریک ہے جو محنت کشوں کی جدوجہد، صبر، اور قربانی کو نمایاں کرتا ہے اور ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنے جائز مطالبات کو قانونی اور منظم انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ محنت کش اپنی محنت کا حق لینے اور ادارے کی بہتری کے لیے کبھی بھی خاموش نہیں رہیں گے۔
آخر میں بندن میاں یہ پیغام دیتا ہے کہ ریل مارچ ایک مثبت اور اصلاحی اقدام ہے، جو نہ صرف محنت کشوں کے جائز حقوق کے لیے اٹھایا گیا بلکہ پاکستان ریلوے کو زوال سے بچانے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہے۔ یہ مارچ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم و جبر اور منجمنٹ کی بے حسی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے، کیونکہ صرف یہی اقدام ادارے اور محنت کشوں دونوں کے لیے امید کی کرن ہے۔اس لیے تمام مکتبہ ہائے فکر جو دلوں میں ریل کے لیے دکھ اور درد رکھتے ہیں، انہیں اس ٹرین مارچ کا حصہ بننا چاہیے اور بھرپور انداز میں اپنے مسائل کو اجاگر کرنا چاہیے۔ ریل مارچ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک علامتی اور عملی تحریک ہے، جو نہ صرف محنت کشوں کی جدوجہد اور قربانی کو منظر عام پر لاتی ہے بلکہ ادارے کی بقا اور عوام کی خدمت کے لیے ایک مثبت اور سنجیدہ قدم بھی ہے۔یہ مارچ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ریلوے ایک ایسا قومی سرمایہ ہے جس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے، اور محنت کشوں کی محنت، قربانی، اور لگن کے بغیر یہ ادارہ اپنی شناخت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ ریل مارچ ایک روشن مثال ہے کہ محنت کش اگر متحد ہوں تو وہ نہ صرف اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں بلکہ پورے ادارے کو بچانے اور عوام کی خدمت کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم بنیاد بھی فراہم کر سکتے ہیں۔
ریلوے کے محنت کشوں نے صدیوں سے اپنے خون پسینے سے اس ادارے کو زندہ رکھا ہے۔ یہ مارچ ایک ایسا تاریخی لمحہ ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ محنت کش نہ صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں بلکہ ادارے کے تحفظ اور مستقبل کی ضمانت بھی فراہم کرتے ہیں۔ ریل مارچ محض ایک احتجاجی ریلی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ، منطقی، اور مثبت اقدام ہے جو پاکستان ریلوے کی بقا اور ترقی کے لیے اٹھایا گیا ہے۔آج پیپلز ریلوے ورکرز پاکستان کے تاریخی ‘ریل بچاؤ ٹرین مارچ’ کے ذریعے یہ ادارہ اپنے مزدوروں کے حقوق اور ریلوے کی بقا کے لیے ایک مثال قائم کر رہا ہے، اور یہ پیغام دیتا ہے کہ محنت کش اپنی محنت اور قربانی کے ذریعے ادارے کی ترقی اور عوام کی خدمت کو یقینی بنائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بندن میاں کہتا ہے کہ یہ وقت ہے کہ محنت کش اپنی آواز بلند کریں، تبھی پاکستان ریلوے کی بقا اور ترقی ممکن ہے، اور یہی ریل مارچ اس جدوجہد کا عملی اور تاریخی ثبوت ہے۔
