تحریر: ندیم ملک
خواتین میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو اگر محض اخلاقی کمزوری، مذہبی غفلت یا انفرادی ناکامی قرار دیا جائے تو یہ مسئلے کی سنگینی سے فرار کے مترادف ہوگا۔ جدید سماجی اور نفسیاتی علوم اس بات پر متفق ہیں کہ خودکشی ایک پیچیدہ مظہر ہے جس کے پیچھے حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی عوامل باہم جڑے ہوتے ہیں۔ عورت کے معاملے میں یہ پیچیدگی مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے سماجی ڈھانچے میں زندہ رہتی ہے جہاں اس کے اعصاب پر مسلسل دباؤ ڈالنے والے عوامل معمول بنا دیے گئے ہیں۔
نفسیات کی زبان میں عورت میں خودکشی کا رجحان زیادہ تر Chronic Stress Disorder، Depression، Learned Helplessness اور Emotional Suppression کا نتیجہ ہوتا ہے۔ عورت کو بچپن ہی سے سکھایا جاتا ہے کہ وہ جذبات کو دبا کر رکھے، شکوہ نہ کرے، اختلاف نہ کرے۔ یہ مسلسل دباؤ اعصابی نظام (Nervous System) کو رفتہ رفتہ کمزور کرتا ہے۔ جدید نیورو سائنس کے مطابق جب ذہنی دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہے تو دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو فیصلے، امید اور جذباتی توازن کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ایسے میں خودکشی ایک “اچانک خیال” نہیں بلکہ ایک طویل اعصابی زوال کا آخری مرحلہ ہوتی ہے۔
فرانسیسی ماہرِ عمرانیات ایمل دورکھائم نے اپنی مشہور تحقیق میں واضح کیا تھا کہ خودکشی کو انفرادی مرض سمجھنا سائنسی غلطی ہے۔ ان کے مطابق جب فرد اور معاشرے کے درمیان تعلق کمزور ہو جائے، جب سماجی ادارے فرد کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائیں تو خودکشی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عورت کے معاملے میں یہ سماجی ربط سب سے زیادہ کمزور نظر آتا ہے۔ خاندان، جو فطری طور پر سب سے مضبوط حفاظتی ادارہ ہونا چاہیے، اکثر عورت کے لیے سب سے زیادہ دباؤ کا سبب بن جاتا ہے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ زیادہ تر خواتین خودکشی سے پہلے اپنے مسائل کا اظہار کرتی ہیں، مگر ان کے اشاروں کو “عام گھریلو مسئلہ”، “عورت کی فطرت” یا “زیادہ حساسیت” کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی نظرانداز ہونا نفسیاتی زبان میں Invalidation کہلاتا ہے، جو ڈپریشن کو شدید ترین شکل دے دیتا ہے۔ برطانوی ادیبہ ورجینیا وولف نے اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورت کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب اس کے درد کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔
مشرقی معاشروں میں عورت پر مذہب اور روایت دونوں کا بیک وقت دباؤ ہوتا ہے، مگر مسئلہ مذہب نہیں بلکہ مذہب کی غیر سائنسی اور غیر اخلاقی تعبیر ہے۔ اسلام انسانی جان کو غیر معمولی تقدس عطا کرتا ہے۔ قرآن کا واضح حکم ہے کہ اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو، اور یہ کہ اللہ انسان پر مہربان ہے۔ اس مہربانی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ایسے سماجی حالات پیدا نہ کیے جائیں جو انسان کو خود اپنی جان کا دشمن بنا دیں۔ نبی اکرم ﷺ کا اسوہ اس بات کی عملی مثال ہے کہ عورت کے جذبات، ذہنی کیفیت اور عزتِ نفس کو مرکزی اہمیت دی جائے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلام صبر کی تلقین ضرور کرتا ہے، مگر ظلم پر خاموشی کو صبر نہیں کہتا۔ نفسیاتی اعتبار سے مسلسل ظلم سہنے کو عبادت کا درجہ دینا عورت کے اعصاب کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ حضرت عمرؓ کا یہ قول کہ کمزور عورت والا معاشرہ کبھی مضبوط نہیں ہو سکتا، دراصل ایک گہری سماجی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔
جدید دور میں سوشل میڈیا نے عورت کے اعصابی دباؤ میں ایک نیا عنصر شامل کر دیا ہے۔ مسلسل موازنہ، ظاہری کامیابیوں کی نمائش، جسمانی ساخت کے غیر حقیقی معیار اور آن لائن کردار کشی عورت کو مستقل ذہنی تناؤ میں مبتلا رکھتی ہے۔ امریکی مفکر ایرک فروم کے مطابق جدید انسان کی سب سے بڑی بیماری تنہائی ہے، اور عورت اس تنہائی کو سب سے زیادہ شدت سے محسوس کرتی ہے، کیونکہ اس کے جذباتی اظہار کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔
مشرقی ادب نے بھی عورت کے اس داخلی المیے کو بارہا اجاگر کیا ہے۔ منٹو نے عورت کو سماج کی منافقت کا سب سے بڑا شکار قرار دیا، جبکہ قرۃ العین حیدر نے عورت کے ٹوٹنے کو ایک مکمل داخلی انہدام سے تعبیر کیا۔ یہ ادبی مشاہدات دراصل نفسیاتی حقائق کی تخلیقی توثیق ہیں۔
اگر اس مسئلے کو سائنسی اور تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو اس کی روک تھام ممکن ہے، مگر اس کے لیے جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔ سب سے پہلے ذہنی صحت کو سماجی ترجیح بنانا ہوگا۔ عورت کے لیے کونسلنگ، سائیکوتھراپی اور سپورٹ سسٹم کو عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت سمجھنا ہوگا۔ دوسرے، خاندانی نظام میں جذباتی تعلیم (Emotional Literacy) کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ عورت کے اعصابی اشاروں کو بروقت سمجھا جا سکے
تیسرے، مذہبی بیانیے کو سائنسی شعور کے ساتھ جوڑنا ہوگا، تاکہ عورت کو صبر کے نام پر اعصابی غلامی میں نہ دھکیلا جائے۔ چوتھے، معاشی خودمختاری کو عورت کی نفسیاتی صحت سے جوڑ کر دیکھا جائے، کیونکہ جدید نفسیات کے مطابق مالی انحصار احساسِ بے بسی کو شدید کرتا ہے۔ جان اسٹورٹ مل نے عورت کی آزادی کو معاشی خودمختاری سے مشروط کر کے ایک سائنسی سماجی اصول وضع کیا تھا۔
ہمیں یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ خواتین میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان کسی ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ ایک اجتماعی نظامی خرابی (Systemic Failure) ہے۔ عورت کے اعصاب اس لیے جواب دے رہے ہیں کہ ہم نے انہیں مسلسل آزمائش میں رکھا ہے۔ اگر ہم واقعی اس مسئلے کی روک تھام چاہتے ہیں تو عورت کو محض زندہ رکھنے کے بجائے ذہنی طور پر محفوظ بنانا ہوگا، کیونکہ خودکشی کا اصل مقابلہ موت سے نہیں، مایوسی سے ہوتا ہے
