تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج اپنی پرانی چارپائی پر بیٹھا تھا، نیم کے درخت کے نیچے، جہاں مٹی کی خوشبو اب بھی پرانی یادوں کی طرح لپٹی ہوئی تھی۔ موبائل کی روشنی، جو اکثر لوگ دن بھر کی خاموشی اور تنہائی کو بھانپنے کے بجائے دل کے جذبات کو دکھاوا بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، آج اس کی نظر میں عجیب سی چمک پیدا کر رہی تھی۔ بندن میاں نے اسے دیکھا اور ایک لمبی سانس لیا، جیسے ہر سانس کے ساتھ وہ دنیا کی بھاگ دوڑ اور لوگوں کی سطحی محبت کو چپکے سے تول رہا ہو۔وہ سوچ رہا تھا کہ آج کے زمانے میں محبت صرف کہنے کے لیے رہ گئی ہے، نبھانے کے لیے نہیں۔ یہ وہ زمانہ ہے جہاں لوگ جان پہچان سے زیادہ اسکرین کے سامنے محبت بانٹتے ہیں، دل کی حرارت کے بجائے انگلی کی حرکت پر اعتماد کرتے ہیں۔ آئی لوو یو، تین الفاظ جو کبھی کسی شخص کے دل کے درد کو بانٹنے کے لیے بولے جاتے تھے، آج بے وزن، بے مقصد اور بے اثر ہو گئے ہیں۔ لوگ ان الفاظ کو صرف اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ دکھائی دے، لائکس بڑھیں، سوشل میڈیا کا خود کار نظام مُطْمَئِن ہو۔ مگر اصل محبت، اصل ذمہ داری اور اصل تعلق گھر کے اندر، رشتوں میں، ان آنکھوں میں چھپی ہوئی ہے جو دن بھر تمہاری توجہ کے لیے منتظر رہتی ہیں۔بندن میاں نے اپنے پرانے دوستوں اور رشتہ داروں کو یاد کیا، وہ ماں جو ہر صبح دعا کرتی ہے، وہ باپ جو عمر بھر کا کام کر کے گھر کی بنیاد رکھتا ہے، وہ بہن جو خاموشی سے سہارا دیتی ہے، وہ شریک حیات جو تھکن کے باوجود تمہارے لیے مسکراتی ہے، اور وہ بچے جو صرف وقت اور توجہ چاہتے ہیں۔ اور پھر اس نے سوچا، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں واقعی یہ الفاظ چاہیے، جن کے دل یہ الفاظ سن کر خوش ہوتے، جن کے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے سکون آتا۔لیکن آج کے نوجوان، اور اکثر بڑے بھی، جان پہچان سے زیادہ، انجان دلوں پر یہ اظہار محبت نچھاور کر رہے ہیں۔ کسی انجانے شخص پر، جس کی ذات، مزاج، پس منظر، یا مصائب کا پتا نہیں، وہ تین الفاظ اتنی آسانی سے بھیج دیتے ہیں جیسے بس کلک کرنا ہو۔ اور ان تین الفاظ کا اصل حقدار، جو گھر میں، زندگی کے ہر لمحے میں تمہارے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس کے حصے میں صرف بے نیازی، سرد رویہ، اور کبھی کبھار تلخی آتی ہے۔بندن میاں نے کہا کہ آج کا زمانہ عجیب ہے، لفظوں کی قیمت کم ہو گئی ہے، جذبات کی قدر گھٹ گئی ہے، اور رشتوں کی حرمت کمزور پڑ گئی ہے۔ جو رشتے خاموش رہ کر سب کچھ سہتے ہیں، وہ زخم کھاتے ہیں مگر شکایت نہیں کرتے۔ وہ خون کے بغیر کانٹے بن کر تمہارے رویوں کے سامنے کھڑے ہیں، اور تم دن بھر دوسرے لوگوں کے لیے محبت کے پھول بکھیرتے ہو۔اس نے اپنے ماضی کے دنوں کو یاد کیا، جب محبت بولنے سے پہلے سوچا جاتا تھا۔ جب کوئی لفظ کہا جاتا، تو اس کا مطلب صرف خوشی کا اظہار نہیں بلکہ رشتوں کو سنبھالنے کا وعدہ بھی ہوتا۔ آج لفظ صرف دکھانے کے لیے رہ گیا ہے۔ آج محبت کو نمائش بنا دیا گیا ہے، اور جو لوگ اصل حق دار ہیں، ان کے دل کی دھڑکنیں، ان کے زخم، ان کی امیدیں، سب نظر انداز کر دی گئی ہیں۔بندن میاں نے کہا کہ آئی لوو یو صرف تین الفاظ نہیں، یہ ایک ذمہ داری ہے، ایک وعدہ ہے، ایک احساس ہے جو نبھانا پڑتا ہے۔ لیکن جب یہ لفظ ان لوگوں پر خرچ کیے جاتے ہیں جنہیں تم نہیں جانتے، جن کے درد، مزاج، اور حقیقت سے تم واقف نہیں، تو یہ محض کھوکھلا دکھاوا بنتا ہے۔ اور اصل حقدار، وہ جو تمہارے ساتھ زندگی کے ہر قدم پر جڑا ہوا ہے، اس سے محبت کی کمی محسوس کرتا رہتا ہے۔اس نے کہا کہ دیکھو، ماں کی دعاؤں کی حرارت، باپ کی محنت کی تھکن، بیوی کی مسکراہٹ، بچوں کی معصوم آنکھیں، یہ سب وہ خزانے ہیں جو لفظوں کی صحیح قیمت جانتے ہیں۔ اور پھر تم اپنے دوستوں کے پوسٹ پر، کسی نامعلوم شخص کی تصویر کے نیچے یہ الفاظ لکھ دیتے ہو، اور کہہ دیتے ہو کہ محبت کی انتہا یہ ہے۔ پر اصل محبت تو وہ ہے جو دکھ بانٹے، جو تھکن کو سہ لے، جو غلط فہمیوں کو دور کرے، جو رشتوں کے کانٹوں کو نرم کرے۔
بندن میاں نے اس کے بعد سوچا کہ جب یہ لوگ سوشل میڈیا پر محبت کے پھول بکھیرتے ہیں، وہ خود بھی نہ جانے کس حد تک تھک چکے ہوتے ہیں۔ مگر گھر میں، اصل زندگی کے میدان میں، وہی لوگ، وہی رشتے، وہی توقعات، ہر دن کے امتحان میں بے بس رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے سب کچھ سہتے ہیں، اور تم ان پر توجہ دینے کے بجائے، اپنی محبت کے آثار دوسرے لوگوں پر چھڑک دیتے ہو۔اس نے کہا کہ اگر محبت واقعی قیمتی ہے، تو اسے ان لوگوں پر خرچ کرو جنہوں نے تمہیں جنم دیا، تمہیں سنبھالا، تمہارے لیے وقت اور پیار دیا۔ اگر یہ الفاظ واقعی معنی رکھتے ہیں تو انہیں صرف دکھ بانٹنے، سہارا دینے، اور رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرو۔ باہر کے تعلقات میں آسانی سے پھول بانٹنا اور آئی لوو یو کہنا آسان ہے کیونکہ وہاں کانٹے نہیں چبھتے، وہاں جواب دہی نہیں، وہاں جواب کا مطالبہ نہیں۔ مگر گھر کے رشتوں میں ایک بھی غلطی، ایک بھی غفلت، ایک بھی سستی، زخم بن جاتی ہے جو دیر تک بھر نہیں پاتا۔بندن میاں نے کہا کہ اصل محبت آزمائش میں نظر آتی ہے، مشکل وقت میں نظر آتی ہے، تھکن کے بعد نظر آتی ہے۔ تعریف میں نہیں، تنقید میں نظر آتی ہے۔ روشنی میں نہیں، اندھیرے میں نظر آتی ہے۔ جو شخص اپنے گھر کے رشتوں میں محبت نہیں دے سکتا، وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں دکھ بانٹنے کے قابل نہیں۔ اور جو شخص انجان دلوں پر محبت نچھاور کرتا ہے، اسے سمجھنا چاہیے کہ یہ آسان ہے مگر حقیقی دل کی طاقت نہیں دکھاتا۔اس نے اپنے موبائل کو ایک طرف رکھ کر دوبارہ آسمان کی طرف دیکھا۔ پرندے اڑ رہے تھے، ہوا کے جھونکے درختوں کے پتے ہلا رہے تھے، اور زمین پر گرے ہوئے پتے خاموشی سے کہانی سن رہے تھے۔ بندن میاں نے کہا کہ اگر انسان واقعی اپنے دل کے الفاظ کی اہمیت جاننا چاہتا ہے، تو اسے اپنی ماں، باپ، بہن، بھائی ،شریک حیات، بچوں اور اپنے قریبی رشتوں کی زندگی میں جھانکنا ہوگا، ان کی ضرورت سمجھنی ہوگی، ان کی خاموشی پڑھنی ہوگی، ان کے درد بانٹنے ہوں گے۔ تب جا کے آئی لوو یو کے تین الفاظ اصل طاقت حاصل کریں گے۔اور پھر اس نے کہا کہ یہ سادہ سا اظہار محبت کو آج کل لوگ اتنا سستا کر رہے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ لفظ کہنے سے محبت پوری ہو گئی۔ مگر محبت صرف بولنے سے مکمل نہیں ہوتی۔ محبت دیکھنے، سننے، سمجھنے، سہنے، اور نبھانے میں ہے۔ محبت صرف دکھانے میں نہیں بلکہ دکھ بانٹنے میں ہے۔ محبت صرف کسی تصویر کے نیچے کلک کرنے میں نہیں بلکہ کسی کے دل کے قریب ہونے میں ہے۔بندن میاں نے آہستہ سے کہا کہ رشتے وہ خزانے ہیں جو لفظوں سے نہیں بلکہ عمل سے بنتے ہیں۔ گھر کے لوگ وہ حقیقی دنیا ہیں جو تمہیں دیکھتے ہیں، جانتے ہیں، تمہارے رویے کا اثر محسوس کرتے ہیں۔ اور باہر کے تعلقات، جو اتنے آسانی سے بن جاتے ہیں، وہ صرف وقتی خوشی دیتے ہیں، مگر زندگی کی بنیاد ان پر نہیں ٹکتی۔آخر میں بندن میاں نے اپنے دل کی گہرائی سے کہا کہ اگر تم واقعی آئی لوو یو کہنے کے قابل ہو، تو یہ الفاظ ان لوگوں کے لیے رکھو جو واقعی حق دار ہیں، جو تمہارے بغیر ادھورے ہیں، جو تمہارے لیے قربانی دیتے ہیں، جو تمہارے لیے انتظار کرتے ہیں، اور جو تمہارے لیے ہر دن جیتے ہیں۔ تب جا کے لفظ اور دل دونوں کی حرمت باقی رہے گی، تب جا کے رشتے مضبوط ہوں گے، اور تب جا کے محبت کا اصل پیغام زندہ رہے گا۔
