بہاولنگر میں واسا کا قیام ایک انقلابی قدم

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

جنوبی پنجاب کا ذکر آتے ہی محرومیوں کی ایک طویل فہرست ذہن کے دریچوں پر دستک دینے لگتی ہے مگر کبھی کبھی وقت کی دھند سے ایسی خبریں بھی ابھر آتی ہیں جو نظر انداز کیے گئے خطوں کے باسیوں کے لیے امید کی کرن بن جاتی ہیں۔ بہاولنگر کے لیے بھی ایک ایسی ہی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت "واسا” (WASA) کا قیام محض ایک سرکاری ادارے کا اضافہ نہیں بلکہ اُن لاکھوں شہریوں کے لیے ایک نئے دور کی نوید ہے جو برسوں سے صاف پانی کی ایک ایک بوند اور سیوریج کے نظام کی بہتری کے منتظر تھے ان کے لئے یہ ایک بہت بڑا انقلابی قدم ہے۔ کسی بھی شہر کی خوبصورتی اس کی بلند و بالا عمارتوں یا کشادہ شاہراہوں میں نہیں بلکہ اس کے زیرِ زمین انفراسٹرکچر میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ بہاولنگر طویل عرصے تک انتظامی غفلت کا شکار رہا، جس کے باعث نکاسی آب کا نظام زبوں حالی کی تصویر بن چکا ہے۔ معمولی بارش پورے شہر کو تالاب میں تبدیل کر دیتی ہے اور شہری بے بسی سے اپنے گھروں اور بازاروں میں جمع پانی کو دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ تاہم اب واسا بہاولنگر کے منیجنگ ڈائریکٹر رانا دلاور خان کے بیانات اور ابتدائی اقدامات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ یہ ادارہ محض رسمی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عملی بنیادوں پر شہر کی صورتِحال بدلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شہر کو تین زونز اے، بی اور سی میں تقسیم کر کے ذمہ داریاں متعین کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ اب کام محض نعروں یا وعدوں پر نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہو گا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے لے کر سیور مین تک قائم کی جانے والی مربوط انتظامی زنجیر دراصل اس جوابدہی کے نظام کی بنیاد ہے جس کی کمی نے ماضی میں شہری خدمات کو کمزور رکھا۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے۔ اس واٹس ایپ نمبر 03296492464 کے ذریعے شکایات کا اندراج اور 1334 جیسی ہیلپ لائن کا قیام شہری اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ ڈیجیٹل دور کی وہ طرزِ حکمرانی ہے جو فائلوں کے بوجھ تلے دبنے کے بجائے فوری ردِعمل کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صاف پانی کی فراہمی واسا کے سامنے دوسرا بڑا چیلنج ہے۔ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹری کا فعال ہونا اس امید کو تقویت دیتا ہے کہ اب گھروں کی نلوں میں آنے والا پانی بیماری نہیں بلکہ صحت کی علامت ہو گا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہسپتالوں میں آدھے سے زیادہ مریض ایسے ہوتے ہیں جن کی بیماریوں کی جڑ آلودہ پانی بنتا ہے۔ اگر واسا اس محاذ پر کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو نہ صرف شہریوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ محکمۂ صحت پر پڑنے والا بوجھ بھی نمایاں طور پر کم ہو سکے گا۔ تاہم کسی بھی ادارے کی کامیابی صرف حکومتی وسائل، جدید مشینری یا افسران کے عزم سے مشروط نہیں ہوتی۔ عوامی تعاون اس کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ بہاولنگر کے شہری اگر گٹروں میں کچرا پھینکنے جیسی عادتوں سے اجتناب کریں، پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور شکایات کے اندراج کے نظام کو ذمہ داری سے استعمال کریں تو واسا ایک محکمے سے بڑھ کر شہری شعور کی علامت بن سکتا ہے۔ رانا دلاور خان اور ان کی ٹیم کے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔ دہائیوں پر محیط فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر جدید انفراسٹرکچر قائم کرنا کوئی آسان مرحلہ نہیں مگر ان کے عزم اور منصوبہ بندی سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ اب بہاولنگر کو آزمائشوں کے نہیں بلکہ تبدیلی کے دور میں داخل ہونا ہے۔ اگر یہ منصوبے تسلسل، شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ آگے بڑھے تو وہ دن دور نہیں جب بہاولنگر کی سڑکیں بارش کے بعد تالاب کا منظر پیش کرنے کے بجائے صاف ستھری دکھائی دیں گی، جب گھروں میں صاف پانی دستیاب ہوگا اور شہری شکایت کے بجائے سہولت کی بات کریں گے۔ واسا کا قیام دراصل بہاولنگر کے لیے ایک نئے سماجی معاہدے کی علامت ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے گی اور شہری اپنا کردار ادا کریں گے۔ اگر یہ توازن قائم ہو گیا تو تاریخ گواہی دے گی کہ یہی وہ لمحہ تھا جب بہاولنگر کی تقدیر نے واقعی کروٹ لی۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Exit mobile version