تحریر: ایم سرور صدیقی
شاید آپ کو معلوم نہیں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کی تعمیری لاگت 1.5 بلین ڈالر تھی جبکہ امریکہ کا ایک B-2 بمبار طیارہ 2.1 بلین ڈالر کا ہے یعنی ایک طیارہ۔۔جی ہاں۔۔صرف ایک طیارہ۔۔ پوری امت ِ مسلمہ کی آنکھیں کھولنے کے لئے۔۔ کافی ہے عرب دنیا برج خلیفہ پراتراتی پھرتی ہے جو دکھائی دینے والا ایک عظیم الشان اثاثہ توہے۔۔لیکن نہیں؟اس کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن محض ایک B-2 بمبار امریکی طیارہ جتنی نہیں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ گذشتہ ایک700 سال کے دوران مسلمانوں نے کوئی تخلیقی یا تحقیقاتی کارنامہ سرانجام نہیں دیا اس کے برعکس غیرمسلم بالخصوص یہودیوں نے نت نئی ایجادات کرکے دنیا بدل کررکھ دی اورپوری دنیا پر اقتصادی، معاشرتی اور معاشی طورپرچھا گئے ذرا غورکریں اپنے گھروں،معاشی پلیٹ فارمز اور دفاترکا جائزہ لیں کہ ان میں مسلمانوں کی بنائی ہوئی یاایجادات کتنی ہے یقینا آپ کو مایوسی ہوگی کہ ہم کسی بھی میدان میں،کسی بھی محاذ پر کسی طور بھی ان کے ہم پلہ نہیں ہیں معاف کرنا ہم پلہ توکیا ہم ان کے عشر عشیر نہیں۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم مسلمانوں کی ترجیحات کیا ہیں؟ اور کیا ہونی چاہییں؟ ترکی کی سلطنت ِ عثمانیہ سے لے کر مغل بادشاہوں تک پھر آج کے دور تلک امتِ مسلمہ عمارتیں بلند کرتی رہی پاکستان میں بھی سڑکوں اورعمارتوں کی تعمیراور نیلی،لال ٹرینیں چلانے کو حکمرانوں نے ترقی کا معیار بنالیاہے اور عوام کی حالت اور حالات پہلے سے بھی ابترہوتے جارہے ہیں ڈھیٹ قسم کے سیاسی کارکنوں اور حامیوں کے نزدیک یہی”فارمولا کھاتاہے تو لگاتا بھی ہے“رائج ہوگیاہے یعنی سیاسی پارٹیاں مسلک بن گئی ہیں سیاسی کارکن اپنے اپنے لیڈروں کے غلط کاموں پربھی اتراتے پھرتے ہیں اور انہیں جائزقرار دینے کیلئے بحث و مباحثہ کے بعد پرتشددہوجاتے ہیں ۔۔نہ جانے ہم کیوں نہیں سوچتے کہ ترقی کرنے والی قومیں اپنی سوچ بلند کرتی ہیں شاید اسی لئے ہم پیچھے ہیں، وہ آگے۔۔ اور آگے ہیں وہ ہرلحاظ سے ناقابل ِ تسخیرہوگئیں ہیں اور ہم آوے ای آوے سے آگے ہی نہیں سوچتے۔ کیا آپ جانتے ہیں امریکہ ہر سال 900 بلین ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے اور ہم ابھی تک فخر سے کہتے ہیں ہمیں برادر مسلم ممالک ادھار تیل دے رہے ہیں ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ معیشت کا دھڑن تختہ نہیں ہوا اور جن عرب ممالک کے پاس تیل ہے! وہ کچھ سوچتے ہی نہیں کہ جب تیل کی مارکیٹ نہ ہونے کے برابرہوجائے گی پھرہم کیا کریں گے آج نہیں تویقیناکل الیکٹرک گاڑیوں کا دور دورہ ہوجائے گا توپھرکیاہوگا؟ یا خدایاہمارے مسلم حکمران سوچتے کیوں نہیں؟ کیا تیل سے عقل نہیں خریدی جا سکتی دور ِ حاضرکے چیلنجزکا مقابلہ کرنے کے لئے بھرپوروسائل کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ ضروری ہے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمان خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں، مغربی دنیا کے دانشور منصوبے بناتے ہیں۔ ہم صرف دعائیں کرتے رہے وہ محنت کرتے ہیں۔ ہم تقریر کرتے ہیں وہ تحقیق کرتے ہیں۔ یقینا یہی ایک فرق ہے ترقی یافتہ اور زوال پذیر قوم میں؟ اگر ایک امریکی طیارہ دنیا کی سب سے اونچی عمارت سے مہنگا ہو سکتا ہے، تو شاید ہمیں اپنی سوچ کا نقشہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ نئے زاویے سے سوچنے کی ضرورت ہے، زمانے سے ہم آہنگ ترقی کا م معیار اپنانے کی اہمیت اجاگرکرناہوگی۔ ہمیں صرف مسجدوں کی تعمیرزور نہیں دینا چاہیے بلکہ مساجدکو دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی سے مزین کرناہوگا نوجوانوں کے لئے ریسرچ لیبارٹریاں بھی درکار ہیں۔ صرف منبر نہیں مائیکروسکوپ بھی۔ صرف عالم نہیں سائنسدان بھی! بناناہوں گے جب نظام الدین طوسیؒ نے درس ِ نظامی کا اجراء کیا تھا اس نے ایک پوراایک نظام وضح کیاتھا کہ نوجوان عالم دین بننے کے ساتھ ساتھ مختلف علو م سائنس و ٹیکنالوجی،منطق،ریاضی،الجبرا،فلکیات، ارضیات وغیرہ اور متعددوکیشنل ایجوکیشن سے بہرہ مندہو سکیں تاکہ دین ِ اسلام کی ترویج اور اپنا ذاتی کاروبارسے معاشرہ میں اپنا فعال کردار ادا کرسکیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا اور ہمارے دینی مدارس نے ایسے علماء کرام کی بجائے مولوی بلکہ ملاں ذہنیت کو جنم دیا جس سے مسلمان سائنس و ٹیکنالوجی سے کوسوں دور ہوگئے اوریوں مسلمانوں کا ترقی ئ منعکوس کا سفر تیزی سے شروع ہوگیا یہی وجہ ہے کہ آج سائنس و ٹیکنالوجی کی ایجوکیشن جہالت کی نذرہوگئی جب دور ِ حاضرکے چیلنجزکا مقابلہ کرنے کی سوچ ہی دل و دماغ میں پیدا نہ ہوتو ذہن بنجرہوجاتے ہیں اتنی علمی تنزلی کے باوجودمسلمان خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئے تووقت نے اپنا فیصلہ سنادیا آج دنیا میں 2ارب مسلمان ہونے یا ایٹمی طاقت بننے کے باوجود ہم تاریخ کے کچرے دان میں پڑے اونگھ رہے ہیں مسلم حکمران عالمی طاقتوں کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں ابراہم اکارڈ اوراب غزہ امن بورڈ کے نام پرجوکام اسرائیل100سال میں نہ کرسکا اب پیس بورڈ کے نام پر شروع ہوگیا امت ِ مسلمہ کو اس سانحہ کاکوئی اندازہ نہیں اور المیہ یہ ہے کہ مسلم حکمران اس پر بھی اتراتے پھرتے ہیں کیا ہم تاریخ کے کباڑ خانے میں ہی ہیں اور ٹرمپ نے انتہائی چالاکی سے ٹریپ کرلیاہے۔ کیا بھی المیہ نہیں کہ ہمارے دانشوروں نے قوم کے بچوں کو ماضی کے قصے سنائے جبکہ دشمن اپنے بچوں کو مستقبل کا ہنر سکھاتارہا ہم ماضی میں جیتے رہے اور پدرم سلطان بود کے نعرے لگالگاکرہلکان ہوتے رہے
عالمی طاقتیں اپنے کی پلاننگ 100سال پہلے شروع کردیتی ہیں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن ان کے تھنگ ٹینک کام کرتے رہتے ہیں وہ اپنے مستقبل کی پلاننگ کرتے رہتے ہیں اور ہم مسلمانوں کے بچے اپنے مستقبل کے لئے پریشان ہیں صرف پاکستان سے ایک سال میں 3لاکھ پاکستانی اپنے وطن ِ عزیز سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے جب اپنے ہی ائیرپورٹ پرکوئی سرکاری اہلکار اپنے کسی ہم وطن کا پاسپورٹ پھاڑ ڈالے اور اس”سنگدلی”کا کوئی احتساب نہ ہو۔۔۔ جب ہماری جان ومال کے محافظ اغوا برائے تاوان میں ملوث ہوجائیں یاڈاکے مارتے پکڑے جائیں یا عام آدمی کو سڑکوں پر،سرکاری دفاترپر،چوک چوراہوں پر ذلیل کرکے ان کی عزت ِ نفس مجروح کرنا معمول بن جائے تو نقل مکانی واجب ہوجاتی ہے۔کیا حکمرانوں کے نزدیک ہم ریونیو جنریٹ کرنے والی کوئی چیز ہیں۔کوئی فالتوشے ہیں کہ ہمارا کوئی والی وارث نہیں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ گذشتہ ایک700 سال کے دوران مسلمانوں نے کوئی تخلیقی یا تحقیقاتی کارنامہ سرانجام نہیں دیا اس کے برعکس غیرمسلم بالخصوص یہودیوں نے نت نئی ایجادات کرکے دنیا بدل کررکھ دی اورپوری دنیا پر اقتصادی، معاشرتی اور معاشی طورپرچھا گئے ذرا غورکریں اپنے گھروں،معاشی پلیٹ فارمز اور دفاترکا جائزہ لیں کہ ان میں مسلمانوں کی بنائی ہوئی یاایجادات کتنی ہے یقینا آپ کو مایوسی ہوگی کہ ہم کسی بھی میدان میں،کسی بھی محاذ پر کسی طور بھی ان کے ہم پلہ نہیں ہیں معاف کرنا ہم پلہ توکیا ہم ان کے عشر عشیر نہیں۔کیاحالات سدھارنے کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائدنہیں ہوتی عام مسلمانوں کے دل زخمی ہیں وہ انتہائی کرب سے سوچتے ہیں ہم کب عالمی طاقتوں کی غلامی سے آزادہوں گے؟




