تحریر۔محمد انور بھٹی
بندن میاں کہتا ہے کہ ہم سچ سے دامن کیوں چھڑاتے ہیں؟ یہ سوال میں نے پہلی بار اس دن اپنے آپ سے پوچھا جب میں نے ایک سچ بول کر پورا کمرہ خاموش کر دیا تھا۔ سب لوگ موجود تھےسب باتیں ہو رہی تھیں قہقہے سنائی دے رہے تھےمگر جیسے ہی سچ زبان سے نکلا تو یوں لگا جیسے کسی نے محفل کی بتی گل کر دی ہو۔ اسی لمحے مجھے سمجھ آ گئی کہ مسئلہ سچ میں نہیں مسئلہ ہم میں ہے۔ہم سچ بولنے سے نہیں گھبراتے ہم سچ کے بعد آنے والی قیمت سے ڈرتے ہیں۔ ہم سچ سننے سے نہیں بھاگتےہم اس آئینے سے بھاگتے ہیں جو سچ ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ یہ سوال کسی ایک فرد کا نہیں پورے معاشرے کا مقدمہ ہے۔ ہم سب اس کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ کوئی ملزم ہےکوئی گواہ اور کوئی جج بنا بیٹھا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں شریک جرم ہیں۔جھوٹ اور سچ کی حقیقت ہم جانتے ہیں کہ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ یہ بات ہمیں بچپن سے سنائی گئی مگر ہم نے اسے نصیحت سمجھ کر سنا اور زندگی میں اس کے الٹ چلنا سیکھ لیا۔ ہم جھوٹ بولتے نہیں ہم جھوٹ جیتے ہیں۔ ہم جھوٹ کو صرف زبان تک محدود نہیں رکھتے ہم اسے سوچ میں اتارتے ہیں فیصلوں میں شامل کرتے ہیں اور پھر اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ جھوٹ کیوں بولا جاتا ہےاصل سوال یہ ہے کہ سچ ہمیں بوجھ کیوں لگنے لگا ہے؟ سچ سےہمیں خطرہ کیوں محسوس ہوتا ہے اور جھوٹ ہمیں سہارا کیوں دیتا دکھائی دیتا ہے؟ شاید اس لیے کہ سچ ذمہ داری مانگتا ہے اور ہم ذمہ داری سے بھاگنے کی عادت ڈال چکے ہیں۔ جھوٹ ہمیں یہ سہولت دیتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا بوجھ کسی اور کے سر ڈال دیں۔
خوراک پرورش یا ضمیر؟ لوگ اکثر کہتے ہیں یہ سب خوراک کا اثر ہے پرورش کی کمی ہے یا نظام تعلیم کی خرابی ہے۔ بندن میاں کہتا ہے کہ خوراک جسم بناتی ہےکردار نہیں۔ پرورش ماحول دیتی ہےمگر سمت نہیں اور نظام تعلیم معلومات دیتا ہے مگر جرات نہیں۔ اصل مسئلہ نیت اور ضمیر کا ہے۔ جس دن ضمیر نے بولنا چھوڑ دیا اسی دن جھوٹ نے حکومت سنبھال لی۔میں نے ایک باپ کو اپنے بچے کو یہ سکھاتے دیکھا کہ اگر استاد پوچھے تو کہہ دینا میں نے کام کر لیا تھا کاپی گھر رہ گئی۔ وہیں میں ٹھٹھک گیا مجھے لگا جیسے کسی نے مستقبل کے ضمیر پر پہلا زخم لگا دیا ہو۔ وہ بچہ مسئلہ حل کرنا نہیں سیکھ رہا تھا وہ یہ سیکھ رہا تھا کہ جھوٹ مسئلے کا جائز حل ہے۔ پھر ہم حیران کیوں ہوتے ہیں کہ بڑے ہو کر یہی بچے دفتر میں فائلوں میں رد و بدل کرتے ہیں عدالت میں حلف توڑتے ہیں اور اقتدار میں آ کر قوم سے وعدے نبھانے کے بجائے بہانے بیچتے ہیں۔
جھوٹ کی معاشرتی کرنسی۔ہم نے سچ کو اخلاقیات کے ایک خوبصورت باب میں قید کر دیا اور جھوٹ کو حکمت عملی کا نام دے دیا۔ جھوٹ بولنے والا ہوشیار کہلاتا ہے اور سچ بولنے والا بے وقوف۔ ہم نے مصلحت کو اصول پر ترجیح دی اور وقتی فائدے کو دائمی اقدار سے بڑا بنا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج جھوٹ ایک باقاعدہ کرنسی بن چکا ہے۔بازار میں جھوٹ بکتا ہے دکاندار مصنوعی قیمتیں بڑھاتے ہیں مگر کس نے پوچھا کہ سچ کیا ہےعدالت میں جھوٹ چلتا ہےحلف کے باوجود الزامات مسخ کیے جاتے ہیں اور ثبوت چھپائے جاتے ہیں۔دفتر میں جھوٹ ترقی پاتا ہے فائلیں بدل دی جاتی ہیں رپورٹیں مسخ کر دی جاتی ہیں اور محنت کرنے والے پس پشت رہ جاتے ہیں سیاست میں جھوٹ نعرہ بنتا ہے وعدے کیے جاتے ہیں مگر بجائے عمل کے بہانے بیچ دیے جاتے ہیں۔
عبادت میں جھوٹ داخل ہو جاتا ہے سچائی کے بجائے دکھاوا اور نمائش کو ترجیح دی جاتی ہے۔ہم جھوٹ بیچتے ہیں کیونکہ اس کی مانگ ہے ہم جھوٹ خریدتے ہیں کیونکہ سچ مہنگا پڑتا ہےہم جھوٹ کھاتے ہیں کیونکہ سچ ہضم نہیں ہوتا۔ ہم نے اپنے اندر وہ معدہ ہی نہیں بنایا جو سچ کو برداشت کر سکے۔
خوف، تنہائی اور سہولت ہم چاہتے ہیں کہ سچ ہماری مرضی کے مطابق ہوہمارے فائدے کے مطابق ہو۔ اگر سچ ذرا سا بھی ہمارے مفاد کے خلاف ہو تو ہم اسے سازش قرار دے دیتے ہیں۔ہم سچ اس لیے نہیں بولتے کہ ہمیں رد کیے جانے کا خوف ہوتا ہےہمیں نوکری جانے کا ڈر ہوتا ہےہمیں رشتہ ٹوٹنے کا اندیشہ ہوتا ہےہمیں تنہا رہ جانے کا خوف ستاتا ہے۔مگر بندن میاں پوچھتا ہے کیا اکثریت کے ساتھ کھڑا ہونا ہی حق کی علامت ہےیا حق کے ساتھ کھڑا ہونا اصل معیار ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ سچ ہمیشہ اکیلا رہا مگر آخرکار اسی نے تاریخ لکھی۔
آئینہ اور خود احتسابی ہم سچ اس لیے نہیں سنتے کہ سچ آئینہ دکھاتا ہے اور ہم نے آئینوں پر پردے ڈال رکھے ہیں۔ سچ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں اور یہ کام ہمیں سب سے مشکل لگتا ہے۔اس لیے ہم سچ بولنے والے کو باغی کہہ دیتے ہیں منفی ذہن کا مالک قرار دیتے ہیں یا خاموش کرا دیتے ہیں۔ معاشرے میں سب سے خطرناک شخص وہ نہیں جو جھوٹ بولتا ہے سب سے خطرناک وہ ہوتا ہے جو سچ بول کر بھی خاموش کر دیا جائے۔لوگ پوچھتے ہیں کیا یہ سب ہماری خوراک کے اثرات ہیں؟ بندن میاں کہتا ہے اصل خوراک وہ نہیں جو ہم پلیٹ میں رکھتے ہیں اصل خوراک وہ ہے جو ہم روزانہ اپنے ذہن میں ڈالتے ہیں۔ جھوٹے بیانیےآدھی سچائیاںمسخ شدہ خبریں مفاد پرست تجزیے یہی وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ ہماری سوچ کو مفلوج کر رہا ہے۔
سچ کے ساتھ زندگی۔ہم نے سچ کو مشکل اس لیے بنا دیا ہے کیونکہ سچ قیمت مانگتا ہےقربانی مانگتا ہےاور ہم مفت کے فائدوں کے عادی ہو چکے ہیں۔ جھوٹ ہمیں فوری سہولت دیتا ہے وقتی تحفظ دیتا ہےتالیاں دلواتا ہےمگر وہ تالیاں کھوکھلی ہوتی ہیں وہ تحفظ عارضی ہوتا ہے اور وہ سہولت آخرکار ایک بڑی تباہی میں بدل جاتی ہے۔آج مسئلہ یہ نہیں کہ ہم سچ نہیں جانتے مسئلہ یہ ہے کہ ہم سچ کے ساتھ جینا نہیں چاہتے۔ کیونکہ سچ کے ساتھ جینے کا مطلب خود کو بدلنا ہےاپنی سہولتیں قربان کرنا ہےاپنے جھوٹے بت گرانا ہے اور یہ سب کرنا ہم نے کبھی سیکھا ہی نہیں۔
اصلاح اور سچائی کی دعوت۔یہ تحریر کسی ایک فرد پر الزام نہیں یہ ایک اجتماعی خود احتسابی کی دعوت ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بہتر ہو تو ہمیں سب سے پہلے سچ کے ساتھ اپنی دشمنی ختم کرنی ہوگی۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ جھوٹ وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر طویل مدت میں وہ اعتماد، رشتے، ادارے اور آخرکار انسان سب کچھ تباہ کر دیتا ہے۔اصلاح کسی بڑے انقلاب سے شروع نہیں ہوتی اصلاح ایک سچ سے شروع ہوتی ہے وہ سچ جو انسان خود سے بولےآئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ سے سوال کرےمیں کہاں جھوٹ بول رہا ہوں؟کہاں سہولت کی خاطر حق چھوڑ رہا ہوں؟کہاں اپنے بچوں کو غلط مثال دے رہا ہوں؟
بندن میاں کہتا ہے کہ سچ کڑوا ضرور ہے مگر شفا اسی میں ہے۔ جھوٹ میٹھا ضرور ہے مگر زہر اسی میں ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم جھوٹ کے ساتھ آسان زندگی چاہتے ہیں یا سچ کے ساتھ مشکل مگر باوقار زندگی۔سچ آج بھی وہیں کھڑا ہے اکیلا خاموش مگر مضبوط۔ سوال یہ ہےکیا ہم میں اتنی ہمت ہے کہ اس کے ساتھ کھڑے ہو سکیں یا نہیں
