جو قوم اپنے شعور کو زندہ رکھتی ہے وہ کبھی غلام نہیں رہتی

تحریر۔: محمدانوربھٹی

بندن میاں کھاٹ پر بیٹھا حقے کا کش لگاتا ہے آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے بیٹا تم کہتے ہو میں کیا کہوں کیا بولوں کیا لکھوں تو سنو یہ مصرعہ کہ یہاں ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے اب شعر نہیں رہا یہ ہمارے حال کی تصویر ہے دانائی کو یہاں خاموشی کی سزا ملی ہے اور چاپلوسی کو عقل کا تمغہ جہاں جھوٹ صرف زبان پر نہیں نصاب میں پڑھایا جاتا ہے اور سچ کو کبھی دیوار سے لگایا جاتا ہے کبھی مصلحت کے کفن میں لپیٹ کر دفن کر دیا جاتا ہے بندن میاں کہتا ہے ہم سچ اس لیے نہیں بولتے کہ ہم نے سچ کی قیمت لگا دی ہے کبھی نوکری کبھی عزت کبھی جان اور حقیقت سے اس لیے منہ موڑ لیتے ہیں کہ آئینہ ہمیں ہمارا اپنا چہرہ دکھاتا ہے اور ہم نے اپنے چہرے پہ نقاب اوڑھنے کی عادت ڈال لی ہے اس لیے نظریں چرا کر کسی اور کو الزام دے کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں بندن میاں حقہ کاکش لیکر دھواں ہوا میں چھوڑ کر کہتا ہے ملک کے ساتھ کھلواڑکوئی نہیں بات نہیں یہ روز کا تماشا ہے قانون کو موم بنا کر انگلیوں پر نچایا جاتا ہے اداروں کو کمزور کر کے آمنے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے معیشت کو نمبروں کے نشے میں بہلایا جاتا ہے اور قوم کو نعروں کی لوری سنا کر سلا دیا جاتا ہے قربانی کا مطالبہ عوام سے ہوتا ہے اور چھری بھی انہی کے گلے پر چلتی ہے وسائل چند ہاتھوں میں سمٹتے جاتے ہیں اور اکثریت کے حصے میں صرف صبر کا درس رہ جاتا ہے بندن میاں کہتا ہے تعلیم کو ڈگری اور شعور کو خطرہ بنا دیا گیا سوال کرنے والا باغی اور لوٹنے والا قابل منتظم کہلاتا ہے سچ بولنے والا میڈیا اشتہار سے محروم ہو جاتا ہے انصاف کرنے والی فائل گم ہو جاتی ہے اور ایماندار افسر کا مقدر تبادلہ بن جاتا ہے پھر ہم کہتے ہیں عقل کہاں ہے بندن میاں مسکرا کر کہتا ہے عقل تو ہے مگر خاموش ہے کیونکہ ہمیں سکھایا گیا ہے کہ بہاؤ کے خلاف تیرنا دانشمندی نہیں مگر یاد رکھو بیٹا جس دن ہم نے یہ مان لیا کہ خاموشی ہی عقل ہے اسی دن ہر شاخ پر الو بیٹھے گا درخت سوکھیں گے اور جنگل میں خاموشی کا شور بڑھتا جائے گا اور اصلاح اسی دن سے شروع ہو گی جس دن ہم سچ بولنے کا حوصلہ اور سچ سننے کی ہمت پیدا کر لیں گے بندن میاں کھاٹ کے کنارے بیٹھ کر ایک لمبا سانس لیتا ہے اور دھواں دھیرے دھیرے ہوا میں گھلتا ہے کہتا ہے بیٹا لوگ سمجھتے ہیں کہ میں محض ایک بوڑھا شخص ہوں جو چارپائی پر بیٹھ کر حقے کی آہ بھر رہا ہے مگر اصل میں میں تمہارے دل کا آئینہ ہوں میں تمہارے خوف کی عکاسی ہوں میں تمہارے چھپے ہوئے سوالوں کا جواب ہوں میں وہ آواز ہوں جو تم سنتے ہو مگر یقین نہیں کرتے تمہیں لگتا ہے کہ حالات بدلنا مشکل ہے مگر حالات کی تبدیلی کا آغاز تمہارے اندر کے احساس سے ہوتا ہے ہر جھوٹ جو تم نے سنا ہر جھوٹ جو تم نے بولا ہر اندھیرا جو تم نے برداشت کیا وہ صرف تمہاری خاموشی کی وجہ سے جڑ پکڑتا ہے اگر تم نے سوچا کہ تم ایک چھوٹے سے شخص ہو اور تمہارا عمل کوئی فرق نہیں ڈال سکتا تو غلط سوچا تمہاری ایک بات کسی کی زندگی بدل سکتی ہے تمہاری ایک نگاہ کسی کا حوصلہ بڑھا سکتی ہے تمہاری ایک کوشش کسی ادارے کی تقدیر بدل سکتی ہے آج بندن میاں اپنی گہری آنکھیں تمہاری طرف کر کے کہتا ہے بیٹا لوگ کہتے ہیں کہ معاشرہ بگڑ چکا ہے کہ ہر طرف فساد ہے مگر یاد رکھو فساد کی نشوونما خاموشی میں ہوتی ہے اگر تم نے بولنا شروع کر دیا تو فساد کی جڑ بھی کانپنے لگے گی اگر تم نے حق کے لیے قدم بڑھایا تو ظلم کی بنیاد ہلنے لگے گی یہ کوئی نظارہ یا محض بات نہیں بلکہ تمہارے اور تمہارے جیسے لوگوں کی ہمت کی کہانی ہے بندن میاں دھواں پھونکتے ہوئے کہتا ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ ملک کیسے کھلواڑ کا شکار ہے لیکن تمہارے اندر چھپی ہوئی سوچ اور تمہارا شعور سب کچھ بدل سکتا ہے تمہارے علم کو سچائی کی طاقت میں بدل دو تم اپنے خوف کو حوصلے میں تبدیل کرو تم اپنے سوال کو عمل میں ڈھال دو اور ہر اندھیرا جو تم نے برداشت کیا ہے اس کا مقابلہ روشنی سے کرو یاد رکھو بیٹا سچائی کا راستہ آسان نہیں مگر یہی راستہ تمہیں عزت دے گا یہی راستہ تمہیں سکون دے گا یہی راستہ تمہیں بدلتے ہوئے ملک کی تصویر دکھائے گا بندن میاں کہتا ہے بیٹا اکثر لوگ صرف اپنی تکلیف کو دیکھتے ہیں اور دوسروں کی حالت کو نظر انداز کر دیتے ہیں مگر ایک قوم کے درد کا احساس ہر فرد کی ذمہ داری ہے تمہارے اندر جو شعور ہے اگر اسے زندہ رکھو گے تو تم نہ صرف خود کو بدل سکو گے بلکہ اپنے آس پاس کے معاشرے کو بھی بدل سکو گے تمہاری باتیں تمہارا عمل تمہارا شعور یہ سب مل کر ایک نئی لہر پیدا کریں گے جو ہر شاخ پر بیٹھے الو کو ہلا دے گی اور درخت دوبارہ سبز ہو جائیں گے جنگل میں خاموشی کا شور ختم ہو جائے گا اور روشنی کی بارش ہوگی بندن میاں مسکرا کر کہتا ہے بیٹا یاد رکھو کہ اصلاح کبھی کسی بڑے یا طاقتور کے آنے کا انتظار نہیں کرتی اصلاح اس لمحے شروع ہوتی ہے جب تم اپنے اندر کے خوف کو مات دے کر سچائی کے لیے قدم بڑھاتے ہو جب تم بولنے کا حوصلہ کرتے ہو جب تم خاموشی کی دیوار توڑتے ہو تو یہی لمحہ تمہارا اور قوم کا نجات کا لمحہ ہوتا ہے اس لیے ہر چھوٹے سے عمل کی طاقت کو کبھی کم نہ سمجھو ہر لفظ جو تم بولتے ہو ہر حرکت جو تم کرتے ہو یہ سب اصلاح کی بنیاد ہو یہ سب سبق آموز ہو یہ سب تبدیلی کی شروعات ہو اور بندن میاں آخری بار حقے کا دھواں آہستہ آہستہ ہوا میں گھولتےہوئے کہتا ہے بیٹا ہر شاخ پر الو بیٹھا نظر آئے تو ڈرنا مت یہ تمہیں سچ بولنے کی یاد دلاتا ہے یہ تمہیں چمکتے ہوئے مستقبل کی راہ دکھاتا ہے یہ تمہیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی میں نہیں بلکہ بولنے میں طاقت ہے اور جو قوم اپنے شعور کو زندہ رکھتی ہے وہ کبھی غلام نہیں رہتی وہ کبھی جھوٹ کے سائے میں نہیں چھپتی وہ ہمیشہ روشنی کی طرف بڑھتی ہے اور یہی سبق تمہارے دل میں اترنا چاہیے تم خاموش نہ رہو تم بولو تم سمجھاؤ تم روشن کرو اور ہر شاخ پر بیٹھے الو کو سبق سکھاؤ۔

Exit mobile version