ملک کی جیلوں میں سزا کا بڑا حصہ کاٹنے والے قیدیوں اور 80 سال یا زائد عمر کے قیدیوں کی اپیلوں کو ترجیحی بنیادوں پر سننے کا فیصلہ

اسلام آباد: ملک کی جیلوں میں سزا کا بڑا حصہ کاٹنے والے قیدیوں اور 80 سال یا زائد عمر کے قیدیوں کی اپیلوں کو ترجیحی بنیادوں پر سننے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ اہم فیصلے منگل کو چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیے گئے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں سپریم کورٹ میں کیس مینجمنٹ کو مؤثر، شفاف اور سہل بنانے کے لیے متعدد اصلاحاتی اقدامات کی منظوری دی گئی۔ مقدمات کے بہتر انتظام کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کی ماہانہ کاز لسٹ اب پیشگی جاری کی جائے گی، جبکہ ہفتہ وار کاز لسٹ ہر بدھ کے روز شائع کی جائے گی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ اگر کسی مقدمے کو ڈی لسٹ کیا جائے تو کم از کم 48 گھنٹے قبل فریقین کو آگاہ کیا جائے گا، تاہم اگر ڈی لسٹنگ 24 گھنٹوں کے اندر ہو تو ایسے مقدمات کو دیگر دستیاب بینچز کے سامنے مقرر کیا جا سکے گا۔
مزید کہا گیا کہ فوری سماعت سے متعلق پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ سزا کا بڑا حصہ کاٹنے والے قیدیوں کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے گا جبکہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے قیدیوں کے مقدمات کو بھی فوری سماعت کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے اور احکامات دستخط کے فوری بعد ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جائیں گے اور ان کی نقول ای میل کے ذریعے متعلقہ وکلاء کو بھی ارسال کی جائیں گی۔ لیٹ ہیئرنگ کے انعقاد کے لیے چیف جسٹس کی پیشگی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
مزید یہ بھی طے پایا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ روزانہ صبح 11 بجے سے 11:15 تک سہولت سینٹر میں وکلاء اور سائلین کے مسائل سنیں گے تاکہ عدالتی امور میں سہولت اور شفافیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

Exit mobile version