امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
ایک امریکی اخبار کے مطابق بدھ کے روز نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان رابطہ ہوا، اسی دن امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں بعض انتہائی اہم ذرائع سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں کا سلسلہ رک گیا ہے اور سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اس بیان کو مبصرین نے اس بات کی علامت قرار دیا کہ امریکا فی الحال ایران پر فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ گزشتہ سال جون میں بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے اسی نوعیت کے مبہم اشارے سامنے آئے تھے، حالانکہ اس وقت ایران پر حملے کا فیصلہ تقریباً کر لیا گیا تھا۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے فوجی کمانڈرز کی جانب سے پیش کردہ تمام آپشنز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے اور حتمی فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایرانی سکیورٹی ادارے ملک گیر احتجاج سے متعلق آئندہ کیا اقدامات کرتے ہیں۔
اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحات میں تبدیل کیا، جس کی وجہ خلیجی ممالک کی سفارتی کوششیں تھیں۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن کے ساتھ ہنگامی رابطے کیے اور اس مؤقف پر زور دیا کہ تہران کو مثبت طرزِعمل دکھانے کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔





