اپریل 19, 2026

علم جو انسان نہ بنائے وہ بوجھ ہے اور جو جھکا دے وہی نجات ہے

تحریر: محمد انور بھٹی

علم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے، جو انسان کے کردار، زبان اور رویّے میں جھلکنی چاہیے۔ علم اگر آداب سے خالی ہو تو وہ روشنی کے بجائے غرور پیدا کرتا ہے، اور اگر برداشت سے عاری ہو تو اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتا ہے۔ اصل عالم وہ نہیں جو ہر بات میں جیت جائے بلکہ وہ ہے جو اختلاف میں بھی شائستگی نہ چھوڑے، جو غلطی پر ضد کے بجائے رجوع کو ترجیح دے، جو سیاست اور اقتدار کے شور میں سچ کو خاموشی سے زندہ رکھے، جو لیڈر بن کر بھی خدمت گزار رہے، اور جو حقیقت کے سامنے سر جھکانا اپنی توہین نہ سمجھے۔علم کا اصل امتحان کتاب کے صفحوں پر نہیں بلکہ عملی زندگی میں ہوتا ہے، جہاں زبان کا وزن ناپا جاتا ہے، لہجے کا امتحان لیا جاتا ہے، اور برداشت کو پرکھا جاتا ہے۔ جو شخص علم کے نام پر نفرت بانٹے وہ عالم نہیں بلکہ فتنہ ہے، اور جو شخص علم کے ساتھ حلم، وقار اور عاجزی کو اپنا لے وہی دراصل انسانیت کا رہبر ہے۔ کیونکہ علم اگر انسان کو انسان نہ بنائے تو وہ بوجھ بن جاتا ہے، اور اگر انسان کو جھکا دے تو وہی علم نجات بن جاتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ وہی لوگ یاد رکھے گئے جنہوں نے علم کو انا کی سیڑھی نہیں بنایا بلکہ خدمت کا وسیلہ بنایا۔ جن کے علم سے معاشرہ نرم ہوا، زبانیں شائستہ ہوئیں، اور اختلاف میں بھی وقار باقی رہا۔ ایسے لوگ مناظروں میں نہیں بلکہ کردار میں بولتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ دلیل اگر لہجے کی سختی میں لپٹی ہو تو اثر کھو دیتی ہے، اور سچ اگر تکبر کے ساتھ پیش کیا جائے تو جھوٹ سے بھی زیادہ نقصان دہ بن جاتا ہے۔علم کا سب سے بڑا دشمن لاعلمی نہیں بلکہ وہ غرور ہے جو علم کے نام پر جنم لیتا ہے۔ یہی غرور انسان کو سننے سے روکتا ہے، یہی غرور سیکھنے کے دروازے بند کر دیتا ہے، اور یہی غرور اختلاف کو ذاتی جنگ بنا دیتا ہے۔ حالانکہ اختلاف تو علم کی روح ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس میں ادب زندہ رہے، احترام قائم رہے، اور نیت اصلاح کی ہو نہ کہ تحقیر کی۔علم اگر دل میں اتر جائے تو زبان خود بخود نرم ہو جاتی ہے، اور اگر صرف دماغ تک محدود رہے تو زبان تلوار بن جاتی ہے جو ہر مخالف کو کاٹنے پر آمادہ رہتی ہے۔ اصل مسئلہ علم کی کمی نہیں بلکہ اخلاق کی کمی ہے۔ ہم نے علم تو حاصل کر لیا مگر حلم کو بھول گئے، ہم نے دلائل تو سیکھ لیے مگر برداشت سے ناآشنا ہو گئے، ہم نے کتابیں پڑھ لیں مگر انسان پڑھنا بھول گئے۔ایک سچا عالم وہ ہوتا ہے جو یہ جانتا ہو کہ وہ بھی غلط ہو سکتا ہے، جو اپنی بات کو آخری سچ سمجھنے کے بجائے سچ کی تلاش میں رہتا ہو، جو اختلاف کو اپنی توہین نہیں بلکہ اپنی اصلاح کا موقع سمجھے، اور جو سوال کرنے والے کو جاہل نہیں بلکہ متجسس سمجھے، کیونکہ سوال ہی علم کی بنیاد ہے۔ جو شخص سوال سے گھبرا جائے وہ دراصل اپنے علم کے کمزور ہونے سے خوفزدہ ہوتا ہے۔علم جتنا گہرا ہوتا ہے اتنا ہی عاجز بنا دیتا ہے، اور جتنا سطحی ہو اتنا ہی شور مچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاموشی اکثر گہرے علم کی علامت ہوتی ہے، اور چیخنا کمزوری کی پہچان۔علم اور اقتدار جب اکٹھے ہو جائیں تو امتحان اور بھی سخت ہو جاتا ہے، کیونکہ اقتدار انسان کو بلند کر دیتا ہے، اور علم اگر ساتھ نہ دے تو غرور آسمان کو چھونے لگتا ہے۔ لیکن وہی علم جو انسان کو جھکنا سکھائے، وہ اقتدار کو بھی عبادت بنا دیتا ہے۔ ایسے لوگ لیڈر کہلاتے ہیں مگر خود کو خادم سمجھتے ہیں۔ ان کے فیصلوں میں ذاتی انا نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی ہوتی ہے، ان کی سیاست میں نفرت نہیں بلکہ حکمت ہوتی ہے، ان کی تقریر میں آگ نہیں بلکہ روشنی ہوتی ہے، اور ان کی خاموشی میں بھی پیغام ہوتا ہے۔
ہم آج جس دور میں سانس لے رہے ہیں وہاں علم کی فراوانی ہے مگر دانائی کی قلت ہے۔ معلومات ہر ہاتھ میں ہیں مگر بصیرت نایاب ہو چکی ہے۔ ہر شخص بول رہا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ ہر کوئی خود کو حق پر سمجھتا ہے مگر حق کو سمجھنے والا کم ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں الفاظ دے دیے مگر وزن چھین لیا۔ ہم نے جملے تو سیکھ لیے مگر تاثیر کھو دی۔ ہم نے ردِعمل کو جرات سمجھ لیا اور بدتمیزی کو بے باکی کا نام دے دیا۔حالانکہ اصل جرات یہ ہے کہ انسان اختلاف کے باوجود اپنے لہجے کو قابو میں رکھے، اصل طاقت یہ ہے کہ انسان سچ کہے مگر دل نہ توڑے، اور اصل علم یہ ہے کہ انسان جیتنے کے بجائے جوڑنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ معاشرے دلیل سے نہیں بلکہ کردار سے بنتے ہیں، اور کردار زبان کے ایک ایک لفظ سے جھلکتا ہے۔ اگر ہم واقعی علم کے وارث بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارا علم ہمیں کیسا انسان بنا رہا ہے۔ کیا ہم زیادہ نرم ہو رہے ہیں یا زیادہ سخت؟ کیا ہم سننے کے قابل ہو رہے ہیں یا صرف بولنے کے عادی؟ کیا ہم اختلاف میں بھی انسانیت کو زندہ رکھ پا رہے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ اگر علم ہمیں انسان نہیں بنا رہا تو پھر وہ محض ایک بوجھ ہے، ایک ایسا بوجھ جو ہم خود بھی اٹھائے پھرتے ہیں اور دوسروں پر بھی لادتے ہیں۔
علم کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کی اوقات یاد دلا دے، کہ وہ جتنا بھی جان لے وہ پھر بھی سیکھنے کا محتاج ہے۔ یہی احساس انسان کو جھکاتا ہے، یہی احساس اسے بڑا بناتا ہے، اور یہی احساس اسے حقیقی عالم بناتا ہے۔ ورنہ ڈگریاں، عہدے اور القابات تو تاریخ میں بے شمار بکھرے پڑے ہیں، مگر تاریخ انہیں نہیں یاد رکھتی۔
اور اس آئینے میں جھانکنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ سچ ہمیشہ خوشنما نہیں ہوتا۔ سچ اکثر تکلیف دیتا ہے، انسان کو اس کی کمزوریوں سے روشناس کراتا ہے، اس کے غرور کو چوٹ پہنچاتا ہے، اور اس کی خود ساختہ عظمت کو توڑتا ہے۔ مگر یہی ٹوٹ پھوٹ دراصل تعمیر کا پہلا مرحلہ ہوتی ہے۔علم جب انسان کو سوال کرنے پر مجبور کرے تو وہ زندہ ہوتا ہے، اور جب انسان کو خود سے مطمئن کر دے تو وہ مر جاتا ہے۔ اسی لیے اہلِ دانش ہمیشہ اضطراب میں رہتے ہیں۔ وہ مطمئن نہیں ہوتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مطمئن ہو جانا جمود ہے، اور جمود موت کے برابر ہے۔ علم کا سفر سوال سے شروع ہوتا ہے اور سوال پر ختم نہیں ہوتا بلکہ سوال در سوال چلتا رہتا ہے۔ یہی سفر انسان کو متواضع رکھتا ہے، نرم دل بناتا ہے، اور دوسروں کے دکھ درد سے جوڑتا ہے۔مگر افسوس کہ ہم نے علم کو بھی نمائش بنا لیا ہے۔ ہم نے اسے مقابلہ بنا دیا ہے، فتح و شکست کے پیمانے میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ علم نہ کسی کو شکست دیتا ہے اور نہ کسی کو فاتح بناتا ہے۔ علم تو انسان کو انسان سے جوڑتا ہے، پل بناتا ہے دیوار نہیں۔ مگر جب علم انا کے ہاتھوں یرغمال ہو جائے تو وہ پل نہیں بلکہ دیوار بن جاتا ہے، فاصلے پیدا کرتا ہے، دلوں میں نفرت بھرتا ہے اور معاشروں کو تقسیم کر دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالم اور فتنہ گر کے درمیان لکیر مٹنے لگتی ہے۔ یہی وہ خطرہ ہے جس سے ہر صاحبِ علم کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں اس کا علم اس کے نفس کی خوراک تو نہیں بن رہا، کہیں اس کی زبان لوگوں کو قریب لانے کے بجائے دور تو نہیں کر رہی، کہیں اس کی تحریر اصلاح کے بجائے اشتعال تو نہیں پھیلا رہی، اور کہیں اس کی تقریر دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑ تو نہیں رہی۔کیونکہ علم کا معیار یہ نہیں کہ آپ کتنے لوگوں کو قائل کر لیتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کتنے لوگوں کے دل محفوظ رکھ پاتے ہیں۔ کتنے اختلافات کو نفرت بننے سے روک لیتے ہیں۔ علم اگر دلوں کی حفاظت نہ کر سکے تو وہ محض ذہنوں کا کھیل رہ جاتا ہے، اور ذہنوں کا کھیل اکثر خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ ذہن دلیل ڈھونڈ لیتا ہے مگر دل انصاف ڈھونڈتا ہے۔اسی لیے تاریخ میں وہی لوگ معتبر ٹھہرے جن کے علم میں دل کی حرارت شامل تھی، جن کے الفاظ میں انسانیت کی خوشبو تھی، جن کی خاموشی بھی تعلیم دیتی تھی، اور جن کا عمل ان کے علم کی تفسیر ہوتا تھا۔ وہ لوگوں کو نیچا دکھانے کے بجائے اٹھاتے تھے، غلطی پکڑنے کے بجائے ہاتھ تھام لیتے تھے، تنقید میں بھی خیرخواہی رکھتے تھے، اور اصلاح میں بھی نرمی۔ وہ جانتے تھے کہ انسان کو بدلا نہیں جاتا بلکہ سمجھا جاتا ہے، اور جو سمجھنے لگ جائے وہ خود بخود بدل بھی جاتا ہے۔علم کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ انسان کو جیتنے کے بجائے جھکنا سکھائے، کیونکہ جھکنے والا ہی دراصل بلند ہوتا ہے۔ اور جو اپنے علم پر اکڑ جائے وہ چاہے جتنا بڑا عالم ہو، حقیقت میں چھوٹا ہی رہ جاتا ہے ہمارےمعاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے علم کو کردار سے الگ کر کے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ ہم نے عالم کا معیار تقریر کی روانی، الفاظ کی چمک اور حوالوں کی کثرت بنا لیا ہے، مگر یہ دیکھنا چھوڑ دیا ہے کہ وہ شخص عام انسان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے، اختلاف سن کر کیسا ردِعمل دیتا ہے، تنقید پر کیسا رویہ اختیار کرتا ہے، اور طاقت ملنے پر کیسا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اصل امتحان یہی ہوتے ہیں۔کتاب بند کر دینا آسان ہے مگر زبان بند رکھنا مشکل، اسٹیج پر بولنا آسان ہے مگر عام آدمی کے سامنے عاجزی اختیار کرنا مشکل، تحریر لکھنا آسان ہے مگر اس پر خود عمل کرنا مشکل۔ اور یہی مشکل دراصل علم کا کڑا امتحان ہے۔ جو اس امتحان میں پورا اتر جائے وہی علم کا حق ادا کرتا ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ علم وہ نہیں جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کر دے، بلکہ علم وہ ہے جو آپ کو دوسروں کے برابر لا کھڑا کرے، جو آپ کو یہ احساس دلائے کہ ہر انسان قابلِ احترام ہے، ہر اختلاف دشمنی نہیں، ہر سوال گستاخی نہیں، اور ہر خاموشی کمزوری نہیں۔ جب یہ احساس پیدا ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ علم اپنا کام کر رہا ہے، اور جب تک یہ احساس پیدا نہ ہو، تب تک کتابیں پڑھتے رہنا کافی نہیں۔
کیونکہ علم کا سفر دماغ سے شروع ہو کر دل پر ختم ہوتا ہے، اور جو علم دل تک نہ پہنچے وہ راستے میں ہی گم ہو جاتا ہے۔