ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی امیگرنٹ ویزا کی پروسیسنگ سے متعلق امریکی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور امید ہے کہ امیگرنٹ ویزا کی معمول کی آن لائن پروسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ امیگرنٹ ویزا سے متعلق صورتحال امریکی امیگریشن پالیسیوں کے اندرونی جائزے کا حصہ ہے اور پاکستان اس عمل پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان نے ایران کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران میں پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر قسم کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ، دوست اور برادر ملک ہے، پاکستان ایران کو ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط موجود ہیں اور ایک مستحکم ایران پاکستان کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں حالیہ احتجاجات عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے باعث سامنے آئے، تاہم امید ہے کہ ایرانی حکومت کے اعلان کردہ معاشی اقدامات عوامی مسائل میں کمی لائیں گے۔ ترجمان کے مطابق ایران ایک مضبوط اور باحوصلہ قوم ہے اور پاکستان کو ایرانی قیادت اور عوام کی دانشمندی پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ ان چیلنجز پر قابو پا لیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے ایران سے متعلق جاری ٹریول ایڈوائزری کا اعادہ کیا ہے اور پاکستانی شہریوں کو ایران کے سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے تہران میں پاکستانی سفارتخانہ مکمل طور پر متحرک ہے اور پاکستانی سفیر و عملہ شہریوں کی سلامتی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
اس موقع پر ترجمان نے بھارتی آرمی چیف کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے تحت گھڑی گئی من گھڑت کہانیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور بھارت کے الزامات خود اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان سمیت خطے میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جبکہ بھارت میں ماورائے عدالت قتل اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی متعدد مثالیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ دفتر خارجہ نے بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بڑھتا ہوا انتہاپسندانہ اور مذہبی بنیادوں پر تشدد پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔
امریکی حکام سے رابطے میں ہیں ، امیگرنٹ ویزا کی معمول کی پروسیسنگ جلد بحال ہو جائے گی: دفتر خارجہ
