تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں جب یادوں کے دریچے سے جھانکتا ہے تو آنکھوں کے سامنے ایک جادوئی وادی کھل جاتی ہے جہاں بھاپ اگلتا انجن کسی دیو کی طرح نہیں بلکہ ایک مہربان بزرگ کی طرح سانس لیتا دکھائی دیتا ہے اور سیاہ دھواں فضا میں پھیل کر آسمان سے سرگوشی کرتا ہے یہ وہ زمانہ تھا جب مسافر ٹرین صرف لوہے اور پہیوں کا مجموعہ نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک چلتی پھرتی بستی ہوا کرتی تھی جہاں ہر چہرہ جانا پہچانا لگتا تھا بندن میاں کو آج بھی یاد ہے کہ پلیٹ فارم پر کھڑے ملازمین کی آنکھوں میں اجنبیت نہیں اعتماد ہوتا تھا کنڈکٹرگارڈ اور ایس ٹی ای کی آواز میں حکم نہیں اپنائیت ہوتی تھی گارڈ کی سبز جھنڈی صرف روانگی کا اشارہ نہیں بلکہ حفاظت کی ضمانت ہوتی تھی مسافر دل ہی دل میں مطمئن ہو کر بیٹھتے تھے کہ یہ لوگ ہمارے اپنے ہیں یہ ہمیں منزل تک چھوڑ کر ہی دم لیں گے اور ملازمین بھی مسافروں کو بوجھ نہیں امانت سمجھتے تھے بچوں کو گود میں اٹھا کر ڈبے میں چڑھانا بوڑھوں کے لیے نشست خالی کروانا پانی کا پوچھنا یہ سب ڈیوٹی نہیں روایت تھی ٹرین جب وادیوں میں داخل ہوتی تو پہاڑ خاموش ہو جاتے درخت جھک کر سلام کرتے اور پہیوں کی لے میں ایک عجیب سا سماع بندھ جاتا بندن میاں کو یوں لگتا جیسے یہ ریل نہیں چل رہی بلکہ وقت خود دھیرے دھیرے سرکتا جا رہا ہے ہر اسٹیشن پر رکنا صرف ٹھہراؤ نہیں ہوتا تھا بلکہ سانس لینے کا موقع ہوتا تھا چائے کی خوشبو میں باتیں گھلتی تھیں قہقہے بکھرتے تھے اور دل ایک دوسرے کے قریب آ جاتے تھے نہ کسی کو جلدی تھی نہ کسی کو خوف اس جادوئی وادی میں رفتار کم تھی مگر اعتماد بے حساب تھا اور یہی اعتماد اس دور کا اصل سکون تھا بندن میاں آج بھی جب آنکھیں بند کرتا ہے تو انجن کی سیٹی اسے ماضی کی اس وادی میں کھینچ لے جاتی ہے جہاں مسافر اور ملازم ایک ہی سفر کے ساتھی تھے اور ریل ایک سماع تھی جو دل کو تھام کر خاموش خوشی میں اتار دیتی تھی اور قاری اگر ذرا سا بھی دل کھول کر سنے تو وہ بھی اسی وادی میں کھو جائے جہاں ماضی اب بھی زندہ ہے سانس لیتا ہے اور یادوں کے دریچے میں آج بھی چراغ جلائے بیٹھا ہے
