تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں اپنی بیٹھک میں بیٹھا ہے۔ وہی پرانی بیٹھک جس کی دیواروں پر وقت کی گرد جمی ہے جس کے کونے میں ٹنگی لالٹین اب محض ایک علامت رہ گئی ہے اور جس کے در و دیوار نے نہ جانے کتنے سچ سنے اور کتنے جھوٹ سہہ لیے۔ اس بیٹھک میں خاموشی بولتی ہے اور بولنے والے لفظوں سے زیادہ وزن رکھتی ہے۔ بندن میاں کے ہاتھ میں کاغذ کا ایک نوٹ ہے۔ نیا نہیں ذرا سا مڑا ہوا شکن آلود جیسے یہ بھی اپنی زندگی گزار چکا ہو۔ وہ اسے غور سے دیکھتا ہے پھر آنکھیں بند کر کے ایک گہرا سانس لیتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے بیٹھک میں سماع بندھ گیا ہو۔ نہ قوالی نہ ساز بس لفظوں کی گونج جو دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی ہے اور پورے معاشرے کی بے حسی کو ننگا کر دیتی ہے۔ بندن میاں بولتا نہیں مگر اس کی خاموشی بولنے لگتی ہے۔ وہ کاغذ کا ٹکڑا جو اس کے ہاتھ میں ہے اچانک پورے عہد کا ترجمان بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں سب کچھ یہی ہے۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے یہی نوٹ یہی پرچیاں یہی رسیدیں یہی لفافے یہی فائلوں میں دبے کاغذ جن پر کچھ لکھا ہوتا ہے اور بہت کچھ چھپا ہوتا ہے۔ یہی لہجہ طے کرتے ہیں۔ اگر کاغذ کا ٹکڑا جیب میں ہو تو آواز میں نرمی آ جاتی ہے آنکھوں میں مسکراہٹ اتر آتی ہے الفاظ میں شرافت گھل جاتی ہے۔ اور اگر یہ کاغذ کا ٹکڑا نہ ہو تو لہجہ تیز، آواز کرخت اور مخاطب محض ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ بندن میاں نے دیکھا ہے کہ ایک ہی انسان دو لہجوں میں بات کرتا ہے۔ ایک اس وقت جب سامنے والے کے ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا ہو، اور دوسرا اس وقت جب ہاتھ خالی ہوں۔ رویے طے کرتے ہیں یہی کاغذ کے ٹکڑے۔ یہی فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ کو کرسی دی جائے گی یا کھڑا رکھا جائے گا آپ کو چائے پلائی جائے گی یا پانی بھی نصیب نہیں ہوگا آپ کی بات سنی جائے گی یا فائل کے نیچے دبا دی جائے گی۔ بندن میاں نے کتنی ہی بار دیکھا ہے کہ ایک حق دار صرف اس لیے دروازے سے لوٹا دیا گیا کہ اس کی جیب خالی تھی اور ایک نااہل کو صرف اس لیے سینے سے لگا لیا گیا کہ اس کے پاس کاغذ کے ٹکڑے تھے جن پر کچھ ہندسے چھپے ہوئے تھے۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے ضمیر کی قیمت طے کرتے ہیں۔ ضمیر جو کبھی انسان کی سب سے قیمتی متاع ہوا کرتا تھا آج ترازو میں رکھا جاتا ہے اور اس کے پلڑے میں کاغذ کے ٹکڑے رکھ کر وزن کیا جاتا ہے۔ بندن میاں کے کانوں میں آج بھی وہ بات گونجتی ہے جو ایک بزرگ نے کہی تھی کہ بیٹا ضمیر بیچا نہیں جاتا۔ مگر بندن میاں دیکھتا ہے کہ آج ضمیر کی باقاعدہ بولی لگتی ہے اور بولی لگانے والے بھی ہم ہیں خریدنے والے بھی ہم ہی ہیں۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے کردار کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ بتا دیتے ہیں کہ کون واقعی ایماندار ہے اور کون محض ایمانداری کا ڈھونگ رچائے بیٹھا ہے۔ یہ دکھا دیتے ہیں کہ کون مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور کون نوٹ کی خوشبو سونگھتے ہی راستہ بدل لیتا ہے۔ بندن میاں نے کئی ایسے کردار دیکھے ہیں جو تقریروں میں اصولوں کی بات کرتے ہیں مگر میز کے نیچے ہاتھ پھیلائے رکھتے ہیں۔ اگر کاغذ کے ٹکڑوں پر بھرپور روشنی ڈالنی ہو تو بندن میاں کی بیٹھک سے بہتر جگہ کوئی نہیں۔ یہاں ہر کاغذ اپنی کہانی سناتا ہے۔ یہاں نوٹ صرف نوٹ نہیں رہتا۔ یہ ماں کی دوائی بن جاتا ہے یہ بچے کی فیس بن جاتا ہے یہ بیٹی کے جہیز کا خواب بن جاتا ہے اور یہی نوٹ کسی افسر کے لیے محض ایک لفافہ ہوتا ہے جس سے اس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔ بندن میاں سوچتا ہے کہ قصور نوٹ کا نہیں قصور اس ہاتھ کا ہے جو اسے پکڑ کر فیصلہ کرتا ہے۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے رشتے ناپتے ہیں دوستی تولتے ہیں عزت کا معیار بناتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ بندن میاں کے گاؤں میں آدمی کو آدمی اس کے کردار سے پہچانا جاتا تھا۔ اس کی بات کی قیمت ہوتی تھی اس کے وعدے کا وزن ہوتا تھا۔ مگر اب وعدہ تب تک معتبر نہیں جب تک اس کے ساتھ کاغذ کا ٹکڑا نہ جڑا ہو۔ بندن میاں کو وہ دن یاد ہے جب ایک بیوہ عورت پنشن کے کاغذ ہاتھ میں لیے دھکے کھا رہی تھی اور کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہ تھا کیونکہ اس کے کاغذ میں لفافہ نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور سامنے والے کی آنکھوں میں صرف ہندسے۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے عدالتوں میں انصاف کو موڑ دیتے ہیں تھانوں میں ایف آئی آر کو زندہ یا مردہ کرتے ہیں دفاتر میں فائلوں کو چلتے یا رکتے ہیں۔ بندن میاں نے دیکھا ہے کہ سچ اگر ننگا ہو اور ہاتھ میں نوٹ نہ ہو تو سردی میں ٹھٹھرتا رہتا ہے اور جھوٹ اگر لفافہ اوڑھ لے تو ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں مزے کرتا ہے۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے مذہب کو بھی آلودہ کر دیتے ہیں منبر پر بیٹھا خطیب بھی اس وقت نرم ہو جاتا ہے جب عطیات کی پرچی بھاری ہو جائے۔ بندن میاں نے سنا ہے کہ کچھ فتوے بھی کاغذ کےٹکڑوں کے وزن سے بدل جاتے ہیں۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے میڈیا کی سرخیاں بناتے ہیں۔ خبر تب تک خبر نہیں بنتی جب تک اس کے پیچھے سرمایہ نہ ہو۔ سچ تب تک چیخ نہیں بنتا جب تک اس کے ساتھ اشتہار نہ جڑا ہو۔ بندن میاں حیران ہوتا ہے کہ سچ جو کبھی سب سے بڑی طاقت تھا آج کاغذ کا محتاج ہو گیا ہے۔بندن میاں کے ہاتھ میں پکڑا ہوا نوٹ پسینے سے بھیگ چکا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا کیسے ہماری رگوں میں اتر گیا کیسے اس نے ہمارے لہجےرویے ضمیر اور کردار سب خرید لیے۔ وہ خود سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم اتنے سستے ہو گئے ہیں کہ چند کاغذ کے ٹکڑوں میں بکتے چلے جاتے ہیں۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے تعلیم کو کاروبار بنا دیتے ہیں۔ استاد کا قلم تب تک نہیں چلتا جب تک فیس کا لفافہ بھرا نہ ہو۔ بندن میاں نے دیکھا ہے کہ نالائق پاس ہو جاتا ہے اور لائق فیل کیونکہ ایک کے پاس کاغذ تھا اور دوسرے کے پاس صرف محنت۔یہی کاغذ کے ٹکڑے سیاست میں ووٹ خریدتے ہیں۔ نظریات کا جنازہ نکلتا ہے اور منشور ردی میں بکتا ہے۔ بندن میاں نے الیکشن کے دن دیکھے ہیں کہ کیسے ایک نوٹ پوری قوم کے مستقبل پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے محبت کو بھی مشروط کر دیتے ہیں۔ رشتے تب تک قائم ہیں جب تک جیب بھری ہو۔ اس نے سنا ہے کہ بیٹے نے باپ کو اس لیے چھوڑ دیا کہ پنشن کم تھی اور بہو نے ماں کو اس لیے بوجھ سمجھا کہ اس کے پاس دینے کو کچھ نہ تھا۔ بندن میاں کے سامنے یہ نوٹ اب آئینہ بن چکا ہے۔ اس میں پورا معاشرہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ معاشرہ جو باتیں بہت کرتا ہے مگر عمل کم جس کے نعروں میں اخلاق ہے مگر بازار میں صرف نوٹ کی حکمرانی۔ یہی کاغذ کے ٹکڑے ہمیں ایک دوسرے سے دور کرتے ہیں کیونکہ ہم انسان کو انسان نہیں اس کی جیب دیکھ کر پہچانتے ہیں۔ بندن میاں کہتا ہے کہ جب تک ہم اس کاغذ کے ٹکڑے کو اپنی عقل اور ضمیر پر مسلط رکھیں گے نہ ہم آزاد ہوں گے نہ خوش۔ یہ کاغذ کے ٹکڑے سہولت دیتے ہیں یہ سچ ہے مگر یہ سہولت کب غلامی بن گئی ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔ ہم نے آسانی کے نام پر اپنے اصول گروی رکھ دیے۔ بندن میاں کی بیٹھک میں خاموشی گہری ہو جاتی ہے۔ نوٹ اب بھی اس کے ہاتھ میں ہے مگر گرفت ڈھیلی پڑ چکی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا اگر ضرورت تک محدود رہے تو رحمت ہے مگر جب یہی معیار بن جائے تو زحمت سے بڑھ کر لعنت بن جاتا ہے۔ وہ معاشرہ جہاں لہجہ رویہ ضمیر اور کردار سب کاغذ کے ٹکڑوں سے ناپے جائیں وہاں انسان محض ایک عدد بن کر رہ جاتا ہے۔ بندن میاں پوچھتا ہے کہ ہم کب واپس لوٹیں گے اس وقت کی طرف جب انسان کی قیمت انسان ہونے سے لگتی تھی۔ یہ سماع بندن میاں کی بیٹھک سے نکل کر گلیوں میں پھیل جاتا ہے۔ یہ چیخ نہیں یہ آہ ہے، جو ہر اس دل میں اترنی چاہیے جو کبھی نوٹ دیکھ کر جھک جاتا ہے اور انسان دیکھ کر منہ موڑ لیتا ہے۔ کاغذ کے ٹکڑے کو روشنی میں رکھ کر دیکھیں تو اس پر چھپی سیاہی سے زیادہ وہ سائے دکھائی دیتے ہیں جو ہم نے اپنے ضمیر پر ڈال رکھے ہیں۔ بندن میاں کہتا ہے کہ اگر ہم نے ان سایوں کو نہ ہٹایا تو یہی کاغذ کے ٹکڑے ہمیں مکمل اندھیرے میں لے جائیں گے۔آخر میں بندن میاں نوٹ کو تہہ کر کے ایک طرف رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ کاغذ کا ٹکڑا ہاتھ میں ہو یا نہ ہو انسان کو انسان رہنا چاہیے۔ جس دن انسان کی قیمت نوٹ سے زیادہ ہو گئی اسی دن معاشرہ زندہ ہو جائے گا۔ یہی اس سماع کا حاصل ہے، یہی بندن میاں کی بیٹھک کا پیغام اور یہی وہ آئینہ ہے جو ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔




