تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں کہتا ہے ہم جمہوریت کو کبھی حسن کا استعارہ بنا کر آنکھوں میں بٹھاتے ہیں کبھی اسی جمہوریت کو انتقام کا کوڑا بنا کر ایک دوسرے کی پیٹھ پر برساتے ہیں ہم جمہوریت میں رہتے ہوئے بھی اسے کوستے ہیں اور آمریت کے سائے میں بھی اسی جمہوریت کو گالیاں دیتے ہیں بندن میاں کہتا ہے اصل مسئلہ جمہوریت کا نہیں اصل مسئلہ ہمارا مزاج ہے جو آئین سے پہلے انا کو ووٹ دیتا ہے اصول سے پہلے مفاد کو منتخب کرتا ہے بندن میاں کی بیٹھک میں آج یہی سوال رکھا ہے کہ جمہوریت آخر ہے کیا تو بندن میاں مسکرا کر کہتا ہے جمہوریت نہ فرشتہ ہے نہ شیطان یہ تو محض ایک آئینہ ہے جس میں قوم اپنا چہرہ دیکھتی ہے اگر چہرہ بگڑا ہو تو آئینہ کا کیا قصور آئینہ تو وہی کچھ دکھاتا ہے جو اس کے سامنے آتا ہے بندن میاں کہتا ہے ہم نے جمہوریت کو تخت سمجھ لیا حالانکہ یہ تو ذمہ داری کی کرسی ہے ہم نے ووٹ کو پرچی سمجھا حالانکہ یہ تو امانت تھی ہم نے اقتدار کو غنیمت جانا حالانکہ یہ تو امتحان تھا بندن میاں کہتا ہے جمہوریت میں سب سے بڑا دھوکا یہ ہے کہ ہم ہر پانچ سال بعد خود کو معاف کر لیتے ہیں اور ہر روز منتخب ہونے والوں کو مجرم ٹھہراتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ حکمران فرشتے ہوں مگر ہم خود ووٹ دیتے وقت شیطان کی سرگوشی سن کر مہر لگاتے ہیں بندن میاں کہتا ہے جمہوریت میں اختلاف حسن ہے مگر ہم اختلاف کو دشمنی بنا لیتے ہیں تنقید حق ہے مگر ہم تنقید کو تذلیل بنا دیتے ہیں اقتدار خدمت ہے مگر ہم خدمت کو تجارت بنا لیتے ہیں پھر شکوہ کرتے ہیں کہ نظام خراب ہے بندن میاں کہتا ہے آمریت میں ہم چپ رہ کر محفوظ ہو جاتے ہیں اور جمہوریت میں بول کر خود کو بہادر سمجھتے ہیں مگر سچ یہ ہے کہ نہ خاموشی کردار ہے نہ شور انقلاب اصل کردار وہ ہے جو قانون مانے سوال اٹھائے اور اپنی باری پر خود کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرے بندن میاں کہتا ہے جمہوریت ہمارے مزاج کے خلاف نہیں ہم اپنے مزاج کو جمہوریت کے خلاف کر بیٹھے ہیں جب تک ہم برداشت سیکھ کر ووٹ نہیں دیں گے دیانت سیکھ کر اختیار نہیں لیں گے اور جواب دہی سیکھ کر اقتدار نہیں چلائیں گے تب تک جمہوریت حسن بھی لگے گی انتقام بھی لگے گی اور گالی بھی بندن میاں کہتا ہے جمہوریت کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ قوم کو وہی لوٹاتی ہے جو قوم اس میں ڈالتی ہے اگر شعور ڈالو گے تو استحکام نکلے گا اگر نفرت ڈالو گے تو انتشار نکلے گا اور اگر بندن میاں کی طرح سچ ڈالو گے تو شاید ایک دن امید بھی نکل آئے
بندن میاں کہتا ہے مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم جمہوریت کو صرف الیکشن کے دن یاد رکھتے ہیں باقی دنوں میں ہم بادشاہت کے خواب دیکھتے ہیں ہمیں ایسا حکمران چاہیے جو ہمارے حق میں فیصلہ کرے چاہے وہ فیصلہ قانون کے خلاف ہی کیوں نہ ہو بندن میاں کہتا ہے ہم انصاف اپنے لیے اور رعایت اپنے لیے چاہتے ہیں اصول دوسروں کے لیے ہیں قطار میں کھڑا ہونا دوسروں کے لیے ہے ٹیکس دینا دوسروں کے لیے ہے قانون ماننا دوسروں کے لیے ہے اور جب یہی سب کچھ حکمران بھی ہمارے جیسے نکلتے ہیں تو ہم چیخ اٹھتے ہیں کہ جمہوریت ناکام ہو گئی بندن میاں کہتا ہے ناکامی جمہوریت کی نہیں ہماری اجتماعی منافقت کی ہے
بندن میاں کی بیٹھک میں ایک بوڑھا بیٹھا کہتا ہے پہلے کے زمانے میں لوگ سادہ تھے تو نظام چل جاتا تھا بندن میاں ہنس کر کہتا ہے لوگ سادہ نہیں تھے لوگ شرمندہ ہو جاتے تھے جھوٹ پکڑا جاتا تھا تو منہ چھپاتے تھے آج ہم جھوٹ پکڑے جانے پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں اور اسے سیاسی مہارت کہتے ہیں بندن میاں کہتا ہے جمہوریت سچ پر کھڑی ہوتی ہے مگر ہم نے اسے چالاکی کے سہارے کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے دیوار ٹیڑھی ہے اور چھت گرنے کو ہے بندن میاں کہتا ہے ہم بار بار کہتے ہیں قوم نالائق ہے مگر سوال یہ ہے کہ قوم آخر ہوتی کون ہے کیا قوم آسمان سے اترتی ہے یا یہی ہم سب مل کر قوم بنتے ہیں بندن میاں کہتا ہے جب ہم خود قانون توڑتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں جب ہمارا بندہ قانون توڑ کر بچ نکلتا ہے تو پھر یہی تالیاں ایوانوں میں بھی گونجتی ہیں پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ایوان گونگے کیوں ہیں بندن میاں کہتا ہے جمہوریت میں طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے مگر ہم نے یہ طاقت نعرے بازی میں ضائع کر دی ہے ہم نے سوال کرنے کی طاقت گالی میں بدل دی ہے ہم نے ووٹ کی طاقت شخصیت پرستی کے حوالے کر دی ہے بندن میاں کہتا ہے ہم نے لیڈر کو مسیحا بنا لیا اور مسیحا سے سوال کرنا گناہ سمجھ لیا پھر جب وہی مسیحا ہمیں صلیب پر لٹکاتا ہے تو ہم کہتے ہیں سب قصور نظام کا ہے بندن میاں کہتا ہے آمریت ہمیں اس لیے اچھی لگتی ہے کہ وہاں سوال کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا وہاں حکم ملتا ہے اور ہم سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ اب فیصلہ کسی اور نے کر لیا مگر بندن میاں کہتا ہے یہ سکون قبر کا سکون ہوتا ہے جس میں سانس تو آتی ہے مگر آواز نہیں نکلتی جمہوریت کا شور زندگی کی علامت ہے مگر زندگی شور کے ساتھ ذمہ داری بھی مانگتی ہے بندن میاں کہتا ہے ہم جمہوریت کو مذہب سے لڑاتے ہیں حالانکہ جمہوریت نظام ہے عقیدہ نہیں اور ہم عقیدے کو نظام بنانے پر تلے رہتے ہیں بندن میاں کہتا ہے عقیدہ انسان کو بہتر بناتا ہے اور نظام انسان کے بہتر ہونے سے بہتر بنتا ہے مگر ہم نہ خود بہتر ہونا چاہتے ہیں نہ نظام کو درست طریقے سے چلانا چاہتے ہیں بندن میاں کہتا ہے ہمیں سڑک چاہیے مگر قانون کے بغیر ہمیں بجلی چاہیے مگر بل کے بغیر ہمیں انصاف چاہیے مگر اصول کے بغیر ہمیں آزادی چاہیے مگر ذمہ داری کے بغیر بندن میاں کہتا ہے یہ سب خواہشات جمہوریت میں پوری نہیں ہوتیں یہ سب خواب آمریت میں دکھائے جاتے ہیں اور جب آنکھ کھلتی ہے تو ہاتھ خالی ہوتے ہیں
بندن میاں کہتا ہے جمہوریت کی سب سے بڑی دشمن فوج نہیں بیوروکریسی نہیں سیاست دان نہیں بلکہ وہ شہری ہے جو خود کو قانون سے بالا سمجھتا ہے بندن میاں کہتا ہے جب شہری ٹھیک ہو جاتا ہے تو نظام خود بخود سیدھا ہونا شروع ہو جاتا ہے مگر ہم شہری بننے سے پہلے مالک بننے کی ضد کرتے ہیں
بندن میاں کہتا ہے ہم نے سیاست کو گالی بنا دیا اور گالی دینے والوں کو ہیرو بنا دیا بندن میاں کہتا ہے سیاست خدمت کا نام ہے مگر ہم نے اسے بدلہ لینے کا ذریعہ بنا لیا ہم اقتدار میں آ کر پچھلے حساب چکاتے ہیں اور اگلے زخم تیار کرتے ہیں پھر کہتے ہیں ملک آگے کیوں نہیں بڑھ رہا بندن میاں کہتا ہے جمہوریت میں وقت لگتا ہے صبر لگتا ہے برداشت لگتی ہے مگر ہم فوری انصاف فوری ترقی فوری تبدیلی چاہتے ہیں بندن میاں کہتا ہے جلدی صرف قبر میں ہوتی ہے قومیں آہستہ آہستہ بنتی ہیں مگر ہم ہر پانچ سال بعد نئی قوم مانگ لیتے ہیں بندن میاں کہتا ہے میڈیا جمہوریت کا ستون ہے مگر جب ستون بازار میں بکنے لگیں تو عمارت لرزتی ہے ہم خبر نہیں سننا چاہتے ہم اپنے دل کی بات سننا چاہتے ہیں بندن میاں کہتا ہے جب صحافت تماشہ بن جائے اور تماشائی منصف بن جائیں تو پھر فیصلے چیخوں پر ہوتے ہیں دلیل پر نہیں بندن میاں کہتا ہے ہم آئین کو کتاب سمجھتے ہیں جسے صرف عدالتوں میں کھولا جاتا ہے حالانکہ آئین تو روزمرہ کا ضابطہ ہے جسے گلی میں بازار میں دفتر میں گھر میں جینا ہوتا ہے بندن میاں کہتا ہے جب آئین صرف تقریر میں رہ جائے اور عمل میں نہ آئے تو جمہوریت بیمار ہو جاتی ہے بندن میاں کہتا ہے ہم کہتے ہیں ووٹ کی عزت کرو مگر ووٹر کی عزت نہیں کرتے ہم کہتے ہیں عوام طاقت ہیں مگر عوام کو صرف جلسوں میں یاد رکھتے ہیں بندن میاں کہتا ہے عوام طاقت تب بنتی ہے جب عوام کو شعور ملے اور شعور کتاب سے آتا ہے گالی سے نہیں جبکہ بدقسمتی سے کتاب ہم سے چھن چکی ہے بس گالیوں کا سبق زبانی رٹا دیا گیا ہے۔بندن میاں کہتا ہے جمہوریت میں سب سے مشکل کام ہار ماننا ہے ہم ہار کو شکست نہیں توہین سمجھتے ہیں اور جیت کو خدمت نہیں فتح سمجھتے ہیں بندن میاں کہتا ہے جب تک ہارنے والا نظام کو تسلیم نہیں کرے گا اور جیتنے والا خود کو جواب دہ نہیں سمجھے گا تب تک جمہوریت میدان جنگ بنی رہے گی بندن میاں کہتا ہے ہم نے سیاست کو خاندان کا کاروبار بنا دیا اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ نئی قیادت نہیں آتی بندن میاں کہتا ہے نئی قیادت گلیوں سے آتی ہے مگر ہم گلیوں کو سیاست کے قابل ہی نہیں سمجھتے بندن میاں کہتا ہے جمہوریت ہمیں وہ حکمران دیتی ہے جو ہم اس کے قابل ہوتے ہیں اگر ہم خود جھوٹے ہوں گے تو سچا حکمران کہاں سے آئے گا اگر ہم خود قانون شکن ہوں گے تو قانون پسند لیڈر کیسے پیدا ہوگا بندن میاں کہتا ہے بندن میاں کوئی فلسفی نہیں وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ جمہوریت کوئی جادو کی چھڑی نہیں یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں ہر دن ووٹ دینا پڑتا ہے اپنے عمل سے اپنی دیانت سے اپنی برداشت سے بندن میاں کہتا ہے اصل انقلاب بیلٹ باکس سے نہیں دل کے اندر سے شروع ہوتا ہے بندن میاں کہتا ہے جب ہم جمہوریت کو الزام دینے کے بجائے خود کو بدلنا شروع کریں گے تب جمہوریت حسن بھی لگے گی طاقت بھی لگے گی اور امید بھی اور شاید اس دن ہمیں آمریت کے خواب بھی نہیں آئیں گے کیونکہ ہم جاگتے ہوئے آزاد ہوں گے۔
