یونیورسٹی آف گجرات کا جامع اور انسان دوست تعلیمی ماڈل


تحریر : یاور عباس

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبہ کو اس وقت کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔چیلنجوں کا مردانہ وار مقابلہ ہی اصل کامیابی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ کو درپیش چیلنجوں میں مالی رکاوٹیں، تعلیمی عدم مساوات، رسائی کے مسائل اور ادارہ جاتی پائیداری سرفہرست ہیں۔گردشِ مدام کے اس پُر آشوب دور میں وہی جامعات نمایاں ہو کر سامنے آئیں گی جو تعلیم کو محض نصابی سرگرمی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری سمجھتے ہوئے طلبہ کی فلاح و بہبود کے ماڈل کو اپنانے کی راہ پر گامزن ہوں گی۔ یونیورسٹی آف گجرات (UoG) اسی وژن کی ایک واضح مثال ہے جہاں اسٹریٹجک منصوبہ بندی، تعلیمی معیار، طلبہ کی فلاح اور بنیادی سہولیات کو ایک مربوط فریم ورک کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
یہ ماڈل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک سرکاری جامعہ محدود وسائل کے باوجود کس طرح جامع، منصفانہ اور مستقبل دوست تعلیمی ماحول فراہم کر سکتی ہے۔یونیورسٹی آف گجرات کی وسیع النظری کا عکاس یہ ماڈل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق کی وژنری قیادت میں محض ایک سال کی محنت اور مؤثر منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر ظہور الحق کے ایک سالہ دور ِ قیادت میں ادارے نے واضح طور پر اس امر کو عیاں کیا ہے کہ یونیورسٹی کا اصل کردار صرف ڈگریاں جاری کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو بااختیار بنانا اور علم کو سماجی ترقی سے مربوط کرنا ہے۔
ڈاکٹر ظہور الحق کا یہ مؤقف کہ ”جامعات سماجی انصاف کے بغیر ترقی نہیں کر سکتیں“ محض نعرہ نہیں بلکہ ان کی اختیار کردہ عملی پالیسیوں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔آج جامعہ گجرات بڑی کامیابی سے طلبہ کے لیے مالی سہولیات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے، تعلیمی رسائی کو باکمال بنانے اورتدریسی عمل کو بہتر بنانے کے سفر پر گامزن ہے۔
یونیورسٹی آف گجرات کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی تعلیمی مساوات، معیارِ تعلیم، ڈیجیٹل تیاری اور علاقائی ذمہ داری پر مبنی ہے۔ ترقی کو صرف عمارتوں یا اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اس تمام منصوبہ بندی کا محور طالب علم ہے۔اسی تناظرمیں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق نے یونیورسٹی کا پہلا سات نکاتی اسٹریٹجک پلان تیار کیا-وسائل کی تقسیم میں بھی یہی سوچ غالب ہے، جہاں انتظامی اخراجات کے بجائے طلبہ کی براہِ راست معاونت، تعلیمی پروگراموں کی بہتری اور بنیادی سہولیات کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی کی پالیسیوں میں فلاح اور معیار ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔
یونیورسٹی آف گجرات کی سماجی شمولیت پالیسی کا سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو انڈرگریجویٹ سطح پر یتیم طلبہ کو مکمل طور پر مفت تعلیم فراہم کرنا ہے۔ ایسے طلبہ کو نہ صرف ٹیوشن فیس بلکہ دیگر تعلیمی اخراجات سے بھی مکمل استثنا دیا جاتا ہے۔یہ اقدام جزوی رعایت یا علامتی اسکالرشپ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی تحفظ کی پالیسی ہے جو اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ بعض طبقات کے لیے تعلیم تبھی ممکن ہے جب مالی رکاوٹ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔یتیم انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے مکمل مفت تعلیم کی پالیسی کے تحت مالی سال 2025–26 میں یونیورسٹی آف گجرات نے تقریباً 246.41 ملین روپے سالانہ اسکالرشپس کے لیے مختص کیے ہیں، جن سے 3,256 طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔ ان اسکالرشپس میں سنگل ماؤں کے بچے، سیلاب سے متاثرہ طلبہ، جسمانی معذوری رکھنے والے طلبہ، اقلیتیں، بلوچستان اور فاٹا/آئی ڈی پیز سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اور میرٹ پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ شامل ہیں۔
یونیورسٹی آف گجرات کی تاریخ میں پہلی بار اسکالرشپ پالیسی کو سرمایہ کاری اور مالی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا اور بعد ازاں سینڈیکیٹ سے منظور کروایا گیا جس سے اس پالیسی کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہوئی۔ اس پالیسی نے خزاں 2025 کی داخلہ مہم میں یونیورسٹی میں معیاری تعلیمی حیثیت کے حامل طلبہ کی شمولیت کے حوالے سے مثبت تاثر قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں 6,000 سے زائد باصلاحیت طلبہ نے لیا۔ یونیورسٹی آف گجرات نے پاکستان کےتمام بورڈز کےاعلیٰ کارکردگی کے حامل ٹاپ 10 طلبہ کو اسکالرشپ پر داخلہ لینے کی دعوت بھی د ی جس کے نتیجے میں جامعہ میں اچھی تعلمی کارکردگی والے طلبا نے داخلہ لیا۔ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس تعلق کو مزید مضبوط کرنے اور طلبا کی حوصلہ افزائی کے لیے کشمیر اے جامعہ میں داخلہ لینے والے طلبا میں سے ٹاپ 50 طلبہ کو اسکالرشپ فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہاں پر یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ یہ معاونت وقتی نہیں بلکہ مستقل، شفاف اور پالیسی کی بنیاد پر فراہم کی جا رہی ہے جو یونیورسٹی کی ادارہ جاتی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
مالی رسائی کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی آف گجرات نے تعلیمی پروگراموں کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ سماجی علوم، میڈیا و کمیونیکیشن، مینجمنٹ سائنسز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قدرتی علوم اور بین الشعبہ جاتی مضامین میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب متعارف کروایا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، تحقیقی ماحول اور نصاب کی مسلسل نظرثانی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ طلبہ کو ایسی تعلیم ملے جو انہیں روزگار، تحقیق اور سماجی کردار سرانجام دینے کے لیے تیار کرے۔
اس سلسلے میں سمسٹرخزاں 2025 میں جامعہ گجرات میں 13 نئے تدریسی پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ابتدائی طور پر نئی انتظامیہ کو بتایا گیا تھا کہ نئے پروگرام شروع کرنا ممکن نہیں کیونکہ سہولیات موجود نہیں ہیں۔ تاہم دستیاب وسائل کا مکمل تجزیہ کرنے کے بعد دو عمارتیں نئے پروگراموں میں داخل ہونے والے طلبہ کی کلاسوں کے لیے مختص کی گئیں۔ یونیورسٹی وسائل کے مؤثر اور احسن انتظام کے بل بوتہ پر 26 نئے تعلیمی پروگراموں کی منظور ی دے دی گئی اور خزاں 2025 میں 13 نئے تدریسی پروگراموں کا آغاز بھی ہو گیا۔ان نئے تدریسی پروگراموں میں 915 طلبہ نے داخلہ لیا جس سے یونیورسٹی کو 6 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ یونیورسٹی توقع کرتی ہے کہ آئندہ 4،5 سال میں 35تا40 کروڑ روپے آمدنی حاصل ہوگی۔
یونیورسٹی آف گجرات اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ تعلیم تک رسائی صرف داخلہ اور فیس تک محدود نہیں۔ تقریباً 16,500 طلبہ کے لیے یونیورسٹی ایک سبسڈائزڈ ٹرانسپورٹ نظام چلا رہی ہے جو منافع کے بجائے فلاحی بنیادوں پر قائم ہے۔اس نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے یونیورسٹی تقریباً 500 ملین روپے کی لاگت سے 27 نئی بسیں خرید رہی ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کے لیے محفوظ، باوقار اور قابلِ اعتماد سفری سہولت فراہم کرے گا۔
کسی بھی ادارہ کی نیک نامی میرٹ کی پاسداری سے مشروط ہے۔پروفیسر ڈاکٹر ظہورالحق کے خیال میں میرٹ محض تذکرہ سے بڑھ کر عملی صورت میں نظر آئے تو ہی میرٹ کا بول بالا ہے ورنہ خالی خولی نعرہ لگانے سے کچھ حاصل نہیں۔اس کی زندہ مثال حال ہی میں اسی یونیورسٹی میں اس وقت سامنے آئی ہے جب 92 اسسٹنٹ پروفیسروں کی ریکروٹمنٹ کے لیے اشتہار دیا گیا اوراس سلسلہ میں موصول ہونے والی درخواستوں کی مکمل اسکروٹنی کا عمل آن لائن پورٹل پر دستیاب کر دیا گیا تا کہ امیدوار اپنے مارکس اور درخواست کی اسکروٹنی کا خودجائزہ لے سکیں۔
یونیورسٹی آف گجرات کی اصل طاقت کسی ایک منصوبہ تک محدود نہیں بلکہ ڈاکٹر ظہور الحق کی قیادت، واضح اسٹریٹجک وژن، یتیم طلبہ کے لیے مفت تعلیم، وسیع اسکالرشپس، معیاری تعلیمی پروگراموں اور بنیادی سہولیات کو باہم مربوط کرنے میں ہے۔یہ ماڈل اس امر کا ثبوت ہے کہ سرکاری جامعات اگر سنجیدہ منصوبہ بندی اور انسان دوست پالیسی اختیار کریں تو وہ سماجی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔
آج یونیورسٹی آف گجرات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہورالحق کی قیادت میں محض طلبہ کو تعلیم کی روشنی سے منور کرنے کے عمل سے آگے بڑھتے ہوئے ان کے مستقبل کی بہترین تشکیل کا اعلیٰ ادارہ بننے کا عزم کر رہی ہے۔

Exit mobile version