امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں دو ہفتے سے جاری مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے بعد مظاہرین کی مدد کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے دعوے کے مطابق یہ فیصلہ بنیادی طور پر ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں میں مظاہرین کی حمایت کے لیے کیا گیا ہے۔ امریکی ٹی وی کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران میں مظاہروں کے بعد فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے، جس میں ایران کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے مختلف امکانات پر غور کیا گیا۔
اسی حوالے سے امریکی ٹی وی نے بتایا کہ ایران کے خلاف ممکنہ سائبر آپریشنز، نئی پابندیاں، اور اسٹار لنک کے ذریعے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے آپشنز بھی زیرِ غور ہیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکی اقدامات کے خطرے پر خبردار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو ایران اسرائیل اور خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو ‘جائز اہداف’ کے طور پر نشانہ بنائے گا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے پیشِ نظر اسرائیل بھی ہائی الرٹ پر ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں 14 روز سے مظاہرے جاری ہیں۔ ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق اس دوران 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی انسانی حقوق تنظیم HRAA کے دعوے کے مطابق مظاہروں میں 490 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
